ڈاکٹر رفیع مصطفی کی ”پوشیدہ کائنات“

گزشتہ ایک ہفتے سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جو ایک موحد اور ایک منکر کے مابین مناظرے کی ہے، اس کا تعلق بھارت سے ہے، بھارتی فلمی دنیا کے شاعر جاوید اختر جو اپنےمتنازعہ بیانات کی وجہ سے پہلے ہی ناپسند کئے جا رہے ہیں اور اب اس ویڈیو میں وہ ایک نوجوان دیندار سے بحث کرتے ہوئے پائے گئے جو اللہ کی واحدانیت اور اس سے انکار کے حوالے سے ہے۔ بالآخر نوجوان مسلمان اس ملحد جاوید اختر کو لاجواب کرکے میدان میں مار دیتا ہے اور وحدانیت کو ثابت کرتا جبکہ جاوید اختر کو منہ لٹکا کر شکست تسلیم کرنا پڑتی ہے۔

گزشتہ دو تین روز سے ویڈیو دیکھ کر اس کے موضوع کے حوالے سے خیال آیا کہ مجھے ایسی ہی ایک جدید تحقیق اور سائنس کی رو سے زیر مطالعہ کتاب کا ذکر کرنا چاہیے۔ یہ کتاب جو ”پوشیدہ کائنات“ کے عنوان سے لکھی گئی، اس میں سائنس، فلسفہ اور مذہب کے حوالے سے بڑی مدلل اور حقائق پر مبنی تحقیق سے ثابت کیا گیا کہ ہماری اس کائنات میں ایک ترتیب سے جو کچھ ہو رہا ہے اور اس میں ذرہ برابر فرق اور تبدیلی نہیں آئی تو آخر کوئی تو ہے جو اس سارے نظام کو چلا رہا ہے۔

یہ کتاب ہمارے اپنے وطن کے سائنس دان اب پاکستان نژاد ڈاکٹر رفیع مصطفیٰ نے تحریر کی ہے انہوں نے 1969ء میں یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا سے کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کیا، اس کے بعد برطانیہ، پاکستان، کینیڈا اور سوڈان کے علاوہ کئی دیگر یونیورسٹیوں میں تدریس و تحقیق میں مصروف رہے۔ 1991ء میں کینیڈا میں ایک آئی ٹی کمپنی کی بنیاد ڈالی، ان کا سافٹ ویئر (فنانشل) دنیا بھر میں استعمال کیا جاتا ہے، اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کے علاوہ گزشتہ چالیس سال سے انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریلیف فاؤنڈیشن (IDRF)سے بطور بورڈ ممبر وابستہ رہے اور اب گورنرز کونسل کے رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

مصنف خود اپنی کتاب کے حوالے سے لکھتے ہیں:
یہ کتاب انسانی شعور میں پیدا ہونے والے ان گہرے سوالات کا احاطہ کرتی ہے جو کائنات کی وسعت، ترتیب اور پیچیدگی کو دیکھ کر ہمیشہ جنم لیتے رہے ہیں: کائنات کی ابتداء کیسے ہوئی؟ اس کی تخلیق کے پیچھے کون سی قوت کار فرما تھی؟کیا یہ قوانین فطرت جو کائنات کو چلا رہے ہیں، محض ایک اتفاقیہ عمل کا نتیجہ ہیں یا کسی غیر مرئی منصوبہ بندی کا حصہ ہیں؟ اور سب سے اہم سوال یہ کہ کیا وہ غیر مرئی قوت،جس نے ان قوانین کی تشکیل کی، کائنات کی تخلیق کے بعد اس سے لاتعلق ہو گئی یا اب بھی اسے چلانے میں فعال کردار ادا کررہی ہے؟

اس کتاب کا بنیادی مقصد ان سوالات کو ایک متجسس قاری کے ذہن میں جگانا ہے اور ان کے جوابات کیلئے سائنس، فلسفہ اور مذہب کے زاویوں سے روشنی فراہم کرنا ہے۔ یہ کتاب قاری کو کائنات کی حقیقتوں کے ایک ایسے فکری سفر پر لے جاتی ہے جو تجسس سے شروع ہوتا ہے تحقیق سے گزرتاہے اور حیرت پر ختم ہوتا ہے۔

سب سے اہم نکتہ جو اس کتاب میں پیش کیا گیا ہے،وہ یہ ہے کہ کائنات کی تخلیق سیدھے سادے قوانین فطرت کی بنیاد پر ہوئی جو اپنی تمام تر پیچیدگی کے باوجود انہی قوانین کے مطابق چل رہی ہے۔ ان قوانین کی موجودگی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ممکنہ طور پر کائنات کی تخلیق ایک ماورائی عقل کے تحت ہوئی، تاہم سوال یہ باقی رہتا ہے کہ کیا کائنات کا وجود محض ایک حادثہ تھا، یا یہ کسی خاص مقصد کا نتیجہ ہے؟ اور کیا ابتدا کے وقت ہی یہ طے ہوچکا تھا کہ کائنات ان مراحل سے گزر کر اس مقام تک پہنچے گی جہاں ہم آج موجود ہیں؟

ان سوالات کے لئے سائنسی حقائق،فلسفیانہ خیالات اور مذہبی تعبیرات کا سہارا لیا گیا تاکہ کائنات کے بنیادی قوانین،ان کی حیرت انگیز ترتیب اور زندگی کے وجود کے پس منظر کو سمجھا جا سکے۔یہ کتاب قاری کو دعوت دیتی ہے کہ وہ ان حقائق پر غور کرے اور کائنات کے اسرار کو اپنی بصیرت سے سمجھنے کی کوشش کرے۔

یہ کتاب نہ صرف سائنسی حقائق اور فلسفیانہ نظریات کا مجموعہ ہے بلکہ یہ ایک فکری سفر ہے جو انسانی شعور اور کائنات کے درمیان تعلق کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ خواہ قاری کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو یا کسی مذہب پر یقین رکھتا ہو، یہ کتاب اس کے لئے ایک پلیٹ فارم ہے جہاں وہ اپنی فہم کی حدود کو وسعت دے کر ان گہرے سوالات کے جوابات تلاش کر سکتا ہے۔

محترم ڈاکٹر رفیق مصطفیٰ کی یہ کتاب دو ماہ سے میرے مطالعہ میں ہے۔ یہ پہلے انگریزی میں تحریر ہوئی اور پھر ترجمہ بھی کیا گیا۔ کتاب کا عنوان تو پوشیدہ کائنات ہے لیکن یہ قاری کے لئے حیرت کا جہاں ہے۔ ڈاکٹر رفیع نے تاریخ، فلسفہ اور ریاضی سے استفادہ کیا اور وہ ہماری کائنات کے پرت کھولتے چلے جاتے ہیں۔ دنیا کے ماہرین اور موجد حضرات کے حالات کا ذکر کرکے علم کے در کھولتے ہیں اور البیرونی۔ ارسطو، فیثا غورث، سقراط اور افلاطون سے بھی استفادہ کرتے اور ارشمیدس کی تحقیق کا بھی ذکر کرتے ہیں تاہم کتاب کا موضوع ہماری کائنات ہے وہ ریاضی، خصوصاً الجبرا کی پرتیں کھولتے ہوئے کائنات کے راز جاننے کی سعی کرتے پائے جاتے ہیں۔ میں ان کی اس تحقیق سے متاثر ہوا کہ یہ جو کہکشاں ہم دنیا والے دیکھتے ہیں، کائنات میں ایسی کئی کہکشائیں ہیں، جو بنتی اور ختم ہوتی رہتی ہیں۔ کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ آج کا انسان اور سائنس اپنی تمام تر کوشش علم اور آلات کے باوجود اس کائنات کے راز تک نہیں پہنچ سکا، سائنس دان حضرات نے کائنات کے دیگر سیاروں مریخ اور چاند تک کی معلومات تک رسائی حاصل کی۔ حبل جیسی بڑی بڑی دور بین ایجاد کیں، ان کو خلاء میں آگے تک نصب کیا اس کے باوجود وہ ایک حد سے آگے نہیں دیکھ سکے اور ان کے لئے اندھیرا ہوتا ہے، ڈاکٹر رفیع مصطفی نے ان سیاروں کی ہیئت اور ان کی پر زندگی کی علامات کے بارے میں لکھا اور جدید تحقیق کا حوالہ بھی دیا ہے،تاہم انہوں نے اعداد و شمار، فاصلوں اور رفتار کا جو حساب لگایا وہ قابل تعریف ہے وہ اپنی محنت و تحقیق کے حوالے سے کائنات کی ایک حد تک جا چکے جس کے بعد کچھ نہیں اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔انہوں نے سیارہ زمین سے ان فاصلوں کا بھی ذکر کیا جو بہت طویل اور لامحدود ہیں، سائنس ہی کے حوالے سے وہ کہتے ہیں کہ کائنات کا ایک ذرہ، کوئی سیارہ اور کوئی ستارہ، ایک مقررہ حد اور عمل سے اِدھر اُدھر نہیں ہوتا او ریہ سارا نظام صدیوں سے یوں ہی چلتا چلا آ رہا ہے، ان کا موقف ہے کہ اس کائنات کی پیدائش او راب تک موجود ہونے اور اس کے تسلسل میں کوئی فرق نہ آنے سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ کوئی قوت تو ہے ہے جو اس سارے نظام کا تسلسل برقرار رکھے ہوئے ہے۔

مصنف نے بڑی گہری تحقیق سے یہ بات ثابت کی کہ آج کے ماہرین جس حد تک بھی جان جاتے ہیں، کائنات کے حقائق اس سے آگے ہوتے ہیں، اس ساری تحقیق اور محنت کے بعد وہ سوال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس تمام نظام کائنات کو کوئی قوت اور کوئی ہستی یقینا ہے جو قائم رکھے اور چلا رہی ہے جو نہیں مانتے یہ ان کا فرض ہیں کہ وہ ثابت کریں کہ ایسا کچھ نہیں کہ ہمارے لئے تو یہ سب مظاہر ایک قوت کے ہیں اور یہ طاقت صرف اور صرف اللہ ہی ہے۔

میں اگر چاہوں بھی تو اس کتاب کی گیرائی کا احاطہ نہیں کر پاؤں گا، البتہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ ان کی تحقیق کی سچائی تو قرآن سے بھی ثابت ہوتی ہے اللہ فرماتے ہیں، ”اے، جن و انس تم میری کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے“…… اسی سورۃالرحمن میں فرمایا گیا کہ انسان اس زمین کی وسعتوں سے نکلنا چاہے گا لیکن نہیں نکل سکے گا، مصنف نے بھی تحقیق سے ثابت کر دیا کہ کائنات لامحدود ہونے کے باوجود محدود ہے کہ انسان اس کی ایک حد سے آگے نہیں دیکھ سکا کہ اس تک جا کر اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔

یہ مہینہ اور آج کا دن جب میں یہ لکھ رہا ہوں ایک مبارک مہینہ دن ہے، رجب المرجب کائنات کی وسعت کا مظہر ہے اور اب تو سائنس بھی روشنی کی رفتار اور خلاء میں وقت کی اہمیت کا ذکر کرنے پر مجبور ہے۔ عیسائی حضرات نے 25دسمبر پیغمبرخدا حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش کا دن مقرر کر رکھا ہے جو اس بار ماہ رجب المرجب میں آیا اور یہی روز بانی ئپاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی پیدائش کا دن ہے اور یہ بھی اسی ماہ مبارک میں آیا ہے۔

اللہ فرماتے ہیں، تم (لوگ) قرآن میں کیوں غور نہیں کرتے، یہ کتاب بھی پوشیدہ کائنات کے عنوان سے کائنات کے جانے گئے حالات آشکار کرتی ہے تو پھر ہم مسلمانوں کو قرآن سے راہنمائی لینا ہوگی کہ انہوں نے بھی اپنی اس کتاب میں بہت کچھ بتایا جو ثابت ہوتا جا رہا ہے۔

کتاب اب بھی زیر مطالعہ ہے اور سمجھنے کی کوشش کررہا ہوں اور یہ عرض کرنے پر مجبور ہوں کہ ہمیں گمراہی (تاریکی) سے نکل کر روشنی کی طرف آنا ہوگا اور یہ کتاب یہی سبق دیتی ہے، عرض آخر یہ کہ ڈاکٹر رفیع مصطفی جو ہماری سرزمین میں پیدا ہوئے وہ کینیڈا میں ہیں اور ان کی بصیرت سے وہی حضرات فائدہ اٹھا رہے ہیں۔