چیف سیکرٹری کا عہدہ کسی بھی صوبے میں محض ایک انتظامی پوسٹ نہیں بلکہ ریاستی مشینری میں ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے جبکہ ملک کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میںاسکی اہمیت اور ذمہ داریاں اور بھی سوا ہو جاتی ہیں، جہاں اس عہدے پر تسلسل، ادارہ جاتی استحکام اور غیر جانبدار قیادت کم ہی نصیب ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ پنجاب کے موجودہ چیف سیکرٹری زاہد زمان کا اس عہدے پر تین سال مکمل کرنا بذاتِ خود ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔
ماضی میں چیف سیکرٹریوں کے بار بار تبادلے، سیاسی دباؤ اور انتظامی عدم استحکام نے اس عہدے کی سنجیدگی کو متاثر کیا مگر زاہد زمان ان چند افسروں میں شامل ہو گئے ہیں جنہوں نے نہ صرف تین سالہ مد ت مکمل کی بلکہ ایک مشکل عبوری دور سے منتخب حکومت تک کامیاب انتقالِ اقتدار بھی یقینی بنایا جو بہت کم چیف سیکریٹریوں کے حصے میں آیا ،انکی سب سے بڑی کامیابی یہی سمجھی جاتی ہے کہ انہوں نے نگران حکومت سے منتخب حکومت تک بیوروکریسی کو جھٹکوں اور بکھرنے سے بچائے رکھا.
پاکستان میں عام طور پر نگران سیٹ اپ کے بعد بیوروکریسی عدم تحفظ کا شکار ہو جاتی ہے، فیصلے رک جاتے ہیں اور افسران محتاط رویہ اختیار کر لیتے ہیں مگر پنجاب میں یہ عمل نسبتاً ہموار رہا جس کا کریڈٹ موجودہ چیف سیکرٹری زاہد زمان کی انتظامی گرفت ، بروقت فیصلوں اور ادارہ جاتی تسلسل کو جاتا ہے، انہوں نے اپنی لگاتاراور بہتر کارکردگی سے یہ پیغام دیا کہ ریاستی نظام ،حکومتوں سے بالاتر ہو کر چلتا ہے اور یہی سوچ کسی بھی مضبوط بیوروکریسی کی بنیاد بنتی ہے۔اگر ہم پچھلے چالیس سالہ انتظامی دور پرنظر ڈالیں تو اس دوران انتیس چیف سیکرٹریوں میں سے صرف انور زاہد،ناصر محمود کھوسہ اور اب زاہد زمان نے تین سالہ عرصہ مکمل کیا ہے ،محمد پرویز مسعود اور جاوید قریشی اس دوران دو، دو بار تعینات ہوئے اور پرویز مسعود نے بھی دونوں عرصوں میں تین سال سے زائد تعینات رہنے کا اعزاز حاصل کیا ۔
زاہد زمان کا ایک اور نمایاں کارنامہ پنجاب کی بیوروکریسی کو اعتماد دینا ہے، ان کے دور میں افسروں کو دو سے تین بلکہ اس سے بھی زیادہ سال مکمل کرنے کا موقع ملا، جو پاکستان جیسے نظام میں ایک مثبت روایت سمجھی جاتی ہے، ماضی میں افسران مہینوں یا چند ہفتوں میں بدل دیے جاتے تھے جس سے پالیسی بنتی تھی ، نہ اس پر عملدرآمد ہوتا ، زاہد زمان نے اس روایت کو توڑتے ہوئے افسروں کو وقت دیا کہ وہ منصوبہ بندی کریں، فیصلے کریں اور نتائج دیں، یہی وجہ ہے کہ کئی محکموں میں پالیسی کا تسلسل اور عملدرآمد نسبتاً بہتر دکھائی دیتا ہے۔
ای گورننس،آج کے جدید دور کی اہم ضرورت ہے اور اس میدان میں بھی زاہد زمان کا دور ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، پنجاب میں دفتری نظام کو کاغذی فائلوں سے نکال کر ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر لانے کا آغاز انہی کے دور میں ہوا، ای آفس، ای سمری، آن لائن نوٹنگ اور ڈیجیٹل اپروول جیسے اقدامات نے وقت بچایا اور شفافیت میں بھی اضافہ کیا، سول سیکرٹریٹ میں فائلوں کے انبار اور برسوں پرانے طریقہ کار کو بدلنا آسان نہیں تھا، مگر زاہد زمان نے اس تبدیلی کو نہ صرف ممکن بنایا بلکہ اسے ادارہ جاتی شکل بھی دی۔اسی تسلسل میں مختلف محکموں میں ای ٹینڈرنگ کا آغاز ایک اور بڑا قدم تھا، پاکستان میں سرکاری خریداری ہمیشہ سے کرپشن، سیاسی دباؤ اور پسند ناپسند کی نذر رہی ہے ای ٹینڈرنگ کے ذریعے نہ صرف انسانی مداخلت کم ہوئی بلکہ شفاف مقابلے کو فروغ ملا، اس اقدام نے بیوروکریسی کو ایک حد تک سیاسی دباؤ سے بھی آزاد کیا اور سرکاری وسائل کے بہتر استعمال کی بنیاد رکھی، اگرچہ یہ نظام مکمل طور پر بے عیب نہیں مگر اس کی سمت درست سمجھی جاتی ہے۔
انفراسٹرکچر کے شعبے میں بھی زاہد زمان کا اب تک کا دور بھی مکمل متحرک رہا ، سول سیکرٹریٹ سمیت مختلف محکمانہ دفاتر کی نئی عمارتوں کی تعمیر، پرانی عمارتوں کی بحالی اور دفتری سہولیات میں بہتری ایسے اقدامات ہیں جو بظاہر نمایاں نہ ہوں، مگر طویل المدت انتظامی کارکردگی پر گہرے اثرات ڈالتے ہیں، بہتر ورکنگ انوائرمنٹ نہ صرف افسران کی کارکردگی بڑھاتی ہے بلکہ اداروں کا وقار بھی بحال کرتی ہے۔
زاہد زمان کی ایک اور طاقت ان کی ٹیم بلڈنگ سمجھی جاتی ہے، انہوں نے پنجاب میں افسران کی ایک ایسی ٹیم تشکیل دی جو نسبتاً ہم آہنگ اور پالیسی پر فوکس نظر آئی، مختلف محکموں کے درمیان رابطہ کاری، کوآرڈینیشن اور مشترکہ اہداف کے حصول کی کوششیں ان کے دور میں واضح طور پر دیکھنے میں آئیں، یہ وہ پہلو ہے جو کسی بھی چیف سیکرٹری کو محض ایک فائل موور سے آگے لے جا کر ایک ایڈمنسٹریٹو لیڈر بناتا ہے.
تاہم، کسی بھی طویل دورِ اقتدار کی طرح زاہد زمان کا دور بھی تنقید سے مبرا نہیں، گو یہ تنقید زیادہ اثر نہیں رکھتی ۔ انہوں نے اہم پوسٹوں پر صوبائی افسر ضرور تعینات کئے مگر ان پر سب سے بڑی تنقید بھی اسی حوالے سے رہی کہ انہوں نے صوبائی سروس کے افسران کی حصے سے کم تعیناتیاں کیں ، اہم عہدوں پر وفاقی یا مخصوص گروپس کے افسران کو ترجیح دی اور صوبائی سروس کو مناسب نمائندگی نہیں ملی، اس صورتحال نے کچھ حد تک پی ایم ایس افسران میں بے چینی پیدا کی ۔
اسی طرح یہ تاثر بھی سامنے آیا کہ چند مخصوص سیکرٹریز اور افسران کا ایک محدود حلقہ چیف سیکرٹری کے اردگرد چھایا رہا جس کے باعث باقی افسران اور سیکرٹریز خود کو نظرانداز محسوس کرتے رہے، بیوروکریسی میں اگر فیصلہ سازی چند افراد تک محدود ہو جائے تو اس کا منفی اثر ادارہ جاتی مورال پر پڑتا ہے، کئی افسران یہ شکایت کرتے دکھائی دیے کہ اچھی کارکردگی کے باوجود انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا، جو کسی بھی انتظامی سیٹ اپ کیلئے ایک خطرے کی گھنٹی ہوتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ مضبوط گرفت رکھنے والے چیف سیکرٹری اکثر “مرکزی کنٹرول” کے الزام کا سامنا کرتے ہیں، زاہد زمان بھی اس تنقید سے مبرا نہیں رہے مگر اکثر حلقوں کے نزدیک اختیارات کا زیادہ ارتکاز اصلاحات کی رفتار کو تیز کرتا ہے، جبکہ کچھ اسے بیوروکریسی کی تخلیقی صلاحیتوں کو محدود کرنے کے مترادف سمجھتے ہیں، یہی وہ نکتہ ہے جہاں زاہد زمان کے حامی اور ناقدین کی رائے واضح طور پر تقسیم نظر آتی ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو زاہد زمان کا اب تک کا تین سالہ دور پنجاب کی انتظامی تاریخ میں ایک نمایاں باب ہے ، انہوں نے تسلسل دیا، اصلاحات کی بنیاد رکھی، ڈیجیٹل گورننس کی سمت متعین کی اور بیوروکریسی کو ایک حد تک استحکام بخشا، ساتھ ہی ان کے دور کی تنقید یہ یاد دہانی بھی کراتی ہے کہ ادارہ جاتی اصلاحات محض سسٹمز سے نہیں بلکہ شمولیت، اعتماد اور مساوی مواقع سے مکمل ہوتی ہیں، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ زاہد زمان کا اب تک کا عہد ایک ایسا امتزاج ہے جس میں کامیابیاں بھی ہیں، سوالات بھی، اور سیکھنے کے پہلو بھی، کل کلاں کو آنے والے چیف سیکرٹریوں کیلئےان کا دور ایک ریفرنس پوائنٹ بن چکا ہے کہ کیسے ایک مشکل سیاسی اور انتظامی ماحول میں تسلسل، اصلاحات اور کنٹرول کے درمیان توازن قائم رکھا جا سکتا ہے اور کہاں اس توازن کو مزید بہتر بنانے کی گنجائش ملتی ہے۔

