2025 کے کینیڈین وفاقی انتخابات میں لبرل پارٹی کی جیت کے امکانات نمایاں ہو چکے ہیں، خاص طور پر جب سے مارک کارنی نے پارٹی کی قیادت سنبھالی ہے۔ کارنی کی معاشی مہارت اور امریکہ کے ساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی تنازعات کے تناظر میں ان کو عوامی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ حالیہ جائزوں کے مطابق، لبرلز کو 178 نشستوں کے ساتھ اکثریتی حکومت بنانے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے، جو کہ درکار 170 نشستوں سے زیادہ ہے۔
مارک کارنی کی قیادت میں لبرل پارٹی نے اپنی مقبولیت میں اضافہ کیا ہے. خاص طور پر ان کی معاشی پالیسیوں اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ان کی مہارت کی وجہ سے، یہ عوامل لبرل پارٹی کی کامیابی کے امکانات کو مزید مضبوط کر رہے ہیں۔
اس سیاسی منظرنامے میں، بعض پاکستانی اور بھارتی نژاد اراکین پارلیمان کا رویہ قابل غور ہے۔ ان میں سے کچھ اراکین نے میڈیا سے دوری اختیار کررکھی ہے اور عوامی سطح پر بھی کم نظر آتے ہیں۔ یہ رویہ ممکنہ طور پر ان کی خود اعتمادی کی علامت ہو سکتا ہے جو متوقع انتخابی کامیابی کے پیش نظر پیدا ہوا ہو۔ تاہم عوامی نمائندوں کا میڈیا اور عوام سے رابطہ جمہوری عمل کا اہم حصہ ہےاور اس سے دوری عوامی اعتماد کو متاثر کر سکتی ہے۔
لبرل کینیڈااورکنزرویٹوجماعتوں کا میڈیاسنٹرایتھنک میڈیاکے ساتھ سوتیلی مائوں جیساسلوک روارکھے ہوئے ہیں۔مزید برآں، سوشل میڈیا پر دائیں بازو کے مواد کی بھرمار اور ممکنہ طورپر دوبڑے مخالف ممالک کی مداخلت کے خدشات بھی موجود ہیں جو کہ انتخابی عمل پر بہت اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر لبرل پارٹی کی قیادت میں کارنی کی موجودگی اور ان کی معاشی مہارت نے پارٹی کی مقبولیت میں اضافہ کیا جبکہ بعض اراکین پارلیمان کا رویہ اور سوشل میڈیا پر موجودہ رجحانات انتخابی نتائج پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

