اسلام آباد (نامہ نگار) جمعیت علمائے اسلام (ف) نے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر کارروائی کرتے ہوئے اپنے سینیٹر احمد خان کو پارٹی سے خارج کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ انہوں نے 27ویں آئینی ترمیم کے حق میں حکومتی بل کی حمایت کرنے کے بعد کیا۔
“پارٹی اعلامیہ جاری”
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق، سینیٹ میں جے یو آئی (ف) کے پارلیمانی لیڈر مولانا عطا الرحمٰن اور صوبائی امیر بلوچستان مولانا عبدالواسع نے مرکزی قیادت کو سفارش بھیجی تھی کہ احمد خان نے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کی ہے، لہٰذا ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے۔
“سینیٹر کو مستعفی ہونے کی ہدایت”
مرکزی جماعت نے فوری طور پر سینیٹر احمد خان کو پارٹی سے نکالنے کا اعلان کرتے ہوئے انہیں ہدایت دی ہے کہ وہ سینیٹ کی رکنیت سے فوری استعفیٰ دیں۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اگر انہوں نے استعفیٰ نہ دیا تو جمعیت علمائے اسلام (ف) الیکشن کمیشن سے رجوع کرے گی تاکہ ان کی رکنیت ختم کی جا سکے۔

“سیاسی پس منظر”
جے یو آئی (ف) نے 27ویں آئینی ترمیم میں وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی تجویز کی شدید مخالفت کی تھی تاہم سینیٹر احمد خان نے حکومتی مؤقف کی حمایت میں ووٹ دیا، جس پر پارٹی کے اندرونی حلقوں میں سخت ردعمل سامنے آیا۔
” سیاسی مبصرین کی رائے”
تجزیہ کاروں کے مطابق جے یو آئی (ف) کا یہ فیصلہ پارٹی نظم و ضبط برقرار رکھنے کی کوشش ہے اور اس کے اثرات ایوانِ بالا میں جماعت کے کردار پر نمایاں ہوں گے۔”جمہوریت میں اختلاف کی گنجائش ہے، مگر پارٹی نظم کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جا سکتی۔”پارٹی اعلامیہ

