کراچی (سپورٹس ڈیسک) کوئٹہ میں جاری چیف منسٹر گولڈ کپ فٹبال ٹورنامنٹ میں شرکت کیلئے کراچی سے کوئٹہ جانے والی ڈسٹرکٹ ویسٹ کی فٹبال ٹیم سمیت بس میں سوار تمام مسافروں کو مستونگ کے قریب مسلح ڈاکوؤں نے لوٹ لیا۔
واقعے کے دوران درجن سے زائد مسلح ڈاکوؤں نے مستونگ اور سریاب کے درمیان بس کو روک کر مسافروں کو یرغمال بنائے رکھا اور تقریباً 1 گھنٹے تک تلاشی لے کر لاکھوں روپے مالیت کے موبائل فون اور نقدی لوٹتے رہے۔
بس میں سوار ڈسٹرکٹ ویسٹ فٹبال ٹیم کے منیجر ذوالفقار علی بھٹو کے مطابق پاکستان فٹبال کے زیر اہتمام کوئٹہ میں ہونے والی چیمپئن شپ میں شرکت کے لیے کراچی ویسٹ کی 20 رکنی ٹیم کوئٹہ جارہی تھی کہ مستونگ کے قریب ڈاکوؤں نے بس کے آگے گاڑی کھڑی کرکے اسے روک لیا۔
انہوں نے بتایا کہ ڈاکو جدید اسلحے سے لیس تھے اور انہوں نے مسافروں اور کھلاڑیوں کی جامع تلاشی لی، اس دوران کئی مسافروں اور کھلاڑیوں کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ ڈاکوؤں نے چہرے ڈھانپ رکھے تھے اور لوٹ مار کے بعد بس کو کوئٹہ جانے کی اجازت دے دی۔
ذوالفقار علی بھٹو نے بتایا کہ کوئٹہ پہنچنے کے بعد ٹورنامنٹ کے منتظمین کو واقعے سے آگاہ کیا گیا اور بتایا کہ ٹیم کے پاس ناشتے کے پیسے تک نہیں رہے، جس پر منتظمین نے کھلاڑیوں کو یومیہ اخراجات کی رقم فراہم کی۔
انہوں نے بتایا کہ واقعے کی رپورٹ بلوچستان کی وزیر کھیل کو بھی دے دی گئی ہے اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ کھلاڑیوں کے ہونے والے مالی نقصان کا ازالہ کیا جائے۔
دریں اثناء سندھ فٹبال ایسوسی ایشن کے صدر اعظم ویسٹ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی موجودہ صورتحال کے باعث وہاں جاکر ٹورنامنٹ میں شرکت کرنا جان خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے سندھ کی ٹیم کو بھی کوئٹہ نہیں بھیجا گیا تھا اور سندھ کے تمام کلبوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ بس یا ٹرین کے ذریعے کوئٹہ سفر نہ کریں، تاہم کراچی ویسٹ کی ٹیم نے سفر کا خطرہ مول لیا اور اسے اس واقعے کا سامنا کرنا پڑا۔اعظم ویسٹ نے بتایا کہ ٹورنامنٹ میں سندھ کے علاوہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی ٹیموں نے بھی شرکت نہیں کی۔

