پاکستان میں روزانہ کوئی نہ کوئی غیر معمولی بیان سننے میں آتا ہے۔ ایسا ہی کچھ کراچی کے سابق ایڈمنسٹریٹر فہیم الزمان صدیقی نے فرمایا ہے۔ ان کا ” فرمانا تھا ” کہ کراچی میں سڑکوں کی تباہی کی وجہ احتساب نہ ہونا ہے۔ وہ وزرا اور بیوروکریٹس جن کے پاس کبھی ایک لاکھ روپیہ نہیں تھا، آج وہ ارب پتی ہیں۔ یہ اربوں روپے سڑکوں، پلوں، پائپ لائنوں کی تعمیر سے کمائے گئے۔ سڑکوں کی تباہی پر انہوں نے کہا کہ ماضی میں سڑکیں پلاننگ کے تحت بنائی جاتی تھیں۔ اب ایسا نہیں ہوتا۔ ایک زمانے میں حقانی چوک میں سڑک کی مضبوطی کے لئے سریا ڈالا گیا۔ سڑک کا سب سے بڑا دشمن پانی ہے۔ لہذا سڑک کے دونوں طرف ڈھلان رکھی جاتی ہے اور کناروں پر نالیاں بنائی جاتی ہیں تاکہ پانی کھڑا نہ ہو۔ لیکن اب ایسا نہیں کیا جاتا لہذا سڑکوں پر پانی کھڑا ہوتا ہے اور سڑکیں ٹوٹ جاتی ہیں۔ انہوں نے ایم پی اے اور ایم این اے کے ترقیاتی فنڈز کو کرپشن کا سب سے بڑا ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا ایم پی اے اور ایم این ایز کا کام ترقیاتی کام کروانا نہیں ہے۔ یہ بلدیاتی اداروں اور بلدیاتی نمائندوں کی ذمہ داری ہے۔ 2017 اور 18 میں یونیورسٹی روڈ ایک ارب روپے کی لاگت سے بنائی گئی۔ جو بارش ہونے پر 24 جگہ سے ٹوٹ گئی۔ صاحبان اقتدار کو تصاویر بھیجیں اور انکوائری کا مطالبہ کیا۔ جواب ہی نہیں آیا، کیونکہ پورا سسٹم کرپشن کا شکار ہے۔ جو محکمے سڑک بناتے ہیں سڑک ٹوٹنے پر انہیں کوئی نہیں پوچھتا۔ فہیم الزمان صدیقی کے بیان نے اپنی صحافتی زندگی کے دو واقعات یاد کرا دیے۔ 24-25 سال پہلے میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور کے ایک چیف انجینئر کے ساتھ بیٹھا تھا۔ دوران گفتگو انہوں نے ایک ایسا انکشاف کیا جو ایک انجینئر کے منہ سے سن کر حیرانی ہوئی۔ چیف انجینئر نے ” تسلیم ” کیا کہ بطور ایس ڈی او نوکری ملتے ہی دو پرسنٹ کمیشن ملنا شروع ہو جاتا ہے۔ ایک ” دوست سے تصدیق چاہی ” تو اس نے کہا کہ ہر ترقیاتی کام میں صرف انجینئر نہیں ” فنانس سمیت دیگر افسروں ” کا بھی پورا حصہ ہوتا ہے۔ بل کی ادائیگی کے لیے جن ” افسروں کے دستخط ” درکار ہوں ان کو ” ادائیگی ” کے بغیر چیک جاری نہیں ہوتا، جتنا بڑا افسر اتنا زیادہ کمیشن ہوتا ہے۔ چیف انجینیئر ہے تو اس کو پورے ضلع کے ترقیاتی کاموں کا کمیشن ملے گا۔ جبکہ ایس ڈی او کو ” اپنے سب ڈویثرن ” کے ترقیاتی کاموں کا کمیشن ملے گا۔ یعنی ” حصہ بقدر جثہ “۔ ایک اور واقعہ جو یاد آیا وہ ضلع کونسل لاہور کا ہے۔ 1999 میں ترقیاتی کام کے لیے ٹینڈر جاری ہونے تھے۔ اعجاز ڈیال لاہور ضلع کونسل کے چیئرمین تھے۔ ان کے ایک ” پیون ” چپڑاسی نے مجھے کہا کہ یہ ” پرچی ” چیئرمین سے دستخط کروا دیں۔ آپ کے دوست ہیں وہ کر دیں گے۔ اسے کہا پہلے یہ بتاؤ اس پرچی سے تمہیں کیا ملے گا۔ اس نے کہا کہ ترقیاتی کام کا ٹھیکہ مل جائے گا۔ اعجاز صاحب آپ کے کہنے پر دستخط کر دیں تو مجھے اس ٹھیکے میں سے 10 پرسنٹ مل جائے گا۔ مجھے پریشانی ہوئی یہ 10 پرسنٹ کیسے ملے گا۔ تو اس نے بتایا کہ یہ ضلع کونسل کے ” ممبران کا حصہ ” ہے۔ ممبر کے حلقے کے ترقیاتی کاموں کا 10 فیصد ٹھیکیدار ” ممبر ” کو دے گا۔ پتہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ تو صرف ممبران کا حصہ ہے۔ انجینئرنگ، فنانس، ایڈمن ” وغیرہ ” سب کا حصہ ملا کے اس وقت 18 سے 20 پرسنٹ بنا۔ یعنی ایک لاکھ کے ٹھیکے میں کمیشن 20 ہزار ہے۔ پتہ چلا یہ کرپشن نہیں کہلاتا اسے ” یہ لوگ ” کرپشن نہیں مانتے بلکہ ” اپنا کمیشن اپنا حق ” مانتے ہیں۔ 27 سال پہلے جس کام میں پہلے ہی دن 20 پرسنٹ چوری ہو جاتے تھے اس کام کا کیسا مستقبل؟ مگر اب تو سنا ہے کہ یہ 20 فیصد کمیشن ترقی کر کے 40 سے 50 فیصد ہو گیا ہے۔ کیونکہ ” دروغ بر گردن راوی ” منتخب نمائندے ہی 20 سے 25 فیصد ڈیمانڈ کرتے ہیں۔ اگر ٹھیکے دار کو ان کے حلقے میں کام چاہیے تو 20 سے 25 فیصد ادائیگی کرنا ہوگی۔ اب جس کام میں سے اتنا کمیشن نکل جائے گا اس کے بعد باقی کیا بچے گا۔ جو بچے گا اس سے ویسا ہی کام ہوگا جیسا کراچی میں ہوا۔ فہیم الزمان صدیقی کے بیان کی تصدیق حب کینال اور شاہراہ بھٹو کی بارش میں تباہی سے ہوگئی کہ وہ کام جن کا ابھی افتتاح ہوا ہی تھا صرف 144 ملی میٹر بارش کی نظر ہو گئے۔ حب کینال ٹوٹنے سے جو سرئیے نظر آئے وہ صاف بتا رہے تھے کہ تعمیر ناقص تھی۔ شاہراہ بھٹو میں جہاں شگاف ہوا وہاں نیچے پتھر نظر نہیں آئے۔ جب اتنا اونچا پشتہ بنایا جاتا ہے تو اس کو مضبوط بنانے کے لیے پتھر بھی ڈالے جاتے ہیں۔ جماعت اسلامی کراچی والے کہتے ہیں کہ انہیں تو ترقیاتی فنڈ نہیں ملتے مئیر کراچی نے جن اربوں روپے کا کہا وہ تو صرف ٹاؤن ملازمین کی تنخواہوں کے لیے تھے۔ جبکہ میئر کراچی مرتضی وہاب کا کہنا تھا کہ ٹاؤنز کو 27 ارب دئیے تھے وہ کہاں گئے؟ جماعت اسلامی کا موقف ہے کہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، واٹر اینڈ سیوریج بورڈ سمیت سب محکمے سندھ گورنمنٹ کے ماتحت ہیں تو ذمہ داری سندھ گورنمنٹ ہی کو لینی چاہیے۔ میئر کراچی مرتضی وہاب بارش سے لیاری میں ہونے والی تباہی کے بعد جب لیاری پہنچے تو ان کا فرمانا تھا کہ یہاں پر ” اب “پانی کے نکاس کی جدید مشینری لگائی جائے گی تاکہ مسائل ختم ہوں۔ انہوں نے حکم دیا کہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے پاس جو 106 مرکزی شاہراہیں ہیں اور جو تباہ ہوئی ہیں ان کی فوری مرمت کی جائے۔ لیکن انہیں ایک حکم یہ بھی دینا چاہیے تھا کہ یہ سڑکیں ٹوٹی کیوں ہیں اس کی انکوائری بھی کی جائے۔ کرپشن اور کمیشن کی ایک اور مثال اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر بیانی کا عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران یہ کہنا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی بلڈنگ کو ابھی باضابطہ طور پر اسلام آباد ہائی کورٹ انتظامیہ کے حوالے نہیں کیا گیا ہے اور کوئی اسکی ناقص تعمیر کا نوٹس لینے کو تیار نہیں ہے۔ پانچ ارب روپے اسکی تعمیر پر خرچ ہوئے لیکن سینٹرل ایئر کنڈیشن سسٹم کام نہیں کر رہا۔ بحالت مجبوری ہر کورٹ روم میں الگ الگ ایئر کنڈیشنر لگوانے پڑے ہیں۔ ناقص تعمیر کا معاملہ نیب اور ایف آئی اے کو بھیجا جائے۔

