ایشیا کپ 2025 نے دکھا دیا کہ سیاسی ایجنڈے کس طرح احترام، روایت اور کھیل کو جوڑنے والی روح کو کھوکھلا کر دیتے ہیں۔قومی رہنماؤں کے پاس یہ طاقت ہوتی ہے کہ وہ چاہیں تو معاشروں کو یکجا کر دیں اور چاہیں تو انہیں تقسیم کر کے کمزور کر دیں۔ اچھی قیادت اعتماد، ہم آہنگی اور ہمسایوں کے ساتھ خیرسگالی کو فروغ دیتی ہے۔ لیکن جب یہی طاقت مذہب، نظریے یا شناخت کی بنیاد پر تقسیم بڑھانے کیلئے استعمال ہو تو اس کے اثرات صرف ملکی سیاست تک محدود نہیں رہتے، کھیل کے میدان بھی اس کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔حالیہ ایشیا کپ کرکٹ فائنل (28 ستمبر 2025) میں بھارت اور پاکستان کے درمیان یہی کچھ دیکھنے کو ملا، جب بھارتی کھلاڑیوں نے روایتی مصافحہ کرنے سے انکار کیا، پاکستانی عہدیدار سے ٹرافی وصول نہ کی اور ایک ایسے کھیل میں سیاست داخل کر دی جو ہمیشہ سرحدوں کے پار شائقین کو قریب لاتا رہا ہے۔ یہ رویہ اُن سب کے لیے باعثِ تشویش ہے جو جمہوریت، امن اور کھیلوں کی اصل روح پر یقین رکھتے ہیں۔
ایشیا کپ 2025 نے یہ واضح کر دیا کہ سیاسی ایجنڈے کس طرح احترام، روایات اور کھیل کی وحدت کی روح کو مجروح کر سکتے ہیں۔نریندر مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد ان پر نہ صرف بیرونی ناقدین بلکہ خود بھارت کے اندر سے بھی یہ الزام لگتا رہا ہے کہ وہ ہندو اکثریتی قوم پرستی کو فروغ دے کر کثرتیت کی روایت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ گجرات کے وزیر اعلیٰ کے طور پر ان کے دور پر 2002 کے مسلم مخالف فسادات کا سایہ رہا، اور وزیر اعظم بننے کے بعد بھی ان کی تقریریں اور پالیسیاں انہی تقسیموں کو ہوا دیتی دکھائی دیتی ہیں۔ قوم پرستی کے نعرے، شناختی سیاست اور اکثریتی جذبات کو ابھارنے سے معاشرتی خلیج گہری ہو گئی ہے۔ ساتھ ہی پاکستان کے خلاف بھارت کا رویہ بھی مزید سخت ہو چکا ہے، جس میں فوجی اقدامات، سفارتی لب و لہجہ اور علامتی اقدامات شامل ہیں۔ یہ سب کچھ تقسیم پسند قومی رہنماؤں کی پہچان ہے، جو عوامی تائید کے نام پر اختلاف کی ہر آواز دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ایسے ماحول میں قوم پرستی ایک اجتماعی شناخت کے بجائے اقتدار کو قائم رکھنے کا ہتھیار بن جاتی ہے۔ ماضی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان کرکٹ کو سفارتی تعلقات بہتر کرنے کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ “کرکٹ ڈپلومیسی” وہ موقع تھی جب کھیل دشمنوں کے درمیان خیرسگالی کا پیغام دیتا تھا۔ مگر اب کھیل ایک پراکسی جنگ میں بدل گیا ہے۔ایشیا کپ 2025 میں بھارت کی فتح سے زیادہ وہ تنازعات یاد رکھے جائیں گے جنہوں نے ٹورنامنٹ کو داغدار کیا۔ آغاز ہی سے بھارتی کھلاڑیوں نے پاکستانی ٹیم کے ساتھ روایتی مصافحہ کرنے سے انکار کیا، جو برسوں سے احترام کی علامت رہا تھا۔ اس روایت کو ترک کرنا کھلے عام ایک سیاسی پیغام سمجھا گیا۔ شائقین کے لیے یہ لمحہ اس بات کا اعلان تھا کہ اب کھیل میں بھی احترام کا رشتہ کمزور پڑ رہا ہے۔فائنل میں تنازعہ اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔ بھارت نے کپ تو جیت لیا مگر تقریبِ تقسیمِ انعامات تنازعے کی نذر ہو گئی۔ بھارتی ٹیم نے ایشیا کپ اور تمغے لینے سے انکار کیا، اور معاملہ اتنا بگڑا کہ ٹرافی ہی ہٹا دی گئی۔ بھارتی کپتان نے دعویٰ کیا کہ ان کی ٹیم کو جشن منانے کا موقع “چھین لیا گیا”، جبکہ پاکستانی کپتان نے اسے بے احترامی اور کھیل کی ساکھ کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مودی کی نفرت کی سیاست نے پاکستان کا تو کچھ نہیں بگاڑا، بلکہ اپنے ہی کھلاڑیوں اور حامی تماشائیوں کو فائنل جیتنے کے باوجود ٹرافی اٹھانے کی خوشی منانے سے محروم کر دیا۔ نفرت کی سیاست ہمیشہ اپنے ہی گلے پڑتی ہے۔یہ سب اس خاموش معاہدے کی خلاف ورزی تھی جو ہمیشہ سے کھیل اور سیاست کو الگ رکھتا آیا ہے۔ جنوبی ایشیا میں کرکٹ کبھی دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات نرم کرنے کا ذریعہ بنتی تھی۔ 2004 میں بھارت کا دورۂ پاکستان نہ صرف کھیل بلکہ دونوں طرف کے عوامی میل جول کی وجہ سے یادگار رہا۔ دبئی جیسے مقامات پر ہونے والے میچز بھی اکثر شائقین کو قریب لے آتے تھے۔ لیکن اس بار خیرسگالی کی جگہ کشیدگی اور دشمنی نے لے لی۔ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ مصافحہ یا ٹرافی قبول کرنے سے انکار نوجوان نسل کو یہ سبق دیتا ہے کہ دشمنی ہی اصل رویہ ہے۔ کھیل، جو تقسیم کم کرنے کا ذریعہ ہونا چاہیے، نفرت بڑھانے کا ہتھیار بنتا جا رہا ہے۔ جنوبی ایشیا میں، جہاں کرکٹ ایک ثقافتی ادارہ کی حیثیت رکھتی ہے، یہ رجحان خاص طور پر تشویش ناک ہے۔اصل مسئلہ کھیل کی سیاست کاری ہے۔ کرکٹ کی شائستہ روایات اس کی جان ہیں، اور جب انہیں سیاست کے تابع کر دیا جائے تو کھیل کی روح ہی ختم ہو جاتی ہے۔ ایشیا کپ نے دکھا دیا کہ جب کھلاڑی اور قومی رہنما سیاست کو کھیل پر حاوی ہونے دیتے ہیں تو کھیل اپنی اصل شناخت کھو دیتا ہے۔
پاکستان میں کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ جب تک بھارت کھیل کے آداب واپس نہیں لاتا، اُس وقت تک انکار ہی بہترین راستہ ہے۔ لیکن دوسروں کے نزدیک بائیکاٹ پاکستان کی عالمی کرکٹ ساکھ کو نقصان پہنچائے گا اور شائقین کو محروم کرے گا۔ ایک درمیانی راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ پاکستان سخت شرائط کے ساتھ کھیلنے پر آمادہ ہو ، جیسے مصافحے کو لازمی قرار دینا، ٹرافی کی غیر جانبدارانہ تقسیم، اور سیاسی بیانات پر پابندی۔ اگر پھر بھی اصول توڑے گئے تو دستبرداری زیادہ جائز دکھائی دے گی۔ذمہ داری کھیل کے عالمی اداروں پر بھی عائد ہوتی ہے۔ آئی سی سی اور اے سی سی کو چاہیے کہ کھیل کی روح کو محفوظ رکھنے کے لیے واضح اصول اور ضابطے بنائیں۔ ان کی خاموشی صرف سیاست کو مزید بڑھا رہی ہے اور کھلاڑیوں پر غیر ضروری دباؤ ڈال رہی ہے۔ایشیا کپ 2025 ایک ٹورنامنٹ سے زیادہ تھا ، یہ خطے کی سیاسی فضا کا عکاس تھا۔ ایک ایسا موقع جو لوگوں کو جوڑنے کا ذریعہ بن سکتا تھا، اختلاف کی علامت بن گیا۔ احترام کی چھوٹی چھوٹی روایات ، جیسے مصافحہ یا ٹرافی تھامنا ، بڑے پیغام دیتی ہیں۔ یہ یا تو تقسیم بڑھاتی ہیں یا انسانیت کی یاد دلاتی ہیں۔اگر کرکٹ کو واقعی ایک متحد کرنے والی قوت بنے رہنا ہے تو اس ایشیا کپ کے اسباق کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ سیاست ہمیشہ بھارت اور پاکستان کے تعلقات پر اثر ڈالے گی، مگر کرکٹ کا میدان وہ جگہ ہونا چاہیے جہاں رقابت کا اختتام احترام پر ہو۔ ورنہ یہ عظیم کھیل بھی سیاست کی نذر ہو جائے گا اور وہ خواب، کہ کرکٹ دشمنوں کو قریب لاتی ہے ، ماضی کا قصہ بن کر رہ جائے گا۔

