کون روکے گا دست ِ قضاء کو ہم مسلمان مرتے جاتے ہیں!

دِل پر بہت بوجھ ہے،سوچ رہا ہوں کہ کیا واقعی قیامت نزدیک ہے اور ہم جلد ہی دجال کبیر کی حکمرانی دیکھنے اور برداشت کرنے والے ہیں،اس کے آثار بہت واضح ہیں۔ ہر روز کوئی ایسا سانحہ ہو جاتا ہے جس سے یہ تاثر مزید پختہ ہو جاتا ہے کیونکہ دجال صغیر حضرات کی طرف سے جو کچھ ہو رہا ہے۔ہمارے پاس ان کو جواب دینے کی صلاحیت ہونے کے باوجود ہم عملی اقدام سے قاصر ہیں اِسی لئے تو طویل عرصہ سے دنیا میں مسلمانوں کی بربادی پر ٹسوے بھی نہیں بہاتے صرف مذمت تک محدود رہتے ہیں۔ ایک سال سے زائد ہو گیا،اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے۔ہر روز درجنوں شہید ہوتے ہیں، بھوک سے نڈھال موت کو گلے لگاتے ہیں ہم ایک ارب سے زیادہ مسلمانوں کے پاس مذمت یا سخت مذمت کے سوا کوئی لفظ نہیں،اسرائیل نے لبنان، شام اور ایران میں مداخلت کے بعد اب واضح طور پر قطر کی خود مختاری پر حملہ کیا اور قطر کے مہمان، حماس کی مذاکراتی ٹیم کے اراکین کو شہید کر دیا، قطر کا شہر دوحہ وہ مقام ہے جو متحارب ممالک کے درمیان مصالحتی مشن کے مرکز کے طور پر کام کر رہا ہے۔ حماس کے اراکین، رہنماؤں کا وفد جنگ بندی کے حوالے سے امریکی تجاویز پر غور کے لئے موجود تھا کہ اسرائیل کی فضائیہ نے کھلے بندوں حملہ کر کے ان کو شہید کر دیا، حسب ِ توقع مذمتی بیانوں کا سلسلہ شروع ہو گیا جو اب تک جاری ہے۔

دُکھ تو یہ ہے کہ جو کچھ ہو رہا یا ہونے والا ہے اس بارے میں اُمت محمدیہ کو خود محمد مصطفےٰؐ نے آگاہ کر دیا ہوا ہے ہم جانتے بوجھتے ہوئے ہدایات کو نظر انداز کرتے اور سر ریت میں چھپا کر خطرے سے بچنا چاہتے ہیں۔اسرائیل کی طرف سے گریٹر اسرائیل اور سلطنت داؤدی کی خواہش اور کوشش کو کبھی چھپایا نہیں گیا، یہ تو ہم ہیں جو معاہدہ ابراہیمی قبول کئے بیٹھے اور یکطرفہ طور پر گریز پا ہیں۔ذرا سر جھکا کر جھانک لیں تو صاف ظاہر ہو گا کہ یہ جو ظلم ہو رہا ہے اس کے ہم خود ذمہ دار ہیں، آج بھی کتنے ہی مسلم ممالک ہیں جو اسرائیل سے سفارتی تعلقات رکھتے ہیں اور ظلم کے خلاف احتجاج کے طور پر ان کو قطع بھی نہیں کرتے۔جتنے منہ اتنی باتیں، اب پھر بات ہو رہی ہے تو امریکہ کی۔ اسرائیلی دعویٰ کہ حملے کی اطلاع امریکہ کو دے دی گئی تھی یوں امریکی تھانیداری کا تاثر موجود ہی نہیں، ظاہر ہے کہ حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کو کہا کہ وہ شرائط تسلیم کرے ورنہ بہت بُرا ہو گا۔ یہ بات انہوں نے دہرائی ہے کہ وہ تو پہلے بھی یہ سب کہہ چکے اور مسلسل کہہ رہے ہیں۔یہ تو ہم ہیں کہ انہی ٹرمپ صاحب سے امن کی توقعات رکھتے ہیں،حالات یہ ہیں کہ پوری دنیا میں عوامی سطح پر اسرائیلی مظالم اور غزہ کے فلسطینیوں کی معصومیت کے حوالے سے بڑے بڑے مظاہرے ہو رہے ہیں ان مظاہروں سے اور کچھ ہوا ہو یا نہ ہوا،تاہم اتنا ضرور ہے کہ متعدد ممالک نے فرانس اور برطانیہ سمیت فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ کیا22ستمبر سے شروع ہونے والے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں یہ سب ہو جائے گا؟ کہ ان ممالک کی طرف سے ڈیڈ لائن اسی اجلاس کی دی ہے۔ یہ عمل ہو بھی گیا تو کیا اسرائیل اپنی حرکتوں سے باز آ جائے گا اور امریکہ ایسا ہونے دے گا جس نے پوری دنیا کے اصرار کے باوجود ابھی تک فلسطینی اتھارٹی کے وفد کو ویزے جاری نہیں کئے، اگر ایسا ہی رہا تو فلسطینی وفد جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہ کر سکے گا۔ امریکہ نے اسرائیلی رویے کی طرح ان حلیف ممالک کے اس مطالبے کو بھی درخواعتنا نہیں جانا اور یہ احساس پختہ ہو رہا ہے کہ ویزے جاری نہیں ہوں گے۔

قارئین! اس حوالے سے بہت کچھ لکھنے کے لئے ہے لیکن دنیاء اسلام کے رویے کو دیکھتے ہوئے کچھ نہیں کہا جا سکتا، آج پوری دنیا غیر یقینی موسمی حالات سے دوچار ہے۔ طوفانی، سیلاب، زلزلے اور آتشزدگی کے واقعات عام ہیں، دیگر اقوام کے بارے میں، میں کچھ نہیں کہتا، لیکن عالم اسلام اور خود پاکستانی مسلمانوں سے تو عرض کر سکتا ہوں کہ اللہ کا نام لیں اور جس جس کام سے ہمیں منع اور جن مراحل سے ہمیں آگاہ کیا گیا ان پر تو غور کریں کہ سب ویسا ہی ہو رہا ہے،غور کرنے سے سچ آشکار ہو گا تو ہمیں بھی تیار رہنا چاہئے۔یہ درست کہ دجال کبیر کا خاتمہ حضرت مہدی علیہ السلام کے ہاتھوں ہی ہو گا لیکن کیا ہم مہدی علیہ السلام کی آمد کے منتظر رہیں۔ حضرت علامہ ابو الحسناتؒ فرماتے تھے کہ اگر ہم مسلمان بحیثیت مجموعی ان ممنوعہ عادات و حرکات سے باقاعدہ گریز کریں اور اپنے اعمال کو درست رکھیں تو اس سب کے ظہور پذیر ہونے میں تاخیر ہو سکتی ہے، اور جس قدر ہم مسلمانوں کا عمل درست ہو گا اتنا ہی ہم پر اللہ کا کرم رہے گا۔

میں ایک دوسرے پہلو سے گوش گذار کرتا ہوں۔ کیا ماضی میں اسلام دشمن قوتوں نے متحد ہو کر مسلمانوں کو نیست ونابود کرنے کی کوشش نہیں کی، کیا سپین جیسا المیہ نہیں ہو چکا اور پھر اس کے باوجود آج دنیا میں نہ صرف اسلام موجود ہے، بلکہ مسلمان بھی ہیں اور ان کی حکومتیں بھی،لیکن کیا کریں یہ سب اس روح سے عاری ہیں جو مجاہد کے اندر ہوتی ہے۔ کیا ہم مسلمان اتنا بھی نہیں کر سکتے کہ اسرائیل کا مکمل طور پر معاشی بائیکاٹ کر دیں۔اگر امریکہ ہی کا خوف ہے تو پھر چہ معنی دارد! اگر ہم حقیقی معنوں میں جذبہ اسلامی سے متحد ہوں تو ایک ارب سے زائد مسلمانوں کو سمندر میں غرق نہیں کیا جا سکتا۔ عالم اسلام کے پاس دنیاوی دولت کی طاقت ہے،ایمان کی مضبوطی سے اگر اللہ اور شہادت پر یقین رکھتے ہوئے صف آراء ہوں تو سب کو ختم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی امریکہ یہ برداشت کر پائے گا اور اگر مداخلت کرے گا تو پھر خط زمین، کرہ ارض ایٹمی صلاحیتوں کے استعمال کے باعث روئی کے گالوں کی طرح ہی پھٹ جائے گا اور کیا یہ سچ اسلام مخالف برداشت کر لیں گے۔

سوال پھر یہ ہے اسرائیل کو کون روکے گا، صہیونیوں نے اپنے جنون میں دنیا بھر کی ہدایات، قراردادوں، عالمی عدالت کے فیصلوں اور ہر اخلاقی پہلو کو نظر انداز کر دیا اور من مانی کرتا چلا جا رہا ہے،امریکہ اس کا پشت پناہ ہے ایسے میں صرف اور صرف اتحاد اُمہ اور دینی جذبہ ہی کام آ سکتا ہے،اس وقت غزہ ہی نہیں،روہنگیا مسلمان،کشمیری بھائی اور بھارت کے شہری مسلمان جن پریشانیوں سے دوچار ہیں،اگر کسی غیبی طاقت نے مدد کرنا ہوتی ہے تو اب تک یہ ظلم ختم ہو چکا ہوتا،لیکن قدرت بھی ہمارے ہی اعمال کو دیکھتی ہے، دیکھتے ہیں کہ قطر کی خود مختاری پامال ہونے کے بعد بھی ہوش آتا ہے یا ہم پھر سے مذمت کے بعد سو جاتے ہیں۔

میں نے اتحاد اُمہ کی بات کی تو گذارش ہے کہ ہمیں پہلے اپنے گھر کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ افسوسناک امر یہ ے کہ ہم پاکستانی بھی تو ہر شعبہ زندگی میں تقسیم ہو چکے، منافع خوری رہی اپنی جگہ یہاں ہر شعبہ میں مافیا کا راج ہے۔اس سے زیادہ قلم برداشت نہیں کر رہی، لہٰذا اس دُعا کے ساتھ بات ختم کرتے ہیں کہ اب اللہ کے سوا کوئی نہیں!

اپنا تبصرہ لکھیں