کینیڈین سپریم کورٹ میں کلب لنک کیس میں اوٹاوا شہر کی اپیل مسترد

اوٹاوا( نمائندہ خصوصی+کینیڈین سپریم کورٹ)کینیڈا کی سپریم کورٹ نے اوٹاوا شہر کی جانب سے دائر اپیل سننے سے انکار کردیا، جس کے بعد کلب لنک کو کناتا گالف اینڈ کنٹری کلب کی زمین پر تقریباً 1500 گھروں کی تعمیر کا حق حاصل ہوگیا ہے۔

کینیڈین میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ آف کینیڈا نے جمعرات کے روز اوٹاوا شہر کی اپیل مسترد کردی، جس میں کلب لنک کی زمین پر ہاؤسنگ پراجیکٹ کی اجازت کو چیلنج کیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد کئی سالوں سے جاری قانونی جنگ کا اختتام ہوگیا ہے۔

یہ مقدمہ 1981 کے اُس تاریخی معاہدے پر مبنی تھا جس میں اُس وقت کے کناتا شہر اور ڈویلپرز کے درمیان طے ہوا تھا کہ علاقے کا کم از کم 40 فیصد حصہ گرین اسپیس کے طور پر محفوظ رکھا جائیگا۔

فروری 2021 میں اونٹاریو سپیریئر کورٹ کے جج نے قرار دیا تھا کہ یہ معاہدہ اب بھی ’’مؤثر اور قابلِ نفاذ‘‘ ہے، تاہم بعد میں اونٹاریو کورٹ آف اپیل نے یہ فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدہ اہم ضرور ہے لیکن یہ زمین کو ہمیشہ کیلئےگرین اسپیس قرار نہیں دیتا۔ نومبر 2021 میں اونٹاریو کی اعلیٰ عدالت نے حتمی طور پر فیصلہ دیا کہ کلب لنک تعمیرات کا حق رکھتا ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اوٹاوا کے میئر مارک سٹکلف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا’’میں اور کونسلر کیتھی کری سپریم کورٹ کے فیصلے پر گہری مایوسی کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ فیصلہ کناتا لیکس کے رہائشیوں کے لیے مایوس کن ہے لیکن ہم انہیں یقین دلاتے ہیں کہ شہر کے پاس موجود تمام اختیارات استعمال کریں گے تاکہ 1981 میں کیے گئے وعدے کو یقینی بنایا جاسکے۔‘‘

میئر نے واضح کیا کہ شہر اس پراجیکٹ کیلئے کوئی سہولت یا ایزمنٹ فراہم نہیں کریگااور نیشنل کیپیٹل کمیشن کے ساتھ مل کر اپنا مؤقف مضبوط کریگا۔کناتا نارتھ کی کونسلر کیتھی کری نے کہا کہ وہ اب بھی پراجیکٹ رکوانے کی امید رکھتی ہیں اور یاد دلایا کہ اونٹاریو لینڈ ٹربیونل نے 192 شرائط رکھی ہیں جنہیں پورا کرنا لازمی ہے۔ ان شرائط میں اسٹورم واٹر انفراسٹرکچر کا مسئلہ بھی شامل ہے اور اب تک کوئی ایسا پلان پیش نہیں کیا گیا جو شہر کو منظور ہو۔

اپنا تبصرہ لکھیں