گزشتہ روز میں نے جیوگرافیکل سوسائیٹی آف امیریکہ کے جریدے میں دنیا کے اہم ڈیلٹاؤں میں شائع ہونے والی ایک ریسرچ کے حوالے سے سندھ کے ڈیلٹا کی تباہی اور بربادی پر اعدا و شمار کے ساتھ ایک رپورٹ پوسٹ کی تھی۔
مگر مخصوص طبقے کے کچھ “ماہرین” نے اس رپورٹ کے شریک مصنف ڈاکٹر بلال الحق کی ساکھ کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی۔ اس لیا اُن کا تعارف پیش کر رہا ہوں تاکہ اُن پر تنقید کرنے والوں کو معلوم ہو کہ سورج پر تھوکنے سے سورج کا کوئی نقصان نہیں ہوتا ہے:
ڈاکٹر بلال الحق عالمی شہرت یافتہ ماہرِ ارضیات (Geoscientist) ہیں جنہوں نے سمندری ارضیات (Marine Geology)، طبقہ بندیاتی ارضیات (Stratigraphy)، اور تاریخی سطحِ سمندر میں تبدیلی (Eustatic Sea-Level Change) کے میدان میں انقلابی کام کیا ہے۔
ان کے ٹریل بلیزر تحقیقی کارناموں نے نہ صرف ہمیں زمین کی ساخت اور سمندری تاریخ کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دی ہے بلکہ ماحولیاتی تبدیلیوں (Climate Change)، ساحلی علاقوں کی بقا (Coastal Resilience)، اور انسانی تہذیبوں پر ارضی اثرات کی پیشگوئی کے میدان میں بھی ایک نئی راہ متعین کی ہے۔
اگرچہ بدقسمتی سے جیو سائنسز (Geosciences) کے لیے نوبل انعام (Nobel Prize) مختص نہیں ہے، لیکن اگر ہوتا تو ڈاکٹر بلال الحق اپنی علمی خدمات کی بنیاد پر ہرگز فزکس میں نوبل انعام پانے والے پاکستانی سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام سے کم نہ ہوتے۔ ان کی تحقیق، دُور رس اثرات رکھنے والے سائنسی ماڈلز، اور عالمی اداروں میں اثر و رسوخ انہیں نوبل انعام یافتہ کے ہم پلہ اعلیٰ مقام عطا کرتے ہیں۔
ڈاکٹر بلال الحق امریکی جیولوجیکل سروے (United States Geological Survey – USGS)، اقوامِ متحدہ (UN), اور یورپی اداروں سے وابستہ رہ چکے ہیں۔ ان کی سب سے اہم سائنسی پیشکش 1987 میں “یوسٹیٹک سطح سمندر کا منحنی خاکہ” (Eustatic Sea-Level Curve) ہے جو انہوں نے وان آئیزنگا (Van Eysinga) اور ہارڈن بول (Hardenberg Bol) کے ساتھ شائع کیا۔
انُ کے خاکے نے فینیروزوئک (Phanerozoic) دور میں سطحِ سمندر میں ہونے والی پیش قدمی و پسپائی (Transgression & Regression) کو سائنسی بنیادوں پر واضح کیا، جو آج بھی ہائڈروکاربن تلاش (Hydrocarbon Exploration)، ساحلی خطرات کے تجزیے، اور ارتقائی ارضیاتی تحقیق میں بنیادی حوالہ سمجھا جاتا ہے۔
وہ ورلڈ بینک کے مشیر رہے ہیں اور امریکی صدر کے بھی اپنی سائنس کے فیلڈ کے مشیر رہے ہیں۔ ان کے اس غیر معمولی علمی سفر پر دنیا بھر کی معروف سائنسی تنظیموں نے انہیں بہت سارے اعزازات سے نوازا ہے جن کی طویل فہرست ہے لیکن معروف و ممتاز یہ ہیں:
شیپرڈ میڈل (Shepard Medal) از سوسائٹی فار سیڈیمنٹری جیولوجی (Society for Sedimentary Geology – SEPM، امریکہ): یہ ایوارڈ رسوباتی علوم (Sedimentology) میں ممتاز خدمات پر دیا جاتا ہے۔
اوشین سائنسز ایوارڈ (Ocean Sciences Award) از امریکن جیو فزیکل یونین (American Geophysical Union – AGU): یہ سمندری سائنس کے میدان میں اعلیٰ خدمات پر پیش کیا جاتا ہے۔
پریسٹوچ پرائز (Prestwich Prize) از جیولوجیکل سوسائٹی آف فرانس (Geological Society of France): یہ اعزاز جیولوجی میں طویل المدتی خدمات پر دیا جاتا ہے۔
یہ تمام اعزازات دنیا کے ان سائنس دانوں کو دیے جاتے ہیں جنہوں نے اپنے میدان میں بنیادی اور دور رس اثرات رکھنے والا تخلیقی کام کیا ہو۔ ان بین الاقوامی اعزازات کو وصول کرنے والوں کی صف میں ڈاکٹر بلال الحق کی موجودگی اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ ان کی حیثیت کسی بھی نوبل انعام یافتہ سائنس دان سے کم نہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں نہ ڈاکٹر عبدالسلام کی سائنسی عظمت کو وہ مقام ملا جس کے وہ مستحق تھے کیونکہ وہ ایک مخصوص مذہبی برادری سے تعلق رکھتے تھے، اور نہ ہی ڈاکٹر بلال الحق کا یہاں کے علمی حلقوں میں کوئی ذکر ملتا ہے۔
شاید اس لیے کہ انہوں نے جلد ہی سمجھ لیا تھا کہ پاکستان میں حقیقی قابلیت سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ آپ کا تعلق کس طبقے، برادری، صوبے یا حلقے سے ہے، نہ کہ آپ کی قابلیت اور اوریجنل تخلیقی کاموں سے۔ یہاں ‘جانوں جرمن’ اور پڑھے لکھے استاد کے علم کی تمیز کون کرے گا! چنانچہ انہوں نے اپنی شناخت عالمی علمی دنیا میں بنائی، اور پاکستان میں انھیں بمشکل کوئی جانتا ہوگا۔
یہ امر نہایت افسوس ناک ہے کہ پاکستان میں علمی ادارے اور پالیسی ساز آج بھی ایسے لوگوں کو اہمیت دیتے ہیں جن کی علمی بنیاد کمزور، جبکہ لابی یا برادری مضبوط ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ معمولی قابلیت رکھنے والے افراد، ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ سائنس دان کے سندھ ڈیلٹا کی تباہی کے علمی استدلال کو بھی چیلنج کرنے کی جسارت کرتے ہیں — اور ایسا کرنے والا، بدقسمتی سے، پاکستان کا وہ انٹیلیجنشیا ہے جو علمی معیار کے بجائے تعصب، زُعم اور سطحی دعووں پر یقین رکھتا ہے۔
ڈاکٹر بلال الحق نہ صرف ایک عالمی شہرت یافتہ سائنس دان ہیں بلکہ وہ اس سچ کی علامت ہیں کہ اگر کسی قوم میں علم سے زیادہ تعصب، تعلق، اور شناخت کی سیاست کو فوقیت دی جائے تو وہ قوم اپنے ہیروز کو پہچاننے سے قاصر رہتی ہے۔ ان کا علمی ورثہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ترقی صرف سائنسی تجربات سے نہیں بلکہ اہلِ علم کی قدر سے ہوتی ہے۔
کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ ڈاکٹر بلال الحق کا ابتدائی تعلق لاہور سے تھا۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجویشن کی، پھر پنجاب یونیورسٹی سے جیولوجی میں ماسٹر کیا، اور بعد ازاں یعنی 1964 کے بعد وہ یورپ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے سائنس کی عالمی برادری کا حصہ بن گئے۔ پاکستان نے نہ ان کی خدمات کو سراہا، نہ کوئی قومی اعزاز دیا۔ شاید ایوارڈ دینے والے اداروں کو ان کا نام بھی معلوم نہ ہو۔
ڈاکٹر بلال الحق صاحب، اگر آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہوں تو معذرت چاہتا ہوں، میری نیت صرف آپ کے علمی مقام کا حوالہ دے کر اپنی بات کرنا تھی تاکہ پاکستان کے علمی حلقے بھی اپنے حقیقی ہیروز کو پہچان سکیں۔ لیکن افسوس، کچھ افراد نے آپ کا نام سن کر اپنی علمی کم مائیگی پر طنز سمجھا اور مخالفت پر اُتر آئے۔ شاید یہی آج کا پاکستان ہے، جہاں دلیل کے بجائے جذبات اور جہالت کا سکہ چلتا ہے۔

