وفاقی حکومت نے حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے گندم کی خریداری کیلئےپینتیس سو روپے فی من کی سپورٹ پرائز مقر کر دی ہے،وزیر اعظم صاحب جب سے صدر ٹرمپ کے ساتھ شیر و شکر ہوئے ہیں ، بھارت سمیت پوری دنیا پر انکی دھاک بیٹھ چکی ہے ، طرفہ تماشہ ملک چلانے والی تمام طاقتیں بھی جب ایک پیج پر ہیں تو کس میں ہمت اور حوصلہ ہے کہ حکومت کے سامنے ٹھہر سکے یا اسکے کسی فیصلہ کو چیلنج کر سکے ،پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کو پتہ نہیں کیوں ہمارے ہر دلعزیز وزیر اعظم صاحب کے فیصلے پسند نہیں آ رہے ،پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کے وزیر زراعت نے پہلے مطالبہ کیا کہ گندم خریداری کی سپورٹ پرائز چار ہزار دو سو روپے ہونی چاہیے اور پھر کہ دیا کہ آئی ایم ایف کے دباو کی وجہ سے وہ سندھ میں گندم کی فی من قیمت کو تبدیل نہیں کریں گے مگر ساتھ ہی سندھ کے کسان کو کھادیں خریدنے کیلئے چوبیس ہزار سات سو روپے فی ایکڑ سبسڈی دینے کا اعلان کر دیا ،یعنی کان کو دوسری طرف سے پکڑ لیا اور عملی طور پر اپنے صوبے میں سپورٹ پرائز وہی کر دی جو وہ چاہتے تھے ۔اب اصل امتحان پاکستان کی نمبر ون وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا ہے ،انہوں نے اب تک صحت صفائی سے لے کر کسی بھی شعبے میں سندھ حکومت کو آگے نکلنے کا موقع نہیں دیا اب دیکھتے ہیں کہ وہ بھی پنجاب کے کاشتکار کو گندم کی بوائی اور کھادوں میں کتنی سبسڈی دینے کا اعلان کرتی ہیں؟ حیرت کی بات ہے کہ جب وفاقی حکومت نے گندم کی سپورٹ پرائز فی من پینتیس سو روپے کا اعلان کیا تو ایسے ایسے دانشوروں نے اسے عظیم فیصلہ قرار دیا جنہیں یہ بھی پتہ نہیں کہ گندم کی بوائی کب ہوتی ہے اور اس میں استعمال ہونے والی کھادوں کے نام کیا ہیں؟
زرعی شعبے کو کسی بھی ملک، قوم اور معاشرے بلکہ پوری نسلِ انسانی اور ہر طرح کی حیات کیلئےسب سے اہم شعبہ قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہو گا، زراعت ایک ایسا کاروبار ہے جو عالمی معیشت میں مختلف نوعیت کی اشیا فراہم کر کے انسانی معاشرے کی ترقی، ترویج اور بقا میں سب سے اہم کردار ادا کرتا ہے، تجارت میں استعمال ہونے والی چیزیں ، مختلف نوعیت کا اناج، ہر طرح کے مویشی یعنی لائیو سٹاک، ڈیری، فائبر، اور ایندھن کیلئےخام مال اسی کا مرہون منت ہے ، یہ شعبہ ہمیں پھل اور سبزیاں فراہم کرتا ہے جو انسانی صحت برقرار رکھنے کیلئے بے حد ضروری ہیں، یہی شعبہ جانوروں کیلئےخوراک مہیا کرتا ہے جن کا گوشت اور دودھ انسان غذا کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ زرعی شعبے سے ہمیں کپاس ملتی ہے جو لباس اور ستر پوشی کے ساتھ ساتھ ہمیں موسمی شدتوں سے بچاتی ہے، یہاں سے ربڑ حاصل ہوتا ہے جو مختلف مصنوعات میں استعمال کیا جاتا ہے، زراعت ہمیں صنعتی خام مال فراہم کرتی ہے جیسے بائیو پلاسٹک، پلانٹ آئل، بائیو لبریکینٹس کئی طرح کے رنگ ، ڈیٹرجنٹس اور کھادیں،ایسے ہی زرعی شعبہ ادویات سازی میں مددگار ثابت ہوتا ہے اور کئی طرح کی اجناس، درخت اور جڑی بوٹیاں ادویات تیار کرنے میں استعمال ہوتی ہیں،اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ زراعت کا شعبہ انسانی ترقی اور بقا کے لیے کتنی اہمیت و افادیت کا حامل ہے۔ زرعی شعبہ نہ ہو تو انسان کیا کسی بھی ذی روح کا زندہ رہنا ممکن نہ رہے، کچھ عرصہ قبل سامنے آنے والی اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں روزانہ 25 ہزار افراد بھوک اور اس سے متعلقہ وجوہ کی بنا پر زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں، ان میں سب سے زیادہ تعداد بچوں کی ہے جو دس ہزار بنتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے ممالک اس شعبے کی ترقی پر خصوصی توجہ دیتے ہیں،آج کی دنیا میں تو حکومتیں اس شعبے کو سبسڈیز یعنی خصوصی فنڈز اور رعایات دے کر بھی مستحکم اور سرگرم رکھتی ہیں تاکہ خوراک کی قلت پیدا نہ ہو اورکوئی انسانی المیہ جنم نہ لے۔
دنیا بھر میں صرف بر اعظم افریقہ ایک ایسا خطہ ہے جہاں زراعت زوال پذیر ہے یا پھر ہمارے ملک میں، جہاں کسان کو کسی طرح کا کوئی تحفظ حاصل نہیں ہے، کسان کو بیج خریدنے سے لے کر اگائی گئی اجناس فروخت کرنے تک ایک طویل کٹھن اور نہایت تکلیف دہ صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے، سب سے پہلے تو اسے اچھی پیداوار والے مناسب بیج دستیاب نہیں ہوتے، بیج مل جائیں تو فصل کے لیے زمین تیار کرنا ایک مشکل امر بن جاتا ہے کہ ہمارے ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو استحکام حاصل نہیں ہے، بیجوں کا بندوبست ہو جائے، زمین تیار ہو جائے، بیج بو بھی دیے جائیں تو آبپاشی کیلئے پانی کا حصول ایک معمہ بن جاتا ہے، مناسب وقفوں سے وافر بارش ہو جائے تو ٹھیک ورنہ وہی قیمتی ڈیزل یا زیادہ نرخوں والی بجلی استعمال کر کے ٹیوب ویل کے ذریعے زیر زمین پانی نکال کر استعمال کرنا پڑتا ہے۔ آج کے دور میں اس حقیقت سے سبھی واقف ہیں کہ اچھی پیداوار کے لیے فصلوں میں کھادوں کا استعمال ناگزیر ہے جبکہ ہمارے ملک میں کھادیں بھی مقررہ ریٹ پر نہیں ملتیں اور کسانوں کو بلیک مارکیٹ سے یعنی زیادہ قیمت ادا کر کے کھادیں خریدنا پڑتی ہیں، اگلا مرحلہ زرعی ادویات کا ہے جو دیگر بہت سے زرعی لوازمات کی طرح یہاں خالص دستیاب نہیں ہوتیں، ان میں ملاوٹ کی گئی ہوتی ہے، بہرحال ان ساری مشکلات پر کسی نہ کسی طرح قابو پا کر کسان جب فصل تیار کر لیتا ہے تو یہ اس کے لیے ایک نیا دردِ سر بن جاتی ہے۔ اگر میری بات کا یقین نہیں آتا تو آپ ملک کے کسانوں کی موجودہ صورت حال پر ایک نظر ڈال لیں سب کچھ واضح ہو جائے گا کہ باقی دنیا میں زرعی شعبے کی ترقی کیلئے کیا ہو رہا ہے اور ہمارے ملک میں کیا ہو رہا ہے، ہمارے زرعی شعبے کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ پچھلے سال گندم کی فصل پکنے سے محض دو تین ہفتے پہلے لاکھوں ٹن گندم درآمد کر لی گئی ،اس وقت پنجاب میں 40.47 لاکھ میٹرک ٹن کے موجودہ ذخائر کے باوجود اضافی 35.87 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کی گئی جس سے مصنوعی قلت پیدا ہوئی۔ گندم 2600-2900 روپے فی من کے حساب سے درآمد کی گئی اور 4700 روپے فی من قیمت پر فروخت ہوکی گئی،اسی طرح کا کھیل گنے کی فصل اور چینی کی برآمد،درآمد میں کیا گیا ، کسان مارے مارے پھرتے رہے ہیں کہ کم قیمت پر ہی سہی ان کی فصل کوئی خرید تو لے،اندازہ لگائیں ہمارے حکمران اس ملک اور قوم کے ساتھ کس طرح کے کھیل کھیلتے ہیں اور شرمندہ بھی نہیں ہوتے۔ بہتر ہے کہ ،گندم،چینی ،دالیں اور دوسری زرعی اجناس باہر سے منگوائیں یا روٹی کی بجائے ڈبل روٹی کھائیں ،دودھ بنانے کا کیمیائی نسخہ ہمارے ہاتھ آ چکا ہے اور گوشت کسی بھی جانور کا کھایا جا سکتا ہے کیونکہ ڈگری تو ڈگری ہوتی ہے اور رہا کسان تو اسے مار دیں ،نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔

