واشنگٹن/بیجنگ (رائٹرز/ایس سی ایم پی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان جمعہ کو ٹیلی فونک گفتگو دونوں ممالک کےدرمیان ممکنہ سربراہی اجلاس کیلئے راستہ ہموار کر سکتی ہے۔
فودان یونیورسٹی شنگھائی کے انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ڈین اور چینی وزارت خارجہ کی پالیسی مشاورتی کمیٹی کے رکن وو شنباؤ نے کہا کہ “یہ فون کال اس بات کا تعین کریگی کہ آیا تعلقات تیزی سے سربراہی اجلاس کی طرف بڑھ رہے ہیں یا نہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ اگر مثبت اشارے ملے تو آئندہ دو ماہ میں دونوں ممالک مختلف شعبوں میں مذاکرات اور مشاورت کو تیز کر دیں گے تاکہ اجلاس کیلئے نتائج خیز معاہدے طے پا سکیں۔
یہ رابطہ جون کے بعد دونوں صدور کے درمیان پہلا براہِ راست رابطہ ہے۔ صدر ٹرمپ نے پیر کو اعلان کیا تھا کہ وہ جمعہ کو چینی صدر سے بات کریں گے۔ یہ اعلان اس فریم ورک معاہدے کے بعد سامنے آیا جس کا مقصد امریکہ میں ٹک ٹاک پلیٹ فارم کو جاری رکھنا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق ٹک ٹاک کی ملکیت پر بات چیت فریم ورک معاہدے تک پہنچ چکی ہے۔
چینی نائب وزیرِاعظم ہی لی فینگ اور امریکی وزیرِ خزانہ نے حالیہ دنوں میڈرڈ میں دو روزہ تجارتی مذاکرات کی قیادت کی جن میں ٹک ٹاک بنیادی ایجنڈا رہا۔ چین کے بین الاقوامی تجارتی ایلچی لی چنگ گانگ نے اسے “مشکل سے حاصل ہونے والا” معاہدہ قرار دیا اور کہا کہ امریکہ کو چاہیے کہ وہ بیک وقت چینی خدشات کو مدنظر رکھنے اور چینی کمپنیوں پر دباؤ ڈالنے کی پالیسی نہ اپنائے۔
اس سے قبل امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی سے فون پر بات کی، جس میں اختلافات کو سنبھالنے اور تعلقات کو مستحکم رکھنے پر زور دیا گیا۔ اسی طرح امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے چینی وزیر دفاع ڈونگ جون سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ چین کے ساتھ تصادم نہیں چاہتا، جسے سابق پینٹاگون عہدیدار نے اہم پیش رفت قرار دیا۔
وو شنباؤ نے کہا کہ اگرچہ اختلافات گہرے اور وسیع ہیں لیکن ایک سربراہی اجلاس دونوں ممالک کے تعلقات میں مثبت پیغام دے سکتا ہے۔ بیجنگ کی سنگھوا یونیورسٹی کے پروفیسر دا وے نے کہا کہ اگرچہ تعلقات مستحکم نہیں کہلا سکتے مگر کم از کم تناؤ مزید نہیں بڑھ رہا۔ ان کے مطابق ممکنہ سربراہی اجلاس تعلقات میں بہتری کی تھوڑی سی تحریک فراہم کرسکتا ہے۔

