گذشتہ چند دِنوں کے دوران سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے، ان وارداتوں میں ہمارے بہادر افسر اور جوان شہید ہوئے جو مادرِ وطن کی حفاظت کے لئے سربکف ہیں،ان کی شہادت سے صدمہ ہوتا ہے تاہم حقائق کی روشنی میں ان کے لئے دُعا نکلتی ہے تو ساتھ ہی ان کی بہادری اور جرائت سے یہ بھی علم ہوتا ہے کہ ملک دشمنوں اور ان کے حواریوں کے لئے بھی اب جاء پناہ نہیں ہے اور یہ شہادتیں بھی انہی خوارجیوں کی تلاش اور ان کا قلع قمع کرنے کے باعث ہوئیں، حالیہ جھڑپوں نے پھر ثابت کیا ہے کہ ہماری مسلح افواج کے افسر فرنٹ پر رہنمائی کرتے اور فریضہ انجام دیتے ہیں، یہ نہیں کہ سپاہی آگے اور وہ پیچھے ہوں بلکہ یہ حقیقت پھر آشکارہو رہی ہے کہ ہمارے محافظوں میں افسر اگلے مورچوں پر لیڈ کرتے ہیں۔ حالیہ جھڑپوں میں لیفٹیننٹ کرنل اور میجر حضرات کی شہادت مجھے 1965ء ستمبر میں لے گئی، جب دشمن نے رات کے اندھیرے میں عالمی سرحد کو ناجائز طور پر عبور کیا اور فتح کا خواب دیکھتے ہوئے آگے بڑھا تو ہمارے انہی جوانوں نے جذبہ ایمانی اور شہادت سے مخمور اس کا راستہ روک لیا تھا۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ تب ہمارے بٹالین کمانڈر فرنٹ سے لیڈ کرتے تھے جو ہمارے یونٹ کمانڈر بھی اگلی صفوں میں ہوتے تھے۔ باٹا پور معرکہ کے ہیروز میں جنرل تجمل ملک، کرنل نفیس انصاری، سٹاف افسر خالد انور، میجر انور شاہ اور میجر نواز جوانوں سے اگلی صفوں میں رہ کر کمانڈ کرتے تھے۔ تجمل ملک(مرحوم) اور سٹاف افسر خالد انور کی جیپ ایک سرے سے دوسرے سرے تک چکر لگا کر حالات کا مشاہدہ کر کے حوصلہ بڑھاتی تھی، مجھے یاد ہے کہ جنگ تیز تر ہو چکی تو معلوم ہوا کہ میجر انور شاہد ان بہادر نوجوان افسروں میں تھے، جو بی آر بی پار کر کے دشمن کی صفوں کو تہس نہس کر چکے تھے،ان کو وائرلیس کر کے واپس بلایا گیا تھا۔ مجھے نہ صرف1965ء بلکہ1971ء کی جنگ بھی یاد ہے کہ کوریج کا اعزاز حاصل ہوا، ہماری مسلح افواج کی سب سے بڑی صفت اور نشانی بھی یہی تھی کہ نوجوان افسر اگلی صفوں میں ہوتے تھے۔ اللہ شہداء کے درجات بلند فرمائے۔
حالیہ جھڑپوں کے دوران یہ ثابت ہوا ہے کہ ہمارے ازلی دشمن بھارت کو کچھ زیادہ ہی تکلیف پہنچی ہے جو اس کی طرف سے فتنہ الہندوستان کو زیادہ سرگرم کیا گیا ہے دُکھ تو یہ ہے کہ اس حوالے سے برادر ملک افغانستان کا نام بھی آتا ہے۔اب وزیر دفاع خواجہ آصف نے جو نیا انکشاف کیا وہ اور بھی زیادہ دُکھ دینے والا ہے کہ افغان عبوری حکومت والوں نے مذاکرات کے دوران پاکستان سے کثیر رقم کا مطالبہ کیا اور اس کے بدلے یہ جواب دیا کہ فتنہ الخوارج کو دور بھیج دیا جائے گا، تاہم جب یہ پوچھا گیا کہ ان کے واپس نہ آنے کی گارنٹی کیا ہے تو جواب نہ دیا گیا۔ یوں یہ تسلیم کر لیا گیا کہ خوارج افغانستان ہی کی طرف سے دخل اندازی کرتے ہیں،کور کمانڈرز کی حالیہ میٹنگ میں ایک بار پھر قطعی جذبے کا اظہار کر دیا گیا کہ فتنہ خوارج کو ختم کیا جائے گا جبکہ وزیراعظم نے بھی واضح کر دیا ہے کہ اب دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کرنا ہو گا۔
یہ سب واقعات ہیں جو برسر عام نظر آ رہے ہیں لیکن جو بات افسوسناک ہے وہ یہ کہ ملک کے اندر وہ یکجہتی نہیں جو1965ء کی پاک بھارت جنگ میں تھی۔ جب جرم صفر اور بندہ بندہ اپنی بہادر افواج کے ساتھ کھڑا ہو گیا تھا،یقین کیجئے، جب کوئی فوجی یونٹ ایک طرف سے دوسری طرف نقل و حرکت کرتا تو شہری سڑکوں پر پھول اور پھل پھینک کر نعرہ تکبیر بلند کرتے تھے۔ سترہ روز کے بعد فائر بند ہوئی تو سرحدوں پر پھلوں کے ڈھیر لگا دیئے گئے تھے لیکن آج صورتحال بہت مختلف ہے۔ آج دوست دوست سے روٹھ جاتا ہے۔ اتحادیوں میں محاذ آرائی شروع ہو گئی، حالانکہ یہ وہ حضرات ہیں جن کو عام آدمی سے زیادہ حالات کا علم اور ادراک ہے کہ یہ وقت ایسی محاذ آرائی کا نہیں۔اگر آپ ملک کے اندر سیاسی اور معاشی اقدام کی بات کرتے ہیں تو پہلے خود کو اس کے لئے تیار رکھیں،اقتدار تو آنی جانی چیز ہے اور یہ آپ حضرات سے زیادہ اور کون جانتا ہے جو باری باری ٹھوکر کھا چکے اور باری باری اقتدار کا مزہ بھی چکھ چکے،جہاں تک اپوزیشن کے بھائیوں کا تعلق ہے تو ان کو بھی یاد رکھنا ہو گا کہ یہ جو غیر ملکی امداد سے ملک کے اندر دہشت گردی ہو رہی ہے یہ آگ ہے جو ان کے اپنے گھروں تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ بہتر عمل ایک وسیع تر اتفاق رائے ہے کہ اسی طرح ملک کو استحکام ملے گا اور فتنے بھی ختم کئے جا سکیں گے۔
یہ کس قدر دُکھ اور افسوس کا مقام ہے یہ جو دہشت گرد ہیں یہ خود کو بڑا مسلمان کہتے اور ہمیں گناہ گار تصور کر کے ہم پر خلافت نافذکرنے کی بات کرتے ہیں اور ان کی کفیت یہ ہے کہ کافر سے امداد لے کر مسلمانوں کو شہید کرنے پر کمر بستہ ہیں، افغانستان بھی امارات اسلامیہ ہے، طالبان اللہ اور اس کے رسولؐ کی بات کرتے اندرونی نظام میں اس حوالے سے کئی ناپسندیدہ اقدام بھی کر چکے لیکن ان کو اپنے اس مسلمان بھائی سے زیادہ ہندوتوا والا بھارت زیادہ پسند ہے جو اپنے ملک میں نہ تو کسی مسلمان کو برداشت کر رہا ہے اور نہ ہی کسی عبادت گاہ کو رہنے دینا چاہتا ہے اور ہر روز کسی مسجد کے شہید ہونے کی اطلاع آ جاتی ہے،ان کو سوچنا چاہئے کہ پاکستان کا رویہ کیا ہے، کیا ہم نے چالیس سال سے لاکھوں افغان بھائیوں کو بھائی بنا کر نہیں رکھا وہ سب آج ہم پاکستان والوں سے بڑے تاجر اور مالدار ہیں۔ اگرچہ حکومت نے اب افغان بھائیوں کو واپس اپنے ملک جانے کے لئے کہا ہے لیکن یہ مسئلہ بھی پیچیدہ ہو گیا کہ مہاجر، شناختی کارڈ بنوا کر مقامی ہو گئے اور بڑے کاروبار بھی کر رہے ہیں۔ آج ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک طویل پریس کانفرنس بڑی تفصیل سے اس موضوع پر کی اور واضع کیا کہ اب حد ہو گئی سب کو فیصلہ کر لینا ہو گا کہ وہ دہشت گردوں کے کسی بھی حوالے سے سہولت کار ہیں یا ریاست کے وفادار ہیں اب کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوگا،انہوں نے یہ بھی بتایا کہ افغانوں کی واپسی کا فیصلہ 2014ء میں ہوا تھا،اب سوال کیوں اٹھایا جا رہا ہے۔ بہرحال میری درخواست، اتحاد، اتفاق اور مکمل یکجہتی کی ہے۔

