کرم ایجنسی(سیکیورٹی ذرائع / نمائندہ خصوصی) — کرم کے مقام پر افغان طالبان کی جانب سے دوبارہ بلااشتعال فائرنگ کے بعد پاک فوج نے بروقت اور شدید جوابی کارروائی کرتے ہوئے متعدد مخالفانہ پوسٹس کو تباہ کر دیا اور ایک ٹینک کو ہدف بنا کر تباہ کر دیا، سیکیورٹی ذرائع نے یہ اطلاع دی ہے۔
سیکیورٹی ذرائع اور سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق پاک فوج نے کرم سیکٹر میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائیاں کیں جن میں دشمن کی متعدد ٹینک پوزیشنز اور پوسٹس کو شدید نقصان پہنچا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران طالبان کی پوسٹوں پر آگ بھڑک اٹھی اور حملے میں دشمن کی متعدد لاشیں موقع پر پڑی ہوئی ملیں۔
پولیش اور عسکری ذرائع نے بتایا کہ کرم میں ایک متحرک ٹینک کو مؤثر انداز میں نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا، اور اسی آپریشن کی فوٹیج ریکارڈ کی گئی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فتنہ الخوارج اور طالبان کے کارندے گھبراہٹ میں پوسٹیں چھوڑ کر فرار ہوئے اور اس کارروائی میں ایک اہم کمانڈر کے ہلاک ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔
یہ واقعہ اس سے قبل 11-12 اکتوبر کی درمیانی شب پیش آنے والے اسی نوعیت کے حملوں کے تسلسل کا حصہ ہے، جب پاک فوج نے افغان طالبان اور بین الاقوامی پشت پناہی کے مبینہ دہشت گرد عناصر کے حملوں کا جواب دیتے ہوئے سخت کارروائیاں کی تھیں۔ آئی ایس پی آر کی پچھلی بریفنگ کے مطابق اُن جوابی کارروائیوں میں دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچا تھا، جبکہ پاک فوج کے کئی جوان شہید اور زخمی بھی ہوئے تھے۔
دوسری جانب، حکومتِ پاکستان کئی بار کابل سے مطالبہ کر چکی ہے کہ وہ اپنی زمینی حدود پر موجود گروہوں کو اپنے پڑوسی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔ افغان سرکاری حلقے ان الزامات کی تردید کرتے رہیں ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر امریکا اور چین نے بھی پاک-افغان کشیدگی میں کمی لانے کی پیشکشیں کی تھیں، تاہم وزارتِ دفاع اور اعلیٰ حکام نے علاقائی تناؤ کو ‘کشیدہ’ قرار دیا ہے اور قوی امکان ظاہر کیا ہے کہ کشیدگی کسی بھی لمحے دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ماضی میں کہا تھا کہ اگر کسی جانب سے حملہ ہوتا ہے تو پاکستان کو جواب دینے کا حق حاصل ہے، اور اسی آئینی حق کے تحت پاک افواج نے بروقت اور موثر جوابی کارروائیاں کیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی کہا ہے کہ شہدا کے خون نے ایک حد کھینچ دی ہے اور اب دہشت گردی کے خلاف ٹھوس فیصلوں کا وقت آ چکا ہے۔
یہ آپریشن اور اس کے اثرات علاقائی امن و سلامتی کے لیے سنجیدہ پیغام ہیں۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ حکومتی اور عسکری ہدایات پر عمل کریں اور کسی قسم کی افواہوں یا غیر مصدقہ اطلاعات پر گھبراہٹ یا پھیلاؤ سے گریز کریں۔

