کینیڈا کا طویل ترین مقدمہ ختم، 4 فرسٹ نیشنز کو زمین اور ماہی گیری کے حقوق مل گئے

برٹش کولمبیا (نامہ نگار) — برٹش کولمبیا سپریم کورٹ نے کینیڈا کی عدالتی تاریخ کے طویل ترین مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے چار فرسٹ نیشنز کے حق میں زمین اور ماہی گیری کے روایتی و قانونی حقوق تسلیم کر لیے۔

یہ مقدمہ 2019 میں دائر ہوا تھا اور 513 دن تک سماعت جاری رہی۔ اس میں رچمنڈ، بی سی کے 750 ہیکٹر رقبے کا دعویٰ کیا گیا تھا، جس میں شہر، بندرگاہ، زرعی زمینیں، گالف کورس اور تجارتی جائیدادیں شامل ہیں۔ زمین پر موجودہ وقت میں وفاقی حکومت، صوبائی حکومت، وینکوور فریزر پورٹ اتھارٹی، سٹی آف رچمنڈ اور نجی مالکان کا قبضہ ہے۔

مدعی جماعتوں میں Quw’utsun Nation، Cowichan Tribes، Stz’uminus First Nation، Penelakut Tribe اور Halalt First Nation شامل تھے، جنہوں نے فریزر دریا کی جنوبی شاخ میں خوراک کیلئےماہی گیری کا حق بھی مانگا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پہلا مقدمہ تھا جس میں بعض فرسٹ نیشنز ایک دوسرے کے مخالف فریق کے طور پر پیش ہوئے، جن میں Tsawwassen First Nation اور Musqueam Indian Band شامل تھے۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے کینیڈا میں زمین کے تاریخی دعووں پر قانونی پوزیشن مزید مضبوط ہوئی ہے۔

یہ فیصلہ نہ صرف مقامی باشندوں کے حقوق کے تحفظ میں ایک سنگ میل ہے بلکہ مستقبل میں ایسے دعووں کیلئےقانونی بنیاد بھی فراہم کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں