پی یوجے کا صحافیوں کیخلاف ایف آئی اے کے نوٹس معطلی پر اظہار اطمینان

لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس مس عالیہ نیلم کا ایف آئی اے کے نوٹس کی معطلی کا
فیصلہ خوش آئند اور آزادی صحافت کے تحفظ کے لئے اہم اقدام ہے: نعیم حنیف صدر

ایف آئی اے کے ادارے این سی سی آئی صحافیوں کی طرف سے عزیز اللہ کیخلاف دی گئی
درخواست پر کارروائی کرئے اور اس کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے:قمرالزمان بھٹی جنرل سیکرٹری

لاہور (نمائندہ خصوصی) پنجاب یونین آف جرنلسٹس نے لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مس عالیہ نیلم کی طرف سے پی ایف یوجے کے سیکرٹری جنرل اور صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری سمیت 6 سینئر صحافیوں کے خلاف ایف آئی اے کی طرف سے جاری نوٹسز کو معطل کیے جانے کے فیصلے کو خوش آئند اور آزادی صحافت کے تحفظ کی جدوجہد کی بڑی کامیابی قرار دیا ہے اور اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اب حکومت اور ایف آئی آئی جیسا وفاقی ادارہ پیکا جیسے قانون کا صحافیوں کے خلاف اطلاق کرنے کی روش سے باز آجائیں گے ۔
پی یوجے کے صدر نعیم حنیف ، جنرل سیکرٹری قمرالزمان بھٹی ،سینئر نائب صدر یوسف رضا عباسی ، نائب صدر ندیم زعیم ،جوائنٹ سیکرٹری مدثر حسین تتلہ ،شیر علی خالطی ، خزانچی نسیم قریشی اور ایگزیکٹو کونسل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے پی ایف یوجے کے سیکرٹری جنرل ارشد انصاری ، کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری مجاہد شیخ ،احمد فراز، شیراز حسن سمیت چھ صحافیوں کی طرف سے ان کے وکیل علی چنگیزی سندھو ایڈووکیٹ کی رٹ پٹیشن پر ایف آئی اے کے جاری نوٹس کو معطل کر کے آزادی صحافت اور آزادی اظہار پر ہونے والے سنگین حملہ کو روکنے کا اقدام کیا ہے جس کو پی یوجے اور پاکستان کی صحافی برادری تحسین کی نگاہ سے دیکھتی ہے .

پی یوجے کے صدر نعیم حنیف نے کہا جو لوگ بھی میڈیا کی آزادی پر حملہ آوور ہیں انہیں روکنا لاہور ہائی کورٹ جیسے انصاف کے اعلی اداروں کا کام ہے ۔انہوں نے کہا کہ صحافیوں نے کبھی مادر پدر آزادی نہیں مانگی لیکن سوال کرنا اور خبروں کی اشاعت میڈیا اور صحافیوں کا کام ہے ۔صحافیوں کو اس اہم ذمہ داری سے روکنا درحقیقت آزادی صحافت پر حملہ ہے ۔

پی یوجے کے جنرل سیکرٹری قمرالزمان بھٹی نے کہا کہ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے درست سوال اٹھایا کہ ایف آئی اے میں پیکا کے تحت پچاس ہزار درخواستیں پڑی ہیں مگر ایف آئی اے کے این سی سی آئی ( نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی) نے ایک یو ٹیوبر کی درخواست پر اتنی عجلت میں صحافیوں کو نوٹسز کیوں جاری کیے ۔ قمرالزمان بھٹی کا کہنا تھا کہ اب این سی سی آئی کو لاہور کے پانچ سینئر صحافیوں کی طرف سے عزیز اللہ کیخلاف دی گئی درخواست پر کارروائی کرنی چاہیے ۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر این سی سی آئی نے عزیز اللہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج نہ کیا تو صحافی اس کیخلاف شدید احتجاج کرینگے.

اپنا تبصرہ لکھیں