چین اور روس غزہ میں عالمی استحکام فورس کی قرارداد پر ویٹو استعمال نہیں کرینگے

امریکی سرپرستی میں آئی ایس ایف کی تعیناتی کیلئےسلامتی کونسل میں عرب اور مسلم ممالک کی بھرپور حمایت

اقوامِ متحدہ(نمائندہ خصوصی)اقوامِ متحدہ کے سینئر سفارت کار محتاط پُرامید ہیں کہ چین اور روس ممکنہ طور پر امریکی سرپرستی میں غزہ میں عالمی استحکام فورس (آئی ایس ایف) کی تعیناتی سے متعلق قرارداد پر ویٹو استعمال کرنے کے بجائے غیر حاضر رہ سکتے ہیں۔ یہ قرارداد جنگ بندی کے بعد غزہ کے مستقبل کے لیے اقوامِ متحدہ کی صلاحیت کا ایک اہم امتحان ہے۔

قرارداد کا مسودہ پیر کو سلامتی کونسل میں رائے دہی کے لیے پیش کیا جائے گا، اور منظور ہونے کے لیے 9 حمایتی ووٹ درکار ہیں، جبکہ 5 مستقل اراکین (امریکا، چین، روس، برطانیہ اور فرانس) میں سے کوئی ویٹو نہ کرے۔

امریکی پیش کردہ مسودہ 2 سالہ مینڈیٹ کے ساتھ ’بورڈ آف پیس‘ کے قیام کی اجازت دیتا ہے، جس کی سربراہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے، اور 20 ہزار اہلکاروں پر مشتمل آئی ایس ایف کو غیر ریاستی مسلح گروہوں سے اسلحہ برطرف کرنے، انسانی ہمدردی کے راستے محفوظ کرنے اور شہریوں کے تحفظ میں مدد دینے کا اختیار ہوگا۔امریکی وضاحت کے مطابق، اس فورس میں کوئی امریکی فوجی شامل نہیں ہوگا۔

پاکستان، قطر، مصر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، انڈونیشیا، اردن اور ترکی نے امریکی مسودے کی فوری منظوری کی حمایت میں مشترکہ بیان دیا۔سفارت کاروں کے مطابق، یہ حمایت اس تشویش کی عکاسی کرتی ہے کہ فلسطینی نسل کُشی دوبارہ نہ شروع ہو۔

فلسطین کے مستقل مبصر ریاض منصور نے پاکستان کے اقوامِ متحدہ میں سفیر منیر اکرم سے ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا کہ غزہ میں خونریزی فوراً رکنی چاہیے۔

چین قرارداد کو ویٹو نہیں کرے گا، مگر روس کا مؤقف غیر یقینی ہے اور اس نے متبادل مسودہ پیش کیا ہے جس میں بورڈ آف پیس کو حذف کر کے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے استحکام اور حکمرانی کے لیے مختلف آپشن کی درخواست کی گئی ہے۔

روس کا موقف ہے کہ امریکی مسودہ بین الاقوامی قانونی معیاروں اور دو ریاستی حل پر پورا نہیں اترتا، اور اس نے مزید جامع بین الاقوامی مشاورت پر مبنی فورس کی تجویز دی ہے۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے قرارداد کو مشرقِ وسطیٰ میں امن کا بہترین راستہ قرار دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔

تاہم، قرارداد کو چند سنگین رکاوٹوں کا سامنا ہےجن میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے فورس کیلئے واضح فریم ورک نہ ہونا،فوجی دستوں کی فراہمی میں غیر یقینی صورتحال،بورڈ آف پیس کی قانونی حیثیت پر سوالات، خاص طور پر اگر فلسطینی اتھارٹی کو نظرانداز کیا گیاشامل ہیں.اس کے علاوہ عملی نفاذ اور فنڈنگ کے مسائل،فوری انسانی بحران کی موجودگی بھی اہم ہیں.

یہ قرارداد غزہ میں امن قائم کرنے اور انسانی ہمدردی کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے بین الاقوامی شراکت داری کا اہم قدم سمجھی جا رہی ہے۔ چین اور روس کے غیر حاضر رہنے کے امکان سے سلامتی کونسل میں امریکی مسودے کی منظوری کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، لیکن عملی نفاذ اور قانونی پیچیدگیوں کے باعث یہ ایک حساس اور مشکل مرحلہ ہوگا۔