لاہور ( نمائندہ خصوصی)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا قافلہ اسلام آباد سے لاہور پہنچ گیا، تاہم قافلے کے پہنچنے سے قبل ہی لاہور کے علاقے شاہدرہ سے پی ٹی آئی رہنما یاسر گیلانی سمیت 4 کارکنان کو گرفتار کر لیا گیا۔
میڈیارپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی کے ارکان پارلیمنٹ پر مشتمل قافلہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی قیادت میں اسلام آباد سے روانہ ہو کر لاہور پہنچ گیا۔ قافلے کی آمد سے قبل ہی پولیس کی بھاری نفری نے شاہدرہ کے علاقے میں پارٹی رہنما یاسر گیلانی سمیت 4 کارکنان کو حراست میں لے لیا۔

پولیس حکام کے مطابق پی ٹی آئی قافلے اور کارکنوں کو شاہدرہ میں جمع ہونے کی اجازت نہیں دی گئی تھی، جس پر گرفتاری عمل میں لائی گئی۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی پنجاب اور خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی کا اہم اجلاس رائیونڈ کے نجی فارم ہاؤس میں جاری ہے، جس کی صدارت چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان اور وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کر رہے ہیں۔ اجلاس میں 5 اگست سے شروع ہونے والی ممکنہ تحریک کیلئے حکمت عملی طے کی جا رہی ہے۔
اجلاس میں پارٹی کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، سینئر رہنماؤں اور تنظیمی عہدیداروں کی شرکت جاری ہے، جبکہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں سے متعلق تفصیلات کل ایک پریس بریفنگ کے ذریعے جاری کی جائیں گی۔
لاہور روانگی سے قبل وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ قافلے کا مقصد صرف پنجاب اسمبلی سے نکالے گئے نمائندوں سے اظہارِ یکجہتی ہے اور اس کا احتجاج یا انتشار سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قافلہ صرف امن، محبت، بھائی چارے اور جمہوری اقدار کے تحفظ کا پیغام لے کر لاہور پہنچا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو لوگ اس قافلے کو احتجاجی سرگرمی سمجھ رہے ہیں وہ حقیقت سے ناآشنا ہیں کیونکہ ہمارا مقصد صرف آئینی اور جمہوری طریقے سے بات چیت اور مشاورت ہے۔وزیراعلیٰ کی زیر صدارت قافلہ لاہور میں مختلف سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریگا جہاں آئندہ کی سیاسی حکمت عملی اور سینیٹ انتخابات سے متعلق اہم امور زیر بحث آئیں گے۔

