بیجنگ(اے ایف پی) چین نے امریکا اور روس کے ساتھ سہ فریقی ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کے مذاکرات میں شمولیت کو ’’غیر حقیقت پسندانہ‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ یہ اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ بیجنگ کو بھی مذاکرات میں شامل کرنے کی امید رکھتے ہیں۔
“چین کا مؤقف”
چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جی آکون نے کہا کہ چین اور امریکا ایٹمی صلاحیت کے اعتبار سے بالکل ایک سطح پر نہیں ہیں۔’’سب سے زیادہ ایٹمی ہتھیار رکھنے والے ممالک کو اپنے ہتھیاروں کے خاتمے کی بنیادی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔‘‘
بیجنگ نے کہا کہ وہ اصولی طور پر ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کی حمایت کرتا ہے، تاہم امریکا کی جانب سے مذاکرات میں شامل کرنے کی بار بار دعوت کو مسترد کرتا آیا ہے۔
“ایٹمی طاقت کا پس منظر”
امریکا کے پاس 3 ہزار 708 ایٹمی وارہیڈز ہیں۔روس کے پاس 4 ہزار 380 وارہیڈز ہیں (ریٹائرڈ ہتھیاروں کے علاوہ)۔چین کے پاس 500 وارہیڈز ہیں، جو 2023 کے مقابلے میں 90 زیادہ ہیں۔ان کے بعد فرانس (290) اور برطانیہ (225) ایٹمی ہتھیار رکھنے والے ممالک ہیں۔2023 میں روس نے امریکا کے ساتھ آخری باقی رہ جانے والے ہتھیاروں پر قابو پانے کے معاہدے سے بھی علیحدگی اختیار کر لی تھی۔
“شمالی کوریا کی تازہ بیان بازی”
ایک اور پیشرفت میں، شمالی کوریا نے امریکی دورے کے دوران جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ کے ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے سے متعلق بیان کو ’’منافقت‘‘ قرار دے کر سخت تنقید کی۔شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (کے سی این اے) نے کہا’’لی کا ایٹمی خاتمے کا خواب ایسے ہے جیسے آسمان میں تیرتے بادل کو پکڑنے کی کوشش۔‘‘
لی نے واشنگٹن میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ سیول اور امریکا کا اتحاد اُس وقت عالمی سطح پر پہنچ جائے گا جب جزیرہ نما کوریا میں ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے اور امن کی راہ ہموار ہوگی۔ تاہم، شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ایٹمی ہتھیاروں کو ’’ریاست کی عزت اور وقار‘‘ سمجھتا ہے اور کبھی نہیں چھوڑے گا۔
“امریکا، شمالی کوریا اور سفارت کاری”
جنوبی کوریا کے صدر نے وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران امن کیلئے ثالثی کی اپیل کی۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے دوبارہ ملاقات کی امید رکھتے ہیں۔
2019 میں ہنوئی سربراہی ملاقات ناکام ہوگئی تھی کیونکہ فریقین پابندیوں میں نرمی اور رعایتوں پر متفق نہ ہو سکے۔اب یوکرین جنگ کے بعد شمالی کوریا زیادہ پر اعتماد ہو گیا ہے اور روس کو فوجی تعاون فراہم کر رہا ہے۔

