کوئٹہ: مقتولین میاں بیوی نہیں تھے، خاتون اور مرد کے 5، 5 بچے تھے: وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی

کوئٹہ (نمائندہ خصوصی) —وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کوئٹہ کے نواحی علاقے مارگٹ میں ہونے والے دہرے قتل کے واقعہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں قتل ہونے والے خاتون اور مرد کے درمیان کوئی ازدواجی رشتہ نہیں تھا۔ دونوں پہلے سے شادی شدہ تھے اور ہر ایک کے 5 بچے ہیں۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ بعض افواہوں کے مطابق مقتولین کو پسند کی شادی پر قتل کیا گیا، تاہم یہ تاثر غلط ہے۔ خاتون کے شوہر کا نام نور ہے اور اس کے 5 بچے ہیں جبکہ مقتول مرد احسان اللہ بھی شادی شدہ تھا اور اس کے بھی 5 بچے ہیں۔

انہوں نے اس واقعے کو انتہائی سفاک اور ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس معاملے میں ملوث کسی بھی فرد سے نرمی نہیں برتے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے اور جلد ہی تمام ذمہ داروں کو عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

“واقعے کی قانونی پیچیدگیاں اور پولیس کو درپیش چیلنجز”

وزیراعلیٰ نے انکشاف کیا کہ کیس کی ایک سنگین پہلو یہ ہے کہ تاحال کسی بھی فرد نے ایف آئی آر درج نہیں کروائی۔ مقتولین کے والدین اور بچے موجود ہیں، مگر وہ سامنے آنے سے گریز کر رہے ہیں۔ پولیس جب تفتیش کیلئےمتاثرہ گاؤں میں پہنچتی ہے تو مرد فرار ہو چکے ہوتے ہیں اور خواتین پولیس پر پتھراؤ کرتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ علاقے کے اسپیشل برانچ کے ڈی ایس پی کو معطل کر دیا گیا ہے کیونکہ اس نے واقعے کی بروقت اطلاع حکومت کو فراہم نہیں کی۔

“قاتلوں کی بنائی گئی ویڈیو ہی جرم کا ثبوت بنی”

سرفراز بگٹی نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کسی بیرونی ذریعے سے حاصل نہیں ہوئی بلکہ قاتلوں نے خود اسے ریکارڈ کرکے پوسٹ کیا، جو ان کے خلاف سب سے بڑا ثبوت ہے۔ حکومت اس پہلو کو بھی تفتیش کا حصہ بنا رہی ہے۔

“جرگہ سسٹم پر شدید تحفظات”

وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں اب بھی جرگہ سسٹم موجود ہے، جو کئی مقامات پر غیرقانونی اور غیرآئینی فیصلے کرتا ہے۔ انہوں نے اس امر کا اعتراف کیا کہ بطور معاشرہ ہم اس نظام کے زیرِ اثر ہیں، تاہم حکومت آئینی دائرے میں رہتے ہوئے ان غیرقانونی جرگوں کے خلاف بھرپور کارروائی کر رہی ہے۔

“سیکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات”

پریس کانفرنس کے دوران امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے بتایا کہ گزشتہ روز سیکیورٹی فورسز نے ایک کامیاب کارروائی میں 10 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ ان کے مطابق دہشت گرد سافٹ ٹارگٹ کو نشانہ بناتے ہیں مگر سیکیورٹی ادارے ان کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے عوام سے کہا کہ وہ کسی قسم کے خوف میں مبتلا نہ ہوں کیونکہ بلوچستان میں سیکیورٹی کی صورتحال مجموعی طور پر بہتری کی طرف جا رہی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں