کیا ”صلیبی جنگ“ کا تاثر درست ہے؟

ہمارا تعلیمی دور بہت اچھا تھا،اسلامیہ ہائی سکول شیرانوالہ گیٹ کے دورانِ تعلیم نہ صرف پڑھائی اچھی ہوئی، بلکہ کھیلوں میں حصہ لینے کا بھی بہت موقع ملا۔ یہ اسی دور کا احوال ہے کہ پرائمری کے دوران فلیمنگ روڈ پر ٹیوشن پڑھی تو ہمارے استاد لائبریری بھی چلاتے تھے چنانچہ اُن کی بدولت بچپن ہی سے ناول پڑھنے کا چسکا پڑ چکا تھا جو آج تک چل رہا ہے، ہائی سکول کے دِنوں میں تاریخ بھی پڑھنا پڑی اور محترم نسیم حجازی کے طویل ناول جو تاریخ کے اوراق کو عشق تک لے جاتے تھے،ایک ایک نشست میں پڑھے، ان دِنوں خطے کے جو حالات بن چکے اور امریکہ ایران کے درمیان جو تناؤ ہے اس سے مجھے صلیبی جنگ یاد آ رہی ہے جب رچرڈ (شیر دل) کی قیادت میں یورپ اکٹھا تھا اور دوسری طرف سلطان صلاح الدین ایوبی نے یہ فرض سنبھالا کہ ان کی یلغار کو روکیں اور ان کی قیادت میں مجاہدین نے حق ادا کیا اور مشترکہ افواج کے مقابلے میں فتح پائی تھی۔ یہ سلطان صلاح الدین ایوبی ہی تھے جنہوں نے بیت المقدس میں بھی فتح کے جھنڈے گاڑھے،اِس دوران بھی مسلمان آپس میں بٹے ہوئے تھے اور سلطان صلاح الدین کو اپنی ہی افواج پر بھروسہ کرنا پڑا تھا۔ یہ بھی علم ہوا کہ اس دور میں ترکیے سے ایران تک کی بیلٹ میں خانقاہی نظام بھی وسیع پیمانے پر قائم تھا اور مسلمانوں کے کئی کئی ڈیرے بنے ہوئے تھے اور بڑی تعداد میں لوگ عبادت میں مصروف ہوتے اور واعظ سنتے تھے۔ راوی کے مطابق سلطان صلاح الدین کو یورپ والوں کی متحدہ قوت کے مقابلے میں افرادی قوت کی زیادہ ضرورت محسوس ہوئی تو انہوں نے خانقاہ والوں سے جہاد میں حصہ لینے کی درخواست کی جو یہ کہہ کر مسترد کر دی گئی کہ ہم دُعا کر رہے ہیں۔

اس حوالے سے تمام واقعات جزئیات کے ساتھ تاریخ میں محفوظ ہیں اور مرحوم نسیم حجازی نے بھی اپنے طویل ناولوں کا موضوع انہی حالات کو بنایا تھا،ان کے ناولوں میں تاریخ تو تھی لیکن رومانویت کا بھی غلبہ تھا۔بہرحال ان دِنوں مجھے یہ سب یوں یاد آیا کہ امریکی صدر ٹرمپ جو اب کھل کر میدان میں ہیں،مجھے وہی مشترکہ یورپی افواج کے سربراہ کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔انہوں نے سلسلہ جنگ بندیوں کا اعزاز لینے سے شروع کیا تھا تاہم اِس دوران انہوں نے اسرائیل بلکہ صہیونیوں کے حق میں اپنا وزن رکھا اور غزہ کے حوالے سے فلسطینیوں کی عملی طور پر کوئی مدد نہ کی اور جب جنگ بندی معاہدہ کرایا تو اس میں بھی اپنا اور اسرائیل ہی کا مفاد سامنے رکھا۔ اسرائیل مسلسل حملے کرتا ہے اور اپنے ارادوں کا بھی ذکر کرتا ہے، مسلمان ممالک مضطرب ہیں لیکن مذمت اور احتجاج سے آگے نہیں بڑھ پائے،بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی تعریفیں کرتے چلے گئے جس نے زبانی طور پر بھی اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی اور نہ ہی اسے مسلسل بمباری سے روکا،حالانکہ دنیا جانتی اور مانتی ہے کہ اسرائیل کا سارا کچھ امریکہ کے بھروسے پر ہے۔

اِسی تناظر میں اس خطے میں ایران ٹرمپ کی آنکھ میں کھٹکتا رہا کہ غزہ کے حوالے سے ایران کا موقف زیادہ سخت تھا اور اسرائیلی حملے کے جواب میں ایران نے بھی جوابی وار کیا۔تل ابیب میں کھلبلی مچی تو محترم ٹرمپ نے ایران کی ایٹمی تنصیبات کو جدید ترین بھاری اسلحہ سے ختم کر دیا، کسی بین الاقوامی اخلاق کو درخوراعتنا نہ جانا۔امریکہ ایٹمی صلاحیت کے حوالے سے ابتداء ہی سے ایران کے خلاف رہا اور ایران شدید ترین پابندیوں کے باوجود اب تک موجود ہے۔

ان دِنوں جو حالات ہیں ان سے صاف واضح ہو گیا ہے کہ امریکی صدر طاقت کے نشے میں دنیا کے اَمن کو تہ و بالا کرنے پر تُلے بیٹھے ہیں۔ لیبیا، عراق، یمن، شام اور دیگر مسلمان ممالک کو کمزور تر بنانے اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کے سہارے اس کی آنکھ ایران پر آ لگی۔ جہاں ایک مذہبی حکومت ہے اب وہ ایران پر حملے کی نہ صرف بھیانک دھمکیاں دے رہا ہے بلکہ مظاہرین کو کھلے بندوں بغاوت پر اُکساتے ہوئے نہ صرف امداد کا اعلان کر رہے ہیں بلکہ بزورِ طاقت رجیم چینج کا بھی اعلان فرما رہے ہیں اس سے پہلے وہ وینزویلا پر قبضہ کر چکے اور خود کو عبوری صدر قرار دے کر کولمبیا اور کیوبا کے پیچھے پڑ چکا اور اپنے نائب صدر کو کیوبا کا صدر نامزد کر دیا ہے۔ یوں طاقت کے گھمنڈ میں اب وہ خلیجی نقشہ بدلنے پر تُل گیا ہے۔

جہاں تک ایران کا تعلق ہے تو اس میں ہونے والے پُرتشدد مظاہرے، سوشل میڈیا کے ذریعے جین زی کا کمال ہیں کہ سخت مذہبی حکومت کے باعث جوان نسل کے گھٹے جذبات کو اس ذریعے سے تقویت ملی او اب یہ جین زی میدان میں ہے اور ٹرمپ انہی کی حمایت کی آڑ میں ایران پر حملہ کرنے کے لئے لئے تیار بیٹھا ہے ان حالات کے حوالے سے تجربہ کار حضرات بہت کچھ کہہ چکے تاہم میرا ذاتی تجربہ ہے کہ ایران کی نوجوان نسل سخت مذہبی پابندیوں کو پسند نہیں کرتی اور وہ جدید طرزِ زندگی کو اپنانا چاہتے اور اسے ہی آزادی سمجھتے ہیں۔اس سلسلے میں ان کی حوصلہ افزائی امریکہ اور یورپی ممالک میں مقیم ایرانی شہریوں کی حمایت سے بھی ہوتی ہے اگرچہ درمیانی عرصہ میں انتخابی عمل کے ذریعے لبرل انتظامیہ بھی برسر اقتدار آئی لیکن آیت اللہ خمینی انقلاب کے بعد جو نظام ایران میں اپنایا گیا وہ قطعی دینی اور سپریم قوت آیت اللہ ہی ہیں، سوشل میڈیا کی اس طاقت نے جس کے سرور امریکی ہیں صرف ایران ہی نہیں دنیا کے دیگر ممالک کی نئی نسل کوبھی متاثر کیا اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ایک مشاہدہ بنگلہ دیش میں ہو چکا۔

حالاتِ حاضرہ پر بہت کہا جا رہا ہے اور ماہرین امورِ خارجہ اپنی رائے دے چکے لیکن میرے سامنے تو صلیبی جنگوں والا دور ہی آتا ہے جب یورپ متحدہ ہو گیا تھا اور مسلمان ممالک آپس میں جڑے ہوئے نہیں تھے۔ آج بھی ایسی صورتحال ہے،کہ اب یورپی یونین بھی ٹرمپ کے پاؤں پر پاؤں رکھ رہی ہے۔دوسری طرف ایران اکیلا ہے تاہم اس سب کے باوجود ایران اب بھی ایسی قوت ہے کہ اسے نقصان پہنچانے کے لئے امریکہ اور اسرائیل مل کر حملہ کریں گے تو جواب بھی سخت ملے گا کہ ٹرمپ کی طرف سے کھلے اعلانات کے بعد اب برسر قتدار حضرات کے حق میں بھی بڑے مظاہرے ہو گئے ہیں۔یوں اندر سے مکمل بغاوت ممکن نہیں رہی،لیکن امریکہ اور یورپ کے رویے کے بعد خطہ میدان جنگ بن جائے گا اور جب لڑائی ہو گی تو امریکہ کے حامی ملک بھی متاثر ہوں گے۔ امریکہ اڈوں اور بحری بیڑوں کی صورت میں خلیج میں بھی موثر قوت کے طور پر موجود ہے ایران کے جوابی حملوں سے قریبی مسلمان ممالک ہی متاثر ہوں گے اس لئے امریکہ اور یورپ کاکچھ نہیں بگڑے گا۔متاثرین بھی مسلمان ہی ہوں گے،اس لئے یہ لمحہ فکریہ بھی مسلمانوں ہی کے لئے ہے، ٹرمپ تو اب رچرڈ شیر دل کا روپ دھارے ہوئے ہے۔ہمارا پاکستان اس وقت اہم حیثیت اختیار کر چکا ہے،کیا ہم کوئی بہتر کردار ادا کر سکتے ہیں یہ ایک اہم سوال ہے۔