ایڈمنٹن (گارڈین/سی بی سی) البرٹا حکومت نے اسکول لائبریریوں سے ایسی کتب ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جن میں واضح طور پر جنسی مناظر یا عریاں مواد شامل ہے۔ تاہم اس فیصلے نے تنازع کھڑا کر دیا ہے اور ایڈمنٹن اسکول بورڈ سمیت مختلف حلقوں نے اس پر خدشات ظاہر کیے ہیں۔
گزشتہ ماہ البرٹا کے وزیرِتعلیم ڈی میٹریوس نیکولائیڈس نے وزارتی حکم نامہ (#30/2025) جاری کیا تھا، جس کے تحت اسکولوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ “واضح جنسی مواد رکھنے والی کتابوں” کو لائبریریوں سے ہٹا دیں۔ یہ پالیسی یکم اکتوبر سے نافذ ہونا تھی، تاہم منگل کی صبح وزیرِتعلیم کے دفتر سے بورڈز کو ایک ای میل بھیجی گئی جس میں کہا گیا کہ فی الحال اس حکم پر عمل درآمد روک دیا جائے۔
سی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، حکومت کو موصول ہونیوالی اندرونی فہرست میں 200 سے زائد کتابیں شامل تھیں جنہیں “ناموزوں” قرار دیا گیا تھا۔ ان میں کلاسیکی ادب بھی شامل تھا جیسے The Handmaid’s Tale (مارگریٹ ایٹ وڈ)، 1984 (جارج اورول)، Brave New World، The Color Purple اور I Know Why the Caged Bird Sings۔ ان کتب کو ہٹانے کی خبر نے عوام اور تعلیمی حلقوں میں تشویش پیدا کی۔
پریمیئر ڈینیئل اسمتھ نے ایک نیوز کانفرنس میں وضاحت کی کہ یہ اقدام “کتابوں پر پابندی” نہیں بلکہ صرف ایسی کتب کو ہٹانے کے لیے ہے جن میں پورنوگرافک تصاویر شامل ہیں۔ انہوں نے کہا”کلاسیکی ادب اپنی جگہ پر موجود رہے گا۔ نیا اور واضح حکم نامہ چند دنوں میں دوبارہ جاری کیا جائے گا تاکہ صرف وہی کتب ہٹائی جائیں جن میں انتہائی فحش مواد شامل ہے۔”
پریمیئر نے ایڈمنٹن پبلک اسکولز پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ “جان بوجھ کر پالیسی کو غلط انداز میں لاگو کر رہا ہے، یہ ’وِیشس کمپلائنس‘ ہے۔” دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام “کتابوں پر پابندی” نہیں بلکہ صرف یہ یقینی بنانا ہے کہ طلبہ کے لیے عمر کے مطابق موزوں مواد دستیاب رہے۔
ایک والدین کی تنظیم نے کہا کہ یہ اقدام “بچوں کے تحفظ کیلئے ضروری” ہے۔کینیڈین اسکول لائبریریز کے چیئرمین جوزف جیفری نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس فیصلے سے “تعلیمی آزادی متاثر ہوگی”۔البرٹا ٹیچرز ایسوسی ایشن نے کہا کہ یہ پالیسی متنازع ہے اور اساتذہ کو مشکل صورتحال میں ڈال سکتی ہے۔
مصنفہ مارگریٹ ایٹ وڈ نے اس پالیسی پر طنزیہ تحریر شائع کی، جس میں کتابوں پر پابندی کے رجحان پر کڑی تنقید کی گئی۔بین الاقوامی میڈیا جیسے The Guardian نے بھی تصدیق کی ہے کہ حکومت نے حکم نامے پر عمل درآمد مؤخر کر دیا ہے اور جلد ایک نیا حکم جاری کیا جائے گا تاکہ “کلاسیکل ادب اور نصابی اہمیت رکھنے والی کتابیں محفوظ رہیں” جبکہ صرف “انتہائی فحش مواد رکھنے والی کتابیں” ہی ہٹائی جائیں۔

