قیمتوں میں اضافے، ٹیکس اصلاحات اور عدالتی معاملات پر عوامی غصہ عروج پر
کوالالمپور (رائٹرز /ایجنسیاں)ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں ہفتہ کے روز ہزاروں مظاہرین نے وزیرِ اعظم انور ابراہیم کی حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین مہنگائی، وعدہ خلافی اور عدالتی بے ضابطگیوں پر سراپا احتجاج تھے۔
پولیس کے اعدادوشمارکے مطابق 18000سے زائد افراد نے مارچ میں شرکت کی.احتجاج کا مرکز آزادی اسکوائر (Dataran Merdeka) بنا،مظاہرین کے نعرے: “انور استعفیٰ دو!”مظاہرے میں اسلامی طلبہ تنظیموں اور اپوزیشن رہنماؤں کی بھرپور شرکت کی اطلاعات ہیں.
وزیراعظم انور ابراہیم پر عوامی تنقید درج ذیل معاملات پر مرکوز رہی.مہنگائی میں اضافہ،سیلز اینڈ سروسز ٹیکس ،SST) میں توسیع،سبسڈی میں تبدیلیاں،بجلی کے نرخوں میں اضافہ، جس کا اثر عام صارفین پر پڑ رہا ہے.
بدعنوانی اور عدلیہ میں مداخلت کے الزامات،اتحادی سیاستدانوں کے خلاف کرپشن کیسز کی واپسی،اعلیٰ عدلیہ میں تقرریوں میں تاخیر،سیاسی وفاداروں کو فائدہ پہنچانے کے الزامات بھی لگائے گئے.
وزیراعظم انور ابراہیم نےعدالتی مداخلت کے الزامات کی سختی سے تردید کی،کم آمدنی والے طبقےکیلئےنقد امداد اور ایندھن کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیااوریقین دلایا کہ حکومت مہنگائی پر قابو پانے کیلئےمزید اقدامات کرے گی.
سابق وزیراعظم مہاتیر محمد، جن کی عمر اس ماہ 100 سال ہو گئی، نے احتجاج میں شرکت کر کے انور ابراہیم پر سخت تنقید کی اور کہا “جو بے گناہ ہیں ان پر مقدمات بنتے ہیں، اور جو غلط کام کرتے ہیں، انہیں چھوڑ دیا جاتا ہے۔”
یاد رہے کہ 2018 میں مہاتیر اور انور نے اتحاد کر کے برسراقتدار پارٹی کو شکست دی تھی لیکن ان کا سیاسی اتحاد محض دو سال میں اختلافات کا شکار ہو کر ختم ہو گیا۔
انور ابراہیم کیلئےیہ مظاہرے ایک سیاسی چیلنج بن سکتے ہیں، خاص طور پر جب کہ ان کی حکومت عوامی توقعات پر پوری اترنے میں ناکام رہی ہے۔ اگر عوامی ناراضگی میں اضافہ ہوا تو قبل از وقت انتخابات یا حکومت کی تشکیلِ نو جیسے امکانات بھی زیرِ غور آ سکتے ہیں۔

