کیا ایٹمی لڑائی ناگزیر ہو چکی؟

بھار ت کی طرف سے جارحیت مسلسل جاری ہے اب تو اسرائیلی ساختہ چھوٹے ڈرون زیادہ تعداد میں بھیجے جا رہے ہیں۔ پاکستان کے ایئر ڈیفنس کی بہتر کارکردگی کے باعث ان کو راڈار پر دیکھ لیا جاتا اور بروقت کارروائی سے تباہ کر دیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود یہ ڈرون گرتے گرتے نقصان کر جاتا ہے۔ ہمارے پاکستانیوں کو ایک نیا مشعلہ ہاتھ آ گیا اور وہ گرتے ڈرون کی ویڈیو بنا کر ریلیز کرنے میں پہل کی کوشش کرتے ہیں، اس شوق کی وجہ سے بھی بعض نوجوان زخمی ہوئے تاہم اکثر افراد گرتے ڈرون کے ٹکڑے لگ جانے سے متاثر ہوتے ہیں۔ ہمارے آئی ایس پی آر کے باخبر حضرات کی طرف سے خبروں کی صورت میں عوام کو آگاہ بھی رکھاجاتا ہے۔ ہمارے سول اور فوجی اطلاعاتی ادارے بہت مستعد ہیں اور بھارت کی طرف سے کی جانے والی کارروائیوں سے آگاہ رکھتے ہیں اور حقیقت پر مبنی اطلاع دی جاتی ہے، آج ہی بتایا گیا کہ بھارت کی طرف سے اوکاڑہ کینٹ کی طرف بھیجے گئے چار ڈرونز بھی گرالئے گئے ہیں۔ یوں اس سے پہلے کہ بھارت کی طرف فوجی تنصیبات کا ذکر کیا جائے۔ ہم خود ہی بتا دیتے ہیں کہ حملہ کہاں ہوا اور نقصان کیا ہوا، یوں ہماری حفاظتی کارروائی کا ذکر یقین پیدا کرتا ہے اسی لئے میں یہ بھی مانتا ہوں کہ بھارت کی طرف سے کنٹرول لائن پر کی جانے والی فائرنگ، بمباری کا موثر ترین جواب دینے کا جو دعویٰ کیا گیا وہ بھی سو فیصد درست ہے۔ ابھی تک پاکستان کی طرف سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا گیا اور جوابی کارروائی سے گریز رہا،تاہم تابکہ آخرکار تو ایسا جواب دینا ہوگا جو جارحیت کا موثر جواب ہو اور پاکستانی عوام بھی مطمئن ہوں، اس سلسلے میں فوجی اور سول ترجمان بار بار انتباہ کرتے چلے آ رہے اور خبردار کررہے ہیں کہ بھارت غلط بیانی نہ کرے اورجھوٹے الزامات نہ لگائے کیونکہ جب پاکستان کارروائی کرے گا تو کھڑاک ہو گا اور پوری دنیا جان جائے گی۔ میں 1965ء۔ 1971ء کی لڑائیوں کی کوریج کے دوران اعلیٰ عسکری حکام سے بات چیت،جوانوں سے گفتگو اور سرحدی حالات کو دیکھتے ہوئے بعض جنگی حکمت عملیوں اور باریکیوں سے واقف ہوں اس لئے پاکستان کی طرف سے تحمل کے مظاہرے پر مطمئن ہوں کہ جنگ کسی کے لئے بھی اچھی نہیں ہوتی پھریہ تو دو ایٹمی ممالک کے درمیان تنازعہ ہے، اس حوالے سے دنیا بھر میں تشویش کا اظہار کیا گیا اور دونوں ممالک سے تحمل کی اپیل کی جا رہی ہے لیکن کسی طرف سے عملی قدم نہیں اٹھایا گیا اتنا فرق ضرور پڑا کہ پاکستان کے جائز موقف کو سراہا گیا ہے، تاہم ماضی میں بھارت سے تعلقات کے حوالے سے یہ ممالک کھل کر مذمت سے گریز کرتے ہیں، اگرچہ ہمارے حکام اور حکومتی نمائندوں سے گفتگو کے دوران یہ قائل ہو جاتے ہیں اس کے باوجود ان کو بھارت کے ساتھ دیرینہ اور معاشی تعلقات کا خیال بھی رہتا ہے، بہرحال ایران۔ چین اور سعودی عرب کو احساس ہے اور ان کی درون خانہ کوشش بھی ہے، ترکیہ نے واضح حمائت کی، امریکہ نیم بروں نیم دروں اور ہدائت جاری کر رہا ہے، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، امریکہ اور برطانیہ یہ تو کہہ رہے ہیں کہ فریقین کو تحمل سے کام لینا ہوگا تاہم ان میں سے کسی نے عملی کوشش نہیں کی۔ حالانکہ یہ حضرات سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کے اہل ہیں، جو پاکستان کی درخواست پر ان کیمرہ ہوااور ہمارے موقف کو سراہا بھی گیا، عملی طور پر کچھ نہیں کیا گیا، میری ذاتی رائے کے مطابق جس کا اظہار وقتاً فوقتاً میں اپنے کالموں میں کرتا ہوں کہ امریکہ اور اسرائیل کو صرف ایران کا ایٹمی پروگرام ہی نہیں کھلتا بلکہ اصل میں پاکستان کے پروگرام پر بدنظر ہے جس کی دیرینہ تاریخ بھی ہے، اس لئے بھی کہ پاکستان نے ٹیکنالوجی میں شمالی کوریا اور چین کی معاونت سے بہت کچھ سیکھا اور حاصل کیا جس کا مظاہرہ بھارتی جنگی طیاروں خصوصاً رافیل کے گرانے اور چھوٹے ڈرونز کو دیکھ لینے والی ٹیکنالوجی سے ہو گیا ہے۔

یہ سب حقائق ہیں جو منظر عام پر آچکے ہیں ار اب مجھے یہ یقین ہے کہ پاکستان کا موقف اس حد تک مضبوط ضرور ہو چکا کہ کسی جوابی کارروائی پر الزام نہ دیا جا سکے اور بھارت مسلسل مجبور کر رہا ہے کہ جواب دیا جائے، میں یہ تو نہیں جانتا کہ یہ جواب کیا ہوگا تاہم اس بات کی تائید کرتا ہوں کہ جواب سے دنیا اور بھارت چونک جائے گا اور سب کے لئے سرپرائز ہوگا اس کے باوجود میری خواہش یہ ہے کہ بھارت کے سنجیدہ فکر اور امن پسند حلقے انتہا، تشدد پسند مودی اور اس کے ہمنوا ہندوؤں کی شرانگیزی کے مقابلے میں اپنا وزن بڑھالیں گے کہ ایٹمی جنگ تک نوبت آئی تو نہ تم ہوگے اور نہ ہم ہوں گے، ہندوتوا تو ختم، لیکن مسلمان تو قیامت تک رہیں گے۔

میں نے حقائق کی رو سے جذبات کا اظہار کیا ہے کہ میں تو بوڑھا اور اپنا وقت گزار چکا لیکن انسان اور ہماری اگلی نسلیں تو ہیں۔ ان کی بقاء تو لازم ہے اگرچہ مودی، آر۔ایس۔ایس اور ان کے سرپرست ایسا نہیں چاہتے۔ میں نے گزشتہ کالم میں اپنا موقف واضح کیا اور سازش بھی بتا دی تھی۔ اس کا عملی نمونہ یہ ہے کہ اسرائیل نے گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران نہ صرف غزہ میں نسل کشی کا عملی جاری رکھا بلکہ شام، یمن اور لبنان پر بھی بمباری کی ہے، اب اس نے برملا کہہ دیا ہوا ہے کہ غزہ پر مکمل قبضہ کے علاوہ حماس اور حزب اللہ کو ختم کرنے کے علاوہ ایران کی ایٹمی صلاحیت بھی ختم کرنا ہے، یوں نیتن یاہو اور اس کے ساتھی گریٹر اسرائیل کے خواب کو چھپا نہیں رہے، دوسری طرف خلیج میں موجود امریکی بحری بیڑے سے بھی طیارے اڑ کر یمن (خصوصاً صنعا) پر حملہ آور ہو رہے ہیں الزام حوثیوں پر لگایا جاتا ہے اور مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ مسلمان سرنگوں رہیں، اسرائیل کا خواب پورا ہو، اس سلسلے میں حیرت مسلمانوں پر ہوتی ہے کہ ہمیں تو 15سو سال قبل ہی بتا دیا گیا تھا کہ ایسا ہوگا، اور اس سب کو ہمارے اعمال سے مشروط کیا گیا تھا لیکن مسلمانوں نے اس طرف توجہ نہیں دی اور اپنے اعمال ہی خراب کئے جس کی وجہ سے اسلام دشمن قوتیں کامیاب ہو رہی ہیں اور قرب قیامت کے منظر واضح ہو رہے ہیں ہمارے حقیقی روحانی بزرگوں نے واضح کر دیا ہوا ہے کہ اگر ہمارے اعمال ایسے ہی رہے تو ہمیں کوئی نہ بچا سکے گا اور دجالی قوتیں بتدریج کامیاب ہوتی رہیں گی تاآنکہ تباہی مقدر ہونے کے بعد حضرت مہدیؑ کا ظہور ہو اور پھر حضرت عیسیٰ ؑ بھی زمین پر واپس اتار دیئے جائیں، کہاں ہے اسلامی کانفرنس، کہاں ہے عرب لیگ، ان پر تو غیر کا قبضہ نہیں لیکن خوف اور مصلحت کا شکار ہیں، میرے نزدیک اقوال زریں اور احادیث سے جو حقیقت واضح ہے تو پھر اسے قبول کرلینا ہوگا اور ہمیں خود پر مزید گناہوں کا بوجھ لادنے کی بجائے میدان عمل میں شہادت قبول کرکے سرخرو ہونا چاہیے اللہ کرے، اب بھی ہم سمجھ جائیں،ورنہ پھر یہ نیکی بھی نہ ملے گی، قارئین! اگرچہ مجھے یقین ہے کہ سازش کا پہلا حصہ مکمل ہوا، غزہ ختم کرکے خالی کرالیا گیا اور اسرائیل کا قبضہ ہو گیا تو برصغیر میں بھی مصالحت کا عمل ہوجائے گا لیکن اس وقت تک پلوں کے نیچے سے بہت پانی بہہ چکا ہوگا، اس لئے اب بھی مسلم امہ کو اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا، پاکستان اور ایران اس اہلیت کے حامل ہیں کہ دشمن کو کاری ضرب لگا کر امن پر مجبو رکر سکیں بشرطیکہ اتحاد بھی ہو۔

اپنا تبصرہ لکھیں