ڈی این اے تحقیق پر نوبل انعام جیتنے والے جیمس واٹسن چل بسے

نیویارک(ایجنسیاں)جینیٹیکس سائنس میں نوبل انعام پانے والے سائنسدان جیمس واٹسن 97 برس کی عمر میں چل بسے۔امریکی میڈیا کے مطابق ڈی این اے کی ساخت کے حوالے سے نوبل انعام جیتنے والے امریکی سائنسدان جیمس واٹسن طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے۔

جیمس واٹسن کی موت کی تصدیق کولڈ اسپرنگ ہاربر لیبارٹری کے ترجمان نے کی ہے۔جیمس واٹسن نے 1962ء میں نوبل انعام جیتا تھا۔جیمس واٹسن نے اپنے موت سے قبل ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ وہ اپنی زندگی میں کچھ اہم کام کرنا چاہتے تھے وہ سچائی کی کھوج میں تھے اور یہی ان کے زندگی کا مقصد تھا۔

واٹسن کو 1953ء فرانسس کرک اور مورس ولکنز کے ساتھ ڈبل ہیلکس اسٹرکچر دریافت کرنے پر نوبل انعام کا شریک حقدار قرار دیا گیا تھا۔نیچر نامی رسالے میں پہلی بار شائع ہونے والی ان کی تحقیق کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے جسے مالیکیولر بائیولوجی میں اہم پیشرفت قرار دیا گیا۔

نوبیل انعام یافتہ سائنس دان جیمز واٹسن نے 2014 میں اپنا نوبیل انعام نیلامی کے ذریعے فروخت کر دیا تھا، جس کی قیمت 47 لاکھ 60 ہزار امریکی ڈالر لگی۔ اس کے ساتھ انہوں نے اپنی نوبیل انعامی تقریر کا مسودہ بھی 3 لاکھ 56 ہزار ڈالر میں فروخت کیا۔

نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم سائنسی تحقیق کے فروغ کے لیے وقف کی گئی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک روسی ارب پتی نے نوبیل میڈل خریدنے کے بعد اسے واٹسن کو واپس لوٹا دیا جسے دنیا بھر میں علم دوستی اور فیاضی کی علامت کے طور پر سراہا گیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں