“کشمیر اور فلسطین میں شہریوں کا تحفظ عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے”:پاکستان

نیویارک(نمائندہ خصوصی) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مسلح تنازعات کے دوران شہریوں کے تحفظ کے موضوع پر کھلی بحث میں پاکستان نے زور دیا ہے کہ دنیا کو کشمیر اور فلسطین میں انسانی بحران سے نمٹنے کیلئے فوری اور ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے بحث میں قومی مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کا تحفظ کوئی اختیاری پالیسی نہیں بلکہ بین الاقوامی قانونی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ صرف سال 2024 میں اب تک 36,000 سے زائد شہری مارے جا چکے ہیں جبکہ 12 کروڑ سے زائد افراد کو زبردستی بے گھر ہونا پڑا۔

سفیر نے بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر اور فلسطین میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا تفصیل سے ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ”75 سال سے جموں و کشمیر کے عوام بھارتی قبضے اور جبر کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں لاکھوں کشمیری شہید ہو چکے ہیں، خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، اور بچے خاردار باڑوں اور بنکروں کے سائے میں پروان چڑھ رہے ہیں۔”

انہوں نے بھارت کے 900,000 سے زائد فوجیوں کی جانب سے اجتماعی سزا، آبادیاتی تبدیلی اور ماورائے عدالت قتل جیسے اقدامات کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور جنیوا کنونشن کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیا۔

فلسطین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ”اکتوبر 2023 سے اب تک 53,000 سے زائد فلسطینی شہید اور 121,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ دو ملین افراد، یعنی غزہ کی 90 فیصد آبادی، نقل مکانی پر مجبور ہو چکی ہے۔”

پاکستان نے الجزائر کی جانب سے عرب گروپ کی نمائندگی میں پیش کی گئی قرارداد کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے فوری عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔

سفیر عاصم نے شہریوں کے تحفظ کیلئے درج ذیل اقدامات تجویز کیے.
بین الاقوامی انسانی و انسانی حقوق کے قوانین پر سختی سے عملدرآمد،انسانی امدادی کارکنوں اور اقوام متحدہ کے عملے کو مکمل تحفظ،خودکار ہتھیاروں پر پابندی،مصنوعی ذہانت کے ذریعے پھیلنے والی جھوٹی معلومات کے خلاف عالمی فریم ورک اورتنازعات کا پرامن اور سفارتی حل موجود ہیں.

انہوں نے عالمی برادری کو خبردار کیا کہ”آج کی جنگیں صرف گولیوں سے نہیں بلکہ جھوٹے بیانیوں اور نفرت انگیز پروپیگنڈے سے بھی لڑی جاتی ہیں، جو شہریوں کی سلامتی کو براہ راست خطرے میں ڈال رہے ہیں۔”آخر میں پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ شہریوں کے تحفظ اور امن کے فروغ کیلئے اقوام متحدہ اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر بھرپور کام کرتا رہے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں