کاروان ِ شعروسخن ٹورنٹوکینیڈاکے زیراہتمام ڈاکٹرزبیرالفاروق العرشی کے ساتھ ایک شام

ٹورنٹو(نمائندہ خصوصی)کاروان ِ شعروسخن ٹورنٹوکینیڈاکے زیراہتمام ڈاکٹرزبیرالفاروق العرشی کے ساتھ ایک شام منائی گئی جس کی صدارت ڈاکٹرسیدتقی عابدی نے کی۔تقریب کے نظامت کےفرائض عبدالحمیدحمیدی اوربشارت ریحان نے نبھائے ۔

ڈاکٹرزبیرالفاروق العرشی کے ساتھ منائی گئی اس شام میں امریکہ سے خصوصی طورپرحمیراگل تشنہ نے بحیثیت اعزازی مہمان شرکت کی۔تقریب میں معروف شعراکرام نے اپناکلام پڑھااورحاضرین محفل سے دادوصول کی۔کچھ شعراکاکلام قارئین کی دلچسپی کیلئے پیش خدمت ہے۔

“طارق حمید”

پس دیواردررکھاہواہے
سفرمیں ساراگھررکھاہواہے
مجھے تھوڑی سی مہلت اوردیدے
تری چوکھٹ پہ سررکھاہواہے
وہ پابنداسیرعشق پیہم
سوترے عشق میں گھررکھاہواہے
کہے گرہاتھ میں دنیااٹھالوں
چھپاکریہ ہنررکھاہواہے

’ڈاکٹرعظمی محمود‘

اگرچہ ایک ہیں ہم سب کوئی جدانہیں تم
مگریہ طے ہے میری جان میرے خدانہیں تم
مجھے سلطنت عشق چاہئے بھی نہیں
یہ اوربات کوئی سایہ گماں نہیں تم
ابھی ہے وہم وگماں میری منزل مقصود
میں گامزن ہومگرمیراراستہ نہیں ہوتم
گلی میں دھوپ بچھاتے ہوئے کہااس نے
تمہاری چھائوں تومیں ہونابے ردانہیں تم
اسی افق اسی قوس قزاح کاحصہ ہو
یقیں کروکہ کوئی رنگ ماوراں نہیں تم
جودل میں ہووہی چہرے پہ بھی نظرآئے
مجھے یہ علم ہے اتنے بھی باصفانہیں تم

“قیصر اقبال وجدی”

کاغذپراولادسجاکردیتاہے
اک باباتعویزبناکردیتاہے
اپنی روزی آپ کماناپڑتی ہے
روزی روٹی کون کماکردیتاہے
ایک پرندہ اپنے سیدبچے کو
دانا واناخوب چباکردیتاہے
میں توغزلیں خاموشی سے کہتاہوں
پروہ اجرت شورمچاکردیتاہے

اپنا تبصرہ لکھیں