پاکستان اور بھارت کے درمیان ایشیاکپ کافائنل دیکھ کرسوچ رہاتھاکہ کچھ لکھوں پھرسوچاچھوڑوکرکٹ پرکیالکھوں پاکستان کی کرکٹ ٹیم پرکیالکھوں.عمران خان ،وسیم اکرم،وقاریونس اورشعیب اخترآنے بندہوچکے ہیں۔اب عامرسہیل ،سعیدانورآنے بندہوگئے ہیں مگرہم محسن نقویوں میں کافی خودکفیل ہیں.ایک نے پاکستان کرکٹ بورڈسنبھال رکھاہے دوسرے محسن نقوی کاوزارت داخلہ پرقبضہ ہے تیسرامحسن نقوی سینیٹرہے جبکہ چوتھامحسن نقوی ایشین کرکٹ کونسل کاصدرہے جس سے تاریخ میں پہلی بارجیتی ہوئی بھارتی کرکٹ ٹیم نے ٹرافی لینے سے انکارکردیایہی نہیں ہمارے اس والے محسن نقوی نے بھی پیروں کی مٹی نہیں چھوڑی اورڈٹ گیاکہ نہیں ٹرافی میں ہی دونگالینی ہے تولونہیں لینی تونالو۔
خیرچھٹی کادن تھاجو دوستوں کے ساتھ گزارنے کافیصلہ کرچکاتھااس لئے گھرسے نکل پڑا.جاناکہاں ہے اس کا فیصلہ ہوناباقی تھا ۔ سفرکے دوران مشرق وسطیٰ کاخیال آگیا۔ غزہ جہاں صرف تباہی ہی تباہی نظرآتی ہے جہاں صرف بھوک رہ گئی جہاں صرف ڈھانچے بس رہے ہیں جووہاں سے باہر نکل نہیں پا رہے ۔صرف غزہ ہی نہیں بہت سے ممالک ایسے ہیں جہاں کے حالات جنت نظیرنہیں چھوڑے گئے۔ان میں یمن ،عراق ،شام ،لبنان جیسے ممالک شامل ہیں ۔اب قطربھی ان ملکوں کی فہرست میں شامل ہوچکاہے جہاں امریکا اوراسرائیل نے اپنارعب جھاڑاہے ۔مشرق وسطیٰ کے معاملات ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت خراب کئے گئے ہیں اوربقول ٹرمپ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کئی دہائیوں کاقصہ ہے۔
آج ابھی کچھ دیرپہلے پریس کانفرنس دیکھی بھی اورسنی بھی جس میں امن کے نوبل انعام کے امیدوارامریکی صدرڈونلڈٹرمپ کے ساتھ وائٹ ہائوس میں امن کے سب سے بڑے دشمن اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہونے غزہ کے حوالے سے فیصلہ صادرفرمایااورپھرسے حماس کووارننگ دیتے ہوئے اعادہ کیاکہ بہت سے مسلم ممالک نے ان کاساتھ دینے کاوعدہ کررکھاہے اورانہوں نے اپنے اس اعلانیہ پروگرام میں سعودیہ عرب ،انڈونیشیا،قطرسمیت خصوصی طورپر پاکستان کانام بھی لیا۔
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے ہمراہ مجوزہ غزہ جنگ بندی منصوبے کا اعلان کیا۔ صدر ٹرمپ کے مطابق غزہ تنازع کے خاتمے کے معاہدے پر فریقین انتہائی قریب ہیں، اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے منصوبے کی 100 فیصد حمایت کا یقین دلایا ہے۔
صدر ٹرمپ نے امن کے عمل میں نیتن یاہو کے کردار کا شکریہ ادا کیا اور کہا’’ہم نے مل کر اچھا کام کیا ہے، اور کئی دیگر ممالک کے ساتھ بھی، اور یہی اس صورتحال کو حل کرنے کا طریقہ ہے۔‘‘
ٹرمپ نے کہا کہ ان کا مقصد صرف غزہ پٹی تک محدود نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم کرنا ہے۔ انہوں نے نیتن یاہو کے ساتھ ایران، ابراہم معاہدے اور غزہ تنازع کے خاتمے پر بات چیت کرنے کا ذکر کیا اور کہا’’یہ بڑے منظر نامے کا حصہ ہے، جو کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن ہے آئیے اسے ’ابدی‘ امن کہتے ہیں۔‘‘
امریکی صدر نے کہا’’وزیر اعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر شروع سے ہمارے ساتھ تھے، درحقیقت انہوں نے ابھی ایک بیان جاری کیا ہے کہ وہ اس معاہدے پر مکمل یقین رکھتے ہیں اور وہ اس کی سو فیصد حمایت کرتے ہیں۔‘‘صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ نہ صرف فوری یرغمالیوں کی رہائی بلکہ غزہ پٹی میں امن قائم کرنے کا ایک مؤثر راستہ ہے۔
صدر ٹرمپ نے وضاحت کی کہ اگر حماس اس منصوبے کو قبول کرے تو تمام باقی ماندہ یرغمالیوں کی فوری رہائی کی جائے گی، مگر 72 گھنٹوں سے زیادہ نہیں۔ منصوبے کے تحت عرب اور مسلم ممالک نے غزہ کو تیزی سے غیر مسلح کرنے، حماس اور دیگر تمام تنظیموں کی فوجی صلاحیت ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے کے ایک حصے کے طور پر سرنگیں اور اسلحہ بنانے کی تنصیبات ختم کی جائیں گی اور غزہ پٹی میں مقامی پولیس فورس کو تربیت دی جائے گی۔صدر نے کہا’’غزہ میں نئی عبوری اتھارٹی کے ساتھ کام کرتے ہوئے، تمام فریق اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا کیلئےایک ٹائم لائن پر متفق ہوں گے، امید ہے کہ مزید فائرنگ نہیں ہوگی۔‘‘
انہوں نے کہا کہ عرب اور مسلم ممالک کو حماس سے نمٹنے کے وعدوں کو پورا کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے، اور اگر حماس معاہدہ مسترد کر دے تو نیتن یاہو کو مکمل حمایت حاصل ہوگی۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ منصوبے کی کامیابی کیلئے ایک نیا بین الاقوامی نگران ادارہ ’بورڈ آف پیس‘ تشکیل دیا جائیگا جس میں عرب رہنما، اسرائیل اور خود ٹرمپ شامل ہونگے۔ برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے بھی اس بورڈ کا حصہ بننے کی خواہش ظاہر کی۔
انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک فلسطینیوں پر مشتمل نئی حکومت کی تربیت اور بھرتی کریگا جبکہ حماس اور دیگر تنظیمیں حکومت میں شامل نہیں ہوں گی۔ٹرمپ نے کہا’’اسرائیلی عوام لڑائی کے خاتمے اور یرغمالیوں کی واپسی چاہتے ہیں۔ فلسطینی عوام کو اپنی تقدیر کا خود اختیار سنبھالنا چاہیے۔‘‘صدر ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل، امریکا اور قطر کے درمیان سہ فریقی میکنزم قائم کرنے پر اتفاق ہوا ہے تاکہ سلامتی میں بہتری لائی جا سکے۔
یہاں ایک اورکمال ہواکہ نیتن یاہو نے دوحہ میں اسرائیلی فضائی حملے پر قطری ہم منصب شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی سے معذرت کی۔ اسرائیلی وزیراعظم نے قطری خودمختاری کی خلاف ورزی اور ایک قطری سیکیورٹی گارڈ کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا۔صدقے جائوں کیانیتن یاہونے یہ ٹیلی فون خودسے کیاہرگزنہیں ۔یہ ٹیلی فون کال اس سے کروائی گئی جوصرف دکھاواہے جو اس انٹرنیشنل بھیڑچال کاحصہ ہے ۔اس بھیڑچال کاحصہ تمام مسلم ممالک سمجھتے بوجھتے ہوئے آنکھیں موندکربیٹھے ہیں۔
امن کے ٹھیکیداروں کوغزہ میں امن یادآگیاجب وہاں کچھ نہیں بچاجب وہاں سیکڑوں کی تعدادمیں روزانہ مررہے تھے اس وقت کسی کوامن یادنہیں آیاآج دوبڑے قصائی مل کردنیاکوامن کے فوائدپربھاشن دے رہے ہیں ۔
صدر ٹرمپ نے خصوصی طور پر پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شراکت کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا’’شہباز شریف اور فیلڈ مارشل نے منصوبے کی 100 فیصد حمایت کی اور شروع سے ہی ہمارے ساتھ تھے۔ یہ عالمی سطح پر امن کے قیام میں پاکستان کے کردار کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘پاکستان کی شراکت داری کی بنیاد اس منصوبے میں امن کی قیادت، انسانی رہائی اور غزہ کی بحالی کیلئے اہم اقدامات پر رکھی گئی ہے۔
واہ جی وہ ہزاروں زندہ لوگوں کولاشیں بنانیوالے کوامن کانوبل انعام دینے کیلئےوزیراعظم شہبازشریف کوبہت جلدی ہے شایداس کے بعدوہ بلوچستان کی طرف دھیان دیناچاہتے ہیں یاآزادکشمیرکوفوکس کیاجارہاہے جہاں آج پھرعوام سڑکوں پرہے ۔سیلاب میں بہہ جانے والی عمارتیں پھربن رہی ہیں اوریادآیاعلیم خان کی سوسائٹی نے تودریاکے راستے میں بندبنادیاہے یعنی دریاکے راستے سے نہیں ہٹنااورنہ ہی گورنمنٹ نے کوئی ایکشن لیناہے ہاں امن کے نوبل پرائزکیلئے حمایت زوروشورسے جاری رکھنی ہے ۔

