ڈی ایس کو 3 روزہ اضافی چارج دینے کے بارے معلوم نہیں‌:حنیف عباسی

لاہور (وقائع نگارخصوصی) وزارتِ ریلوے کی جانب سے راولپنڈی کے ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ (ڈی ایس) کو محض تین روز (20 تا 22 اکتوبر) کیلئےلاہور کے ڈی ایس کا اضافی چارج دینے کے فیصلے نے محکمے کے اندر اور باہر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق، لاہور کے ڈی ایس انعام اللہ کی غیر ملکی رخصت (Ex-Pakistan Leave) کے دوران وزارتِ ریلوے نے لاہور میں موجود سینئر افسران کو نظرانداز کرتے ہوئے راولپنڈی کے ڈی ایس کو عارضی چارج سونپ دیا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا جب لاہور میں ریلوے کی قیمتی تجارتی جائیدادوں کی نیلامی ہونا طے تھی۔

محکمہ جاتی ذرائع نے انکشاف کیا کہ 20 سے 22 اکتوبر کے دوران ہونے والی نیلامیوں میں بادامی باغ اور شیر شاہ روڈ سمیت لاہور کے اہم مقامات پر واقع ریلوے کے گودام، دکانیں اور پارکنگ اسٹینڈز شامل ہیں، جنہیں پانچ سال یا اس سے زائد مدت کیلئےلیز پر دیا جانا ہے۔

ایک افسر نے بتایا کہ “یہ پاکستان ریلوے کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ محض چند دنوں کیلئےکسی دوسرے شہر کے ڈی ایس کو لاہور کا چارج دیا گیا۔ عموماً ایسا چارج لاہور ڈویژن کے اگلے سینئر افسر کو دیا جاتا ہے۔”

ذرائع کے مطابق وزارت کے ڈپٹی ڈائریکٹر (کمپنسیشن) آسیہ بیگ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں راولپنڈی کے ڈی ایس کو لاہور کے ڈی ایس کا اضافی چارج دینے کا حکم نامہ جاری کیا گیا۔ اسی دوران ایک تصحیحی نوٹس (Corrigendum) بھی شائع کیا گیا جس کے ذریعے 28 اگست کو شائع ہونے والے اشتہار میں درج نیلامیوں کی تاریخوں کو 20 تا 22 اکتوبر تک آگے بڑھا دیا گیا۔

نیلامی میں شامل جائیدادوں میں شیر شاہ روڈ پر واقع چار گودام (25، 10، 50 اور 40 مرلہ)، ٹرک اڈہ پر 42 مرلہ کا پارکنگ اسٹینڈ، ایل-کراسنگ نمبر 4 کے قریب 20 مرلہ کا پارکنگ اسٹینڈ، ایس ڈی آر شاپنگ سینٹر نمبر 4 میں 100 فٹ کی ایک دکان، بادامی باغ کے نزدیک ایک 5 مرلہ کا ریسٹورنٹ، گڑھی شاہو پل کے نیچے 3000 مربع فٹ کے دو بے اور دیگر کئی قیمتی مقامات شامل ہیں۔

محکمہ کے مطابق ان تمام جائیدادوں سے سالانہ کروڑوں روپے کی آمدنی متوقع ہے اسی لئےیہ نیلامی کاروباری برادری کی خاص توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

ایک سینئر افسر نے بتایا کہ”یہ فیصلہ بظاہر وزارت کے چند مخصوص عناصر کو فائدہ پہنچانے کیلئے کیا گیا ہے۔ اگر وزارت لاہور کے سینئر افسران پر اعتماد نہیں کرتی تو کسی ہیڈکوارٹر یا ورکشاپ ڈویژن کے افسر کو بھی چارج دیا جا سکتا تھا۔”

جب اس معاملے پر وفاقی وزیرِ ریلوے حنیف عباسی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا”مجھے اس بارے میں علم نہیں لیکن آپ کا نکتہ منطقی لگتا ہے۔ میں اس کی تفصیلات معلوم کروں گا۔”

انہوں نے نیلامیوں میں کسی قسم کی اقربا پروری یا جانبداری کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ” ریلوے کے تمام امور میرٹ پر دیکھے جاتے ہیں اور میں ہمیشہ شفافیت پر یقین رکھتا ہوں۔”

اپنا تبصرہ لکھیں