اسلام آباد(نمائندہ خصوصی) پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین میجر جنرل (ریٹائرڈ) حفیظ الرحمٰن نے سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے پسماندہ علاقوں کے حالیہ اجلاس میں سینیٹر ایمل ولی خان کے ساتھ پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔
پی ٹی اے کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، چیئرمین حفیظ الرحمٰن کا کہنا ہے کہ”کمیٹی اجلاس کے دوران سینیٹر ایمل ولی خان کی واپسی پر میری جانب سے ایک ہلکے پھلکے انداز میں جملے کا تبادلہ ہوا، جو بظاہر غلط فہمی کا باعث بنا۔ میرا ہرگز کوئی ارادہ نہ تھا کہ کسی رکنِ پارلیمنٹ کی دل آزاری ہو یا غیر پارلیمانی زبان استعمال کی جائے۔”
چیئرمین پی ٹی اے نے واضح کیا کہ وہ نہ صرف سینیٹر ایمل ولی خان بلکہ ان کے خاندان اور تمام سینیٹرز کا دل سے احترام کرتے ہیں۔”میں معزز سینیٹر اور ایوانِ بالا کے تمام ارکان کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ اگر میری کسی بات سے غیر ارادی طور پر کسی کو تکلیف پہنچی ہو، تو میں پہلے ہی کمیٹی کے روبرو معذرت کر چکا ہوں، اور ایک مرتبہ پھر افسوس کا اظہار کرتا ہوں۔”
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا اور سیاسی سطح پر ان کے خلاف جو مہم چلائی جا رہی ہے وہ بدقسمتی سے ایک غلط فہمی پر مبنی ہے۔”ہمیں اب اس معاملے پر بردباری، تدبر اور قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے۔ میری ادارہ جاتی کارکردگی ریکارڈ کا حصہ ہے، اور میں قانون، پارلیمانی آداب اور ضوابط کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی خدمات جاری رکھوں گا۔”
یاد رہے کہ گزشتہ روز سینیٹ کمیٹی اجلاس کے دوران چیئرمین پی ٹی اے اور سینیٹر ایمل ولی خان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا تھا، جس میں چیئرمین پی ٹی اے کی طرف سے طنزیہ انداز میں “چرس کا سگریٹ” والا جملہ کہا گیا۔ اس پر سینیٹر ایمل ولی خان نے سخت ردعمل دیا اور اسے سرکاری آفیسر کی طرف سے بدتمیزی قرار دیا۔
سینیٹر ایمل ولی خان نے چیئرمین پی ٹی اے کے خلاف سینیٹ میں تحریکِ استحقاق جمع کرانے اور ان کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ چیئرمین کمیٹی نے معاملہ وزیراعظم کے نوٹس میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

