کراچی: مائی کلاچی روڈ سے ماں اور3 بچوں کی تشدد زدہ لاشیں برآمد

کراچی(بیورورپورٹ)کراچی کے علاقے مائی کلاچی روڈ پر ایک گڑھے سے ماں اور3 بچوں کی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید کے مطابق ہفتے کے روز مائی کلاچی روڈ پر ملنے والی ماں ،2بیٹوں اورایک بیٹی کی لاشوں پر تشدد کے متعدد واضح نشانات موجود ہیں اور لاشیں بوسیدہ حالت میں تھیں۔

پولیس کے مطابق لاشیں جمعے کو ڈاکس تھانے کی حدود میں جھاڑیوں سے گھری ایک جگہ سے برآمد ہوئیں، جن میں دو مرد اور دو خواتین شامل ہیں۔ ڈاکٹر سمیہ سید نے بتایا کہ مقتولین کی عمریں 10 سے 40 سال کے درمیان ہیں اور لاشیں چار سے پانچ دن پرانی ہیں۔ لاشوں کو سول اسپتال منتقل کیا گیا جہاں جمعے کی رات دیر گئے میڈیکو لیگل کارروائی مکمل کی گئی۔

ڈاکٹر سمیہ کے مطابق ایک مقتول لڑکا جس کی عمر تقریباً 13 سے 14 سال تھی، اس کے سر، چہرے اور گردن پر متعدد زخم تھے، جبکہ ایک اور لڑکا جس کی عمر لگ بھگ 10 سال تھی، اس کے گلے پر چوٹوں کے نشانات پائے گئے۔

تیسری مقتول تقریباً 14 سے 15 سالہ لڑکی تھی جس کے سر، چہرے اور گردن پر متعدد زخم موجود تھے، جبکہ چوتھی مقتولہ تقریباً 40 سالہ خاتون تھی جس کے سر کی ہڈی پر شدید چوٹیں پائی گئیں۔پولیس سرجن کے مطابق نشے اور جنسی تشدد کے شواہد کی جانچ کیلئے تمام متعلقہ نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں۔

مائی کلاچی روڈ کے مین ہول سے 4 لاشیں ملنے کے واقعے میں پیشرفت سامنے آ گئی، مقتولہ انیلہ کے لواحقین ڈاکس پولیس اسٹیشن پہنچ گئے۔مقتولہ کے بھائی مصطفیٰ نے موقف اختیار کیا کہ ہماری کسی سے دشمنی نہیں، بہن سے ایک ہفتہ قبل آخری بار فون پر بات ہوئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ متعدد بار بہن کے گھر گیا تو تالا لگا پایا، 2 روز قبل بھی گیا تو تالا لگا ہوا تھا، 30 دسمبر سے بہن کا موبائل بند تھا۔مصطفیٰ نے مزید کہا کہ بہن کو ڈھائی سال قبل شوہر نے طلاق دے دی تھی، جس کے بعد وہ اپنے بچوں کی کفالت کر رہی تھی۔میری بھانجی اور دو بھانجے پڑھتے تھے، مقتولہ کے بھائی نے مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کرکے سزا دی جائے۔

دوسری جانب ساؤتھ زون کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس سید اسد رضا نے بتایا کہ لاشوں کو ایدھی مردہ خانے منتقل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جائے وقوعہ کے اطراف کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج دستیاب نہیں ہو سکی۔

ڈی آئی جی پولیس کے مطابق ابھی تک مقدمہ درج نہیں کیا گیا .ان کا کہنا تھا کہ بظاہر زخم کلہاڑی یا کسی تیز دھار ہتھیار سے لگائے گئے محسوس ہوتے ہیں، تاہم موت کی حتمی وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گی۔ ڈی آئی جی پولیس کے مطابق چونکہ تین مقتولین بچے اور چوتھی ایک چالیس سالہ خاتون ہیں، اس لیے امکان ہے کہ یہ سب ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہوں اور اس ہولناک واقعے کا تعلق نام نہاد غیرت کے نام پر قتل سے بھی ہو سکتا ہے۔