کوئٹہ: شاہوانی اسٹیڈیم پر بی این پی-مینگل کی ریلی میں دھماکا، 13 جاں بحق، 30 زخمی

کوئٹہ (نمائندہ خصوصی/اے ایف پی) بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں شاہوانی اسٹیڈیم کے باہر بلوچستان نیشنل پارٹی ( مینگل) کی ریلی میں دھماکا ہوا، جس سے 13 افراد جاں بحق اور 30 سے زائد زخمی ہوگئے۔

دھماکا ریلی کے اختتام پر پارکنگ ایریا میں ہوا۔ جاں بحق افراد کی لاشیں اور زخمیوں کو سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کردیا گیا۔ زخمیوں میں سابق ایم پی اے احمد نواز اور مرکزی رہنما موسیٰ بلوچ بھی شامل ہیں۔

سول ہسپتال کوئٹہ کے ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ نے میڈیا کو بتایا کہ دھماکے میں 13 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 30 زخمیوں کو فوری طبی امداد کے بعد ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا۔

بی این پی کے نائب صدر ساجد ترین نے کہا کہ دھماکے میں ان کے 13 کارکن شہید اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جلسے کے بعد پارکنگ ایریا میں دھماکا ہوا اور اس میں پارٹی کے رہنما بھی متاثر ہوئے۔

محکمہ داخلہ بلوچستان کے مطابق ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کردیے۔ حکومت نے واقعے کی اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں پر کان نہ دھریں۔

حکومت بلوچستان کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے شدید زخمیوں کو فضائی سروس کے ذریعے کراچی منتقل کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ انہیں بروقت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جاسکیں۔

انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی انتظامات مزید مؤثر بنائے جائیں اور زخمیوں کے علاج میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان نے دھماکے کو انسانیت دشمن عناصر کی بزدلانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا جائے گا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی اسپانسرڈ دہشتگرد معصوم لوگوں کو نشانہ بنا کر عدم استحکام کی کوشش کر رہے ہیں۔

تحریک تحفظِ آئین نے ایک بیان میں جلسے پر خودکش حملے کی مذمت کی اور شہید کارکنوں کے اہلخانہ سے اظہار یکجہتی کیا۔مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی چیئرمین سینیٹر علامہ راجا ناصر نے کہا کہ یہ حملہ صرف بی این پی پر نہیں بلکہ پاکستان کے آئینی اور جمہوری ڈھانچے پر بھی حملہ ہے۔

واضح رہے کہ 29 مارچ 2025 کو بھی بی این پی کے لانگ مارچ پر مستونگ کے قریب ایک مبینہ خودکش حملہ ہوا تھا، تاہم اس وقت سردار اختر مینگل اور قیادت محفوظ رہی تھی۔ صوبائی حکومت نے اس وقت یقین دہانی کرائی تھی کہ لانگ مارچ کے شرکا اور قیادت کی حفاظت ریاستی ذمہ داری ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں