چین نے بھی امریکی مصنوعات پر 125 فیصد محصولات عائد کرنے کا اعلان کردیا

بیجنگ(بیورورپورٹ)چین نے کہا ہے کہ وہ امریکی مصنوعات پر محصولات کو بڑھا کر 125 فیصد کر دیگااور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مزید محصولات کو نظر انداز کر دیگا کیونکہ درآمد کنندگان کیلئےاب امریکا سے خریداری کا کوئی معاشی مقصد نہیں رہا۔

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق دنیا کی دو بڑی معیشتوں کی جانب سے تجارتی رکاوٹیں کھڑی کرنے کے ایک ہفتے کے بعد بیجنگ نے ٹرمپ کی بڑھتی ہوئی بدمعاشی کو ’مذاق‘ اور ’اعداد و شمار کا کھیل‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

چین نے ٹرمپ پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے دنیا کو متاثر کرنے والے محصولات کے ذریعے مارکیٹ میں افراتفری پیدا کی ہے اور کہا ہے کہ امریکا کو افراتفری کی پوری ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔

ٹرمپ نے دنیا بھر کے ممالک پر بھاری محصولات عائد کیے ہیں، جن میں درجنوں بڑی معیشتوں کیلئےتکلیف دہ حد تک زیادہ محصولات شامل ہیں، تاکہ مینوفیکچررز کو مجبور کیا جا سکے کہ وہ امریکا میں اپنی کارخانے قائم کریں اور ممالک کو امریکی مصنوعات کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو کم کرنے پر مجبور کریں۔

رواں ہفتے مارکیٹ میں ہلچل کے بعد انہوں نے عالمی تجارت کے نظام کو از سر نو ترتیب دینے پر زور دیا اور بہت سے محصولات کو 90 دنوں کیلئےمنجمد کر دیا اور چین کیلئے یہ محصولات بڑھا کر 145 فیصد کر دیے تھے۔

بیجنگ کی جانب سے جوابی کارروائی کے تازہ ترین مرحلے کے بعد اس کی محصولات 125 فیصد تک پہنچ گئی ہیں، جس کا اطلاق ہفتے کے روز سےہوگا۔

تاہم چینی وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے مزید اقدامات کو نظر انداز کیا جائے گا کیونکہ موجودہ ٹیرف کی سطح پر چین کو برآمد کی جانے والی امریکی مصنوعات کی مارکیٹ میں قبولیت کا کوئی امکان نہیں ہے۔

بیجنگ کی وزارت تجارت کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے چین پر غیر معمولی طور پر زیادہ محصولات عائد کرنا اعداد و شمار کا کھیل بن گیا ہے جس کی معاشیات میں کوئی عملی اہمیت نہیں ہے۔

ایک ترجمان نے کہا کہ ’اگر امریکا نے محصولات کا نمبر گیم جاری رکھا تو چین اسے نظرانداز کریگا‘، بیجنگ نے مزید کہا ہے کہ وہ نئی امریکی محصولات کے خلاف ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں مقدمہ دائر کریگا۔

اپنا تبصرہ لکھیں