کراچی: یوٹیوبر رجب بٹ پر حملے کے بعدایس ایچ او پر تشدد ، وکلا کیخلاف مقدمہ درج

کراچی(نامہ نگار)کراچی میں عدالت میں پیشی کے دوران یوٹیوبر رجب بٹ پر مبینہ تشدد کے واقعے کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی، جہاں اس واقعے پر احتجاج کرنے والے وکلا کے خلاف سٹی کورٹ تھانے کے ایس ایچ او پر مبینہ تشدد اور دھمکیوں کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق بدھ کو سٹی کورٹ تھانے کے ایس ایچ او جہانگیر بھٹو کی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں ایڈووکیٹ عبد الفتح چانڈیو، ایڈووکیٹ عبد الوہاب راجپر اور ایڈووکیٹ ریاض علی سولنگی کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ 40 سے 50 دیگر وکلا کو نامعلوم ملزمان کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 337-A، 504، 506، 186، 147، 149 اور 353 کے تحت درج کیا گیا۔

ایس ایچ او کے مطابق 30 دسمبر کو 40 سے 50 وکلا نے سٹی کورٹ تھانے میں قائم عارضی پولیس پوسٹ میں داخل ہو کر ہنگامہ آرائی کی اور یوٹیوبر رجب بٹ و ان کے وکیل کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ ایس ایچ او کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے مقدمہ پہلے ہی درج ہو چکا ہے تو وکلا مشتعل ہو گئے، گالیاں دیں، لاتوں اور گھونسوں سے تشدد کیا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے قبل پیر کو یوٹیوبر رجب بٹ پر عدالت میں پیشی کے دوران مبینہ تشدد کے الزام میں ایڈووکیٹ ریاض علی سولنگی، ایڈووکیٹ عبد الفتح چانڈیو اور 15 سے 20 نامعلوم وکلا کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق یوٹیوبر ضمانت کے لیے سٹی کورٹ پہنچے تھے کہ اندرونی احاطے میں ان پر حملہ کیا گیا، جس سے وہ زخمی ہو گئے۔

یوٹیوبر کے وکیل میاں علی اشفاق کے مطابق حملے کے دوران تین لاکھ روپے نقدی والا بیگ بھی چھین لیا گیا، جو بعد میں واپس کر دیا گیا تاہم رقم غائب تھی۔ دوسری جانب ایڈووکیٹ ریاض علی سولنگی کا مؤقف ہے کہ واقعے سے قبل یوٹیوبر کی جانب سے وکلا کے خلاف نامناسب زبان استعمال کی گئی تھی، جس کے بعد معاملہ بگڑا اور بعد ازاں یوٹیوبر نے کراچی بار ایسوسی ایشن کے کمیٹی روم میں معذرت بھی کی تھی۔