کینیڈا کی غزہ میں انسانی بحران پر شدید تشویش، اسرائیل کی پالیسیوں کی مذمت

اوٹاوا( نمائندہ خصوصی)کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتِ حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی حکومت کو اس بحران کو روکنے میں ناکامی پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی اور دو ریاستی حل پر زور دیا ہے۔

کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ غزہ میں انسانی بحران تیزی سے خطرناک حدوں کو چھو رہا ہے، جہاں لاکھوں فلسطینی نقل مکانی، فاقہ کشی، اور طبی سہولیات کی شدید کمی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا کی طرف سے فراہم کردہ انسانی امداد تاحال متاثرین تک نہیں پہنچ سکی، جو بین الاقوامی اداروں کی قیادت میں فوری طور پر تقسیم ہونی چاہیے۔

مارک کارنی نے کہا”اسرائیل کی جانب سے انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹ بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ایسی صورتِ حال ناقابلِ قبول ہے۔”

انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ نیک نیتی سے فوری جنگ بندی پر مذاکرات کریں۔ کینیڈا نے ایک بار پھر حماس سے تمام یرغمالیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ مغربی کنارے اور غزہ کی علاقائی خودمختاری کا احترام کرے۔

وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ کینیڈا ایک ایسا دو ریاستی حل چاہتا ہے جو فلسطینیوں اور اسرائیلیوں، دونوں کے لیے امن اور سلامتی کو یقینی بنائے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگلے ہفتے نیویارک میں منعقد ہونے والی اقوامِ متحدہ کی اعلیٰ سطحی کانفرنس برائے دو ریاستی حل میں کینیڈا کی وزیرِ خارجہ بھرپور شرکت کریں گی تاکہ اس مقصد کو عالمی سطح پر آگے بڑھایا جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں