اوٹاوا (نمائندہ خصوصی+کینیڈین نیوز ایجنسیاں)کینیڈا کی وفاقی حکومت نے لارنس بشنوی گینگ کو باضابطہ طور پر دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔ حکومت نے یہ فیصلہ عوامی سلامتی کے تحفظ اور کینیڈین برادریوں کو جرائم سے بچانے کیلئےکیا۔
وفاقی وزیر برائے عوامی سلامتی گیری انانداسانگاری نے کہا کہ بشنوی گینگ پر قتل، بھتہ خوری، دھمکیوں، فائرنگ اور دیگر پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے سنگین الزامات ہیں۔ یہ گروہ خاص طور پر بھارت سے تعلق رکھنے والی برادریوں کو نشانہ بناتا رہا ہے اور کینیڈا میں خوف و ہراس پھیلانے کا باعث بنا ہے۔

اعلامیے کے مطابق بشنوی گینگ قتل، فائرنگ، آگ زنی اور بھتہ خوری کے ذریعے کمیونٹیز کو خوفزدہ کرتا ہے اور نمایاں سماجی، کاروباری اور ثقافتی شخصیات کو نشانہ بناتا ہے۔گینگ کا سربراہ لارنس بشنوی گزشتہ ایک دہائی سے بھارت کی جیل میں قید ہے مگر تفتیشی اداروں کا کہنا ہے کہ وہ جیل کے اندر سے ہی موبائل فون کے ذریعے اپنے نیٹ ورک کو چلا رہا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بشنوی گروہ کا تعلق مشہور پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کے قتل سے بھی جوڑا گیا تھا۔یہ گروہ 2023 میں اس وقت منظرِ عام پر آیا جب کینیڈین پولیس نے الزام لگایا کہ بشنوی نیٹ ورک نے کینیڈا میں سرگرم خالصتان تحریک کے حامی سکھ کارکنوں کے خلاف پرتشدد مہم چلائی۔
اس فیصلے کے بعد کینیڈا میں بشنوی گینگ کے تمام اثاثے ضبط اور بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے جائیں گے۔کینیڈا کے شہری یا ادارے اب اس گروہ کو کسی قسم کی مالی یا مادی معاونت فراہم نہیں کر سکیں گے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس فیصلے کے بعد اس گروہ کے خلاف مزید مؤثر کارروائی کا اختیار مل گیا ہے۔
وزیرِ عوامی سلامتی انانداسانگاری نے اپنے بیان میں کہا”ہر فرد کو اپنے گھر اور برادری میں محفوظ رہنے کا حق حاصل ہے۔ بشنوی گروہ نے مخصوص کمیونٹیز کو تشدد اور دہشت کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔ انہیں دہشت گرد قرار دینا اس بات کو یقینی بنائیگا کہ ہمارے پاس ان کے جرائم سے نمٹنے کیلئےمزید مضبوط اوزار موجود ہوں۔”
بشنوی گینگ کو دہشت گرد قرار دینے کا مطالبہ رواں سال مختلف رہنماؤں نے کیا تھا، جن میں برٹش کولمبیا کے وزیر اعلیٰ ڈیوڈ ایبی، البرٹا کی وزیر اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ اور وفاقی کنزرویٹو رہنما پیئر پولیئیور شامل ہیں۔پولیئیور نے الزام عائد کیا کہ یہ گروہ برٹش کولمبیا، برامپٹن اور کیلگری کے کاروباری افراد سے بھتہ خوری اور دہشت پھیلانے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔
کینیڈا میں اس وقت دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں 88 گروہ شامل ہیں اس فیصلے کے بعد نہ صرف بشنوی گروہ پر براہ راست ضرب لگی ہے بلکہ اس سے کینیڈا میں مقیم بھارتی نژاد برادریوں کی سلامتی کے بارے میں حکومتی عزم کا بھی اظہار ہوتا ہے البتہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اعلان سے بھارت-کینیڈا تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔

