کراچی(نمائندگان)کراچی کے مصروف ترین ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازا میں لگنے والی آگ اور عمارت کے بڑے حصے کے منہدم ہونے سے متعلق متعلقہ حکام کی رپورٹ کے اہم نکات سامنے آ گئے ہیں، جن کے مطابق عمارت میں نہ تو ہنگامی اخراج کا کوئی راستہ موجود تھا اور نہ ہی آگ سے نمٹنے کے لیے ضروری انتظامات کیے گئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق گل پلازا کی تعمیر 1995ء میں ہوئی تھی اور ابتدائی طور پر یہ عمارت بیسمنٹ، گراؤنڈ اور پہلی منزل تک محدود تھی۔ بعد ازاں 2003ء تک مختلف اوقات میں عمارت پر مزید تین فلورز تعمیر کیے گئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عمارت میں اصل گنجائش 500 دکانوں کی تھی، تاہم بڑی دکانوں کو تقسیم کرکے مزید دکانیں نکالی گئیں، جس کے باعث دکانوں کی تعداد 500 سے بڑھ کر 1200 تک جا پہنچی۔
رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ عمارت میں ہنگامی اخراج کے لیے کوئی مناسب راستہ موجود نہیں تھا اور فائر فائٹنگ کے بنیادی انتظامات بھی نہیں کیے گئے تھے۔
دوسری جانب گل پلازا میں لگنے والی آگ کو 22 گھنٹے گزر جانے کے باوجود مکمل طور پر بجھایا نہیں جا سکا، جبکہ عمارت میں پھنسے افراد سے بھی رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔ شہر بھر سے فائر فائٹرز امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔سانحے میں شہید ہونے والے فائر فائٹر فرقان کی نماز جنازہ ناظم آباد فائر اسٹیشن میں ادا کر دی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق واقعے میں 6 افراد جاں بحق، 22 زخمی اور 58 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

