چینی صدر شی جن پنگ کافوجی پریڈ میں پیوٹن اور کم جونگ اُن کے ہمراہ طاقت کا مظاہرہ

بیجنگ (رائٹرز)چین کے صدر شی جن پنگ نے 10 سال بعد منعقدہ فوجی پریڈ میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کو اپنے ساتھ کھڑا کر کے عالمی سطح پر ایک بڑا سفارتی اشارہ دیا۔ یہ پریڈ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس اور بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد بیجنگ کے تیانانمن اسکوائر میں منعقد ہوئی۔

رائٹرز کے مطابق یہ پریڈ صدر شی جن پنگ کی تیسری غیر معمولی مدتِ صدارت کے دوران ہوئی، جس میں انہوں نے اندرونی مخالفت ختم کرنے اور عالمی قیادت پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کا واضح پیغام دیا۔

پریڈ میں پیوٹن اور کم جونگ اُن کی موجودگی کو چین کی سفارتی کامیابی اور اتحاد کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔شی جن پنگ نے اس موقع پر اپنی صحت اور قیادت پر اٹھنے والے سوالات کو کمزور کیا، جبکہ مبصرین کے مطابق اس قدم نے سست معیشت سے توجہ ہٹانے میں بھی مدد دی۔

پریڈ کے دوران شی جن پنگ اور پیوٹن کے درمیان مائیک پر ریکارڈ ہونے والی غیر رسمی گفتگو میں اعضا کی پیوندکاری اور انسانوں کی ممکنہ طویل عمری پر بات چیت سامنے آئی۔نریندر مودی اور پیوٹن کو ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے شی جن پنگ سے ملاقات کرتے دیکھا گیا، جسے امریکا کی بھارت کو اپنے ساتھ لانے کی ناکامی کے طور پر دیکھا گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پریڈ کو “خوبصورت اور متاثر کن” قرار دیا، مگر طنزیہ انداز میں کہا کہ چین، روس اور شمالی کوریا امریکا کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔کریملن نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کے تبصرے طنزیہ نوعیت کے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چین ترقی پذیر ممالک کو سرمایہ کاری اور ترقیاتی بینک جیسی سہولتیں فراہم کر کے امریکا کے مقابلے میں ایک زیادہ مستحکم متبادل کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔

چین کا یہ طاقتور سفارتی اور فوجی مظاہرہ صدر شی جن پنگ کی عالمی سطح پر قیادت کو مستحکم کرتا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق سرحدی تنازعات، صنعتی سبسڈیز اور بھارت کے ساتھ عدم اعتماد جیسے مسائل اب بھی چین کے لیے بڑے چیلنج بنے ہوئے ہیں، جبکہ شی جن پنگ ممکنہ طور پر 2027 میں چوتھی مدتِ صدارت کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کریں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں