ڈاکٹر زاہد منیر عامر تہران یونیورسٹی میں گزشتہ ایک ڈیڑھ برس سے پاکستان چیئر پر اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ وہ جانے مانے معلم، محقق اور رائٹر ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے اردگرد کے ماحول کا جزویات کے ساتھ مشاہدہ کرنے اور اس مشاہدے کو حرف بہ حرف سپردقلم کرنے کا ہنر بخوبی جانتے ہیں۔ ان کی اس طرح کی تحریریں پڑھ کر قاری اپنے آپ کو اُسی ماحول میں محسوس کرتا ہے۔ ایران کے حالیہ جنگی تنازعے کے دوران ڈاکٹر زاہد منیر عامر تہران میں موجود تھے کہ اِس دوران ایران جنگ جیسی مشکلات سے دوچار ہوا۔
پروفیسر صاحب نے اپنے اِن مشاہدات اور جذبات کو کتابی صورت دی اور قارئین کے لیے ’’ایران جنگ اور امن کے درمیان‘‘ جیسی کتاب منظر عام پر آگئی۔ اس کتاب میں کئی ابواب ہیں جن میں معلومات، دلچسپی اور علم موجود ہے۔ پوری کتاب کے ہر باب کا جائزہ لینا اِس مختصر تحریر میں ممکن نہیں البتہ جنگ کے دنوں میں پروفیسر صاحب کئی پاکستانیوں کے ساتھ تہران سے محفوظ راستہ اختیار کرتے ہوئے پاکستان پہنچے تو اُن مشاہدات کے چند اقتباسات پیش خدمت ہیں جوکہ دیگ کے چند دانے چکھنے کے بعد عمدہ پکوان کی نشاندہی کرنے کے مترادف ہیں۔
تہران پر حملے کا آنکھوں دیکھا حال کے باب میں تحریر ہے کہ ’’یوں تو حملے کے مناظر ہمارے گھر کی بالکونی سے بھی بہ آسانی دیکھے جارہے تھے لیکن اتوار کو تہران میں متعین ترک سفیر سے پہلے سے طے شدہ ملاقات کے لیے جب میں روانہ ہوا تو تہران کی پالائش گاہ نفت سے ابھی تک دھواں اٹھ رہا تھا جس پر گزشتہ شب ہونے والے حملے کے نتیجے میں آگ لگ گئی تھی۔ میں ترک سفارتخانے سے نکل کر ابھی میدان استنبول تک ہی پہنچا تھا کہ ایک بار پھر حملہ ہوگیا۔
حملہ خاصا شدید تھا لیکن جتنی شدت حملے میں تھی ویسا ہی جوش و جذبہ لوگوں میں تھا۔ دن کا وقت تھا، بازار بھرے ہوئے تھے اور سڑک پر خوب رونق تھی۔ حملہ ہوتے ہی ٹریفک تھم گیا اور سب لوگ اپنا اپنا کاروبار چھوڑ کر سڑکوں پر آگئے اور آسمان پر میزائلوں کی لڑائی دیکھنے لگے۔ بہت سے شوقین ویڈیو بنانے میں مصروف ہوگئے۔ جب یہ معرکہ ختم ہوا تو سب نے اپنی اپنی راہ لی۔ میں بھی آگے بڑھا اور میدان فردوسی کی جانب جانے لگا۔
میدان فردوسی تہران کے مصروف ترین چوراہوں میں سے ہے جہاں شاہنامے کا خالق بڑی شان سے فرغل پہنے، گلے میں مفلر لٹکائے، سرپر پگڑی باندھے، بائیں ہاتھ میں ایک ضخیم کتاب تھامے کھڑا ہے۔ اس کے قدموں میں اس کے رزمیہ کا لافانی کردار رستم ایک معصوم بچے کی صورت میں بیٹھا دکھایا گیا ہے۔ میدان فردوسی تہران کے قلب میں واقع ہے۔ یہ جہاں سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز ہے وہاں تہران کا ایک بڑا تجارتی مرکز بھی ہے۔ یہاں صرافی کی بڑی بڑی دکانیں بھی ہیں۔
اس روز جب میں ایک صراف سے پیسے تبدیل کروا رہا تھا تو اچانک ہر جانب ہلچل ہوئی اور سب لوگ باہر کی جانب بھاگنے لگے۔ معلوم ہوا کہ ایک بار پھر حملہ ہوگیا ہے۔ وہی منظر جو کچھ دیر پہلے میدان استنبول میں دیکھا تھا اب میں میدان فردوسی میں دیکھ رہا تھا۔ گویا حملہ آوروں کے لیے دن اور رات میں کوئی تمیز تھی نہ شہری آبادیوں اور بازاروں کا کوئی لحاظ‘‘۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنی کتاب کے ’’ترکمانستان میں داخلہ‘‘ کے باب میں لکھا کہ ’’خدا خدا کرکے ہم کھڑکی تک پہنچے، پاسپورٹ پیش کیے گئے تو کلرک بادشاہ ان میں سے کچھ ڈھونڈتا ہی رہ گیا۔ اس کے عدم اطمینان سے میرا ماتھا ٹھنکا۔
پہلے اس نے مجھ سے میرا ویزا مانگا جو اسے پیش کردیا گیا۔ ایران کا سرکاری ویزا پاسپورٹ پر نہیں بلکہ ایک الگ کاغذ پر ہے۔ پھر اس نے پوچھا آپ ایران میں کس ایئرپورٹ سے داخل ہوئے تھے۔ بتایا گیا کہ امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ لیکن آپ کے پاسپورٹ پر داخلے کی مہر نہیں۔ اس نیک بخت کو بتایا کہ ایران میں بہ طور پالیسی میٹر پاسپورٹ پر داخلے کی مہر نہیں لگائی جاتی۔ آپ اپنے سسٹم میں چیک کریں سسٹم بتائے گا کہ میں کب اور کہاں سے ایران میں داخل ہوا۔
سسٹم اکثر عدم تعاون پر آمادہ ہوتا ہے، یہاں بھی ایسا ہی تھا۔ میری وضاحت اسے مطمئن نہ کرسکی اور اس نے میرا اور میری اہلیہ کے پاسپورٹ الگ رکھ دیئے۔ ایک بالکل نئی اور غیرمتوقع صورتحال پیدا ہوگئی، گویا اس کے مطابق ہم ایران میں داخل ہی نہیں ہوئے تو ایران سے خارج کیسے ہوسکتے ہیں؟ اندیشہ تھا کہ سب مسافر ایک ایک کرکے خروج کے مراحل طے کرلیں گے اور ہم یہاں کھڑے کے کھڑے رہ جائیں گے۔
جب ہمیں اس طرح بے یارومددگار کھڑے کافی دیر ہوگئی تو میں نے ایک بار پھر کلرک بادشاہ کی بارگاہ میں جانے کی کوشش کی۔ کلرک بادشاہ نے تو کوئی التفات نہ کیا البتہ اس کا ایک معاون میری بات سننے پر آمادہ دکھائی دیا۔ میں نے اسے تہران یونیورسٹی کی معاونت بین الملل کا جاری کردہ کارڈ دکھایا جس کے مطابق میں دانش گاہ تہران میں عضو ہیئت علمی ہوں اور دانشکدہ ادبیات و علوم انسانی میں پڑھاتا ہوں۔
اس سے پوچھا کہ اگر آپ کے مطابق ہم اب تک ایران میں داخل ہی نہیں ہوئے تو پھر میں تہران یونیورسٹی میں تدریسی فرائض کیسے انجام دے رہا ہوں؟ یوںلگا جیسے اس نے بات سمجھ لی ہو اور وہ مجھے تسلی دینے لگا کہ آپ فکر نہ کریں میں حکام بالا کے پاس جاتا ہوں اور پھر آپ کا مسئلہ حل کرتا ہوں۔ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ اس نے مجھے اپنی جانب آنے کا اشارہ کیا۔ میں اس کی سمت گیا تو وہ کہنے لگا آپ کی بیگم کہاں ہیں؟ بیگم بھی اس ہجوم میں قریب ہی پریشان کھڑی تھیں۔
اس نے انہیں بھی بلالیا اور ہمیں ہمراہ لے کر ایک جانب بڑھنے لگا۔ میں نے سوچا کہ نہ معلوم اب کون کون سی تحقیق و تفتیش سے گزرنا پڑے گا لیکن جب باہر نکلے تو سامنے ایران اور ترکمانستان کا بارڈر تھا۔ اس نے ہمیں اشارہ کیا کہ آپ سامنے جائیں اور وہاں اپنا نام درج کروا دیں۔ یہ کہہ کر اس نے بڑے ادب کے ساتھ ہمیں ایران سے رخصت کیا‘‘۔ کتاب کے ’’عشق آباد سے اسلام آباد‘‘ کے باب میں ڈاکٹر صاحب یوں رقم طراز ہوئے کہ ’’عشق آباد ایئرپورٹ کی سب سے اجلی یاد ڈاکٹر فریال لغاری سے ملاقات ہے۔
ڈاکٹرفریال لغاری ترکمانستان میں پاکستان کی سفیر ہیں۔ وہ ایک سفارت کار ہونے کے ساتھ مصنفہ بھی ہیں۔ وہ ایک بڑے باپ کی بیٹی اور علم دوست شخصیت ہیں۔ ہم نے مل کر ان کے والد کو یاد کیا۔ میں نے بتایا کہ میں جب ایچی سن کالج میں پڑھاتا تھا تو فاروق لغاری صاحب صدرپاکستان کی حیثیت سے ہمارے کالج میں تشریف لائے تھے اور اس موقع پر ان کے ساتھ ہماری ایک یادگار تصویر بھی ہے۔
سفیر پاکستان ڈاکٹرفریال لغاری بڑی فکرمندی کے ساتھ اپنے ہم وطنوں کا بیک وقت استقبال کرنے اور ساتھ ہی انہیں رخصت کرنے کیلئےایئرپورٹ پر تشریف لائیں اور دیر تک وہاں کھڑی رہیں۔ وہ اپنے ساتھ تمام مسافروں کیلئے ترکمان بریانی بنوا کر لائی تھیں جس کے ڈبے بڑی افراط کے ساتھ تمام مسافروں کو پیش کیے گئے‘‘۔ ڈاکٹر زاہد منیر عامر کی کتاب ’’ایران جنگ اور امن کے درمیان‘‘ جہاں مطالعے کیلئے بہترین ہے وہیں کتب خانوں میں ایک شاندار اضافہ بھی ہے۔ یہ 266 صفحات پر مشتمل ہے اور اسے قلم فائونڈیشن انٹرنیشنل نے شائع کیا ہے۔

