ٹورنٹو(نمایندہ خصوصی)کنزرویٹو پارٹی نے انتخابی روایت کو توڑتے ہوئے پیر پولیور کی انتخابی مہم کے دوران میڈیا کو طیاروں اور بسوں میں سوار ہونے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی کی ڈائریکٹر جینی برن نے ایک ای میل میں کہا کہ سفری اخراجات میں نمایاں اضافہ کےساتھ ڈیجیٹل اور ریموٹ رسائی کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
برن نے کہا کہ پچھلے کچھ سالوں سےچند رپورٹرز کو مہم کی مسلسل کوریج کیلئے بھیجا جارہا ہے۔ جس کے نتیجے میں پارٹی نے میڈیا کیلئے ہوائی سفر اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کی روایت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس کے متبادل پارٹی تمام عوامی تقریبات کو لائیو سٹریم کرے گی اور پیشہ ورانہ معیار کی فیڈ بھی فراہم کرے گی تاکہ میڈیا اسے خبریں بنانے کیلئے استعمال کر سکے۔ برن نے کہا، “ہماری مہم اس بات کو یقینی بنائے گی کہ میڈیا کو مضبوط، منصفانہ اور مساوی رسائی حاصل ہو۔”
کئی دہائیوں سے بڑی سیاسی جماعتوں نے ایک رہنما کی انتخابی مہم کے دوران صحافیوں کو سفری سہولیات فراہم کی ہیں۔ میڈیا ان دوروں کیلئےادائیگی کرتا ہے تاکہ صحافی رہنماؤں کی انتخابی مہمات کو قریب سے دیکھ سکیں ان سے سوالات پوچھ سکیں اور لوگوں کیلئےدرست معلومات حاصل کر سکیں۔
کنزرویٹو پارٹی نے اب یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اب اس روایت کی ضرورت نہیں رہی۔ برن نے کہا کہ پارٹی پر ہر میڈیا ادارے کو ہر وقت مکمل معلومات فراہم کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کو تقریبات کے بارے میں 2 سے 3 دن پہلے آگاہ کر دیا جائے گا اور ان تک رسائی کیلئے آن لائن سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
کارلٹن یونیورسٹی کے شعبہ صحافت میں ایمریٹس پروفیسر کرسٹوفر واڈیل نے کہا کہ یہ حیرت کی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ شروع سے ہی آرہا تھا کیونکہ انتخابی مہم کے دوران میڈیا کا کردار اب کم ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ میڈیا کیلئے ایک نیا موقع بھی ہو سکتا ہے۔
“اب صحافی رہنماؤں کے پیچھے جانے کے بجائے لوگوں سے زیادہ تفصیل سے بات کر سکتے ہیں۔” ٹورنٹو یونیورسٹی کے میسی کالج کے سینئر فیلو جیفری ڈورکن نے کہا کہ یہ فیصلہ غلط سمت میں ایک قدم ہے جس کا صحافت کی روایت پر بڑا اثر پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ کنزرویٹو پارٹی سخت جانچ سے بچنا چاہتی ہے۔

