اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) سپریم کورٹ کے چار معزز ججز نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھ کر سپریم کورٹ رولز کی بذریعہ سرکولیشن منظوری پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور فل کورٹ اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا۔
چیف جسٹس کو خط لکھنے والوں میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس عائشہ ملک شامل ہیں۔ چاروں ججز نے موقف اپنایا کہ سپریم کورٹ رولز کی منظوری کا یہ طریقہ کار درست نہیں ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ 3 ستمبر 2025 کو فل کورٹ اجلاس بلانے کے حوالے سے آگاہ کیا گیا تھا۔ یہ اجلاس سپریم کورٹ رولز 2025 میں ترامیم کے لیے بلایا گیا تھا، تاہم ان رولز کو نہ تو فل کورٹ اجلاس میں پیش کیا گیا اور نہ ہی ان کی منظوری لی گئی۔
مزید کہا گیا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 191 سپریم کورٹ کو اپنے رولز بنانے کا اختیار دیتا ہے، لیکن یہ اختیار سپریم کورٹ بطور ادارہ مجموعی طور پر استعمال کرتی ہے۔ فل کورٹ کی جانب سے غور و فکر اور منظوری کے بغیر ان رولز کو قانونی حیثیت حاصل نہیں ہو سکتی۔
چاروں ججز نے واضح کیا ہے کہ وہ اس طریقہ کار کو درست نہیں سمجھتے، لہٰذا فل کورٹ اجلاس میں شرکت سے انکار کرتے ہیں اور اس معاملے پر اپنے تحفظات قائم رکھتے ہیں۔

