السلام علیکم،
پاکستان اس وقت شدید بحران سے گزر رہا ہے۔ لوگ مظلوم ہیں، بے گناہوں کا قتل روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔ نہ جمہوریت ہے، نہ قانون کی حکمرانی، نہ انصاف، نہ صحت، نہ تعلیم، نہ آزادیِ اظہارِ رائے، نہ انسانی حقوق اور نہ ہی امن۔ لیکن ہمارے گروپس اور سوشل میڈیا پر ہم صرف اپنے ذاتی ہیروز اور ذاتی مفادات کے لیے لڑ رہے ہیں۔ اور اس کے لیے ہم کسی دوسرے فرد، جماعت یا تنظیم کو نیچا دکھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ ہم اتنی پستی میں چلے جاتے ہیں کہ اپنے اخلاقی دائرے سے بھی باہر نکل کر حملے کرتے ہیں۔ یہ سب اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ ہم “شیر” بن سکیں۔ لیکن کاغذی شیر نہ بنیں۔
اگر آپ کچھ کرنا چاہتے ہیں اور اپنی قدر و قیمت کو ثابت کرنا چاہتے ہیں تو وقار کے ساتھ کھڑے ہوں اور اپنی ذاتی پسند کے ہیروز کی بجائے ان اقدار کی حمایت کریں جو انسانیت کے لیے اہم ہیں۔ ہمارا دین اسلام اور ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی انسانی اور اخلاقی اقدار کو اہمیت دی ہے۔ آپﷺ کے لیے اپنی بیٹی کے لیے بھی وہی سزا تھی جو کسی دوسرے شخص کے لیے تھی۔
براہِ کرم شخصیات کی پوجا سے باہر نکلیں اور سچائی اور دیانتداری کے ساتھ کھڑے ہونے کا حوصلہ پیدا کریں۔
پاکستان جل رہا ہے اور تمام انسانی حقوق اور قانونی اقدار سے محروم ہے۔ آزادانہ زندگی گزارنے اور برائیوں کے خلاف آواز اٹھانے کا حق چھین لیا گیا ہے۔ اس وقت اشد ضرورت ہے کہ ہم انسانیت اور اخلاقی اقدار کے لیے آواز اٹھائیں نہ کہ ذاتی مفادات اور پسندیدہ شخصیات کے لیے۔شکریہ،

