ہیلیفیکس (سی بی سی نیوز)کینیڈین میوزیم آف امیگریشن ایٹ پیئر 21 کی سی ای او میری چیپ مین پر سرکاری تحقیقاتی رپورٹ میں سنگین ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق چیپ مین نے عملے پر چِلّانے، بدسلوکی کرنے اور غیر مناسب الفاظ استعمال کرنے سمیت ایک دہائی پر محیط ایسا رویہ اختیار کیا جس سے ملازمین کو شدید ذہنی و جذباتی نقصان پہنچا۔
فیڈرل سیکٹر کی انٹیگریٹی کمشنر ہیریئٹ سولوی نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ چیپ مین نے اپنے سینئر لیڈرشپ ٹیم کو عوامی طور پر “سَلَٹس” کہہ کر پکارا، جب کہ کئی ملازمین نے بتایا کہ وہ چیپ مین کے رویے سے خوفزدہ تھے، گھبراہٹ کے دورے پڑتے تھے، اور بولنے سے ڈرتے تھے کیونکہ وہ اکثر کہتی تھیں کہ “ہر کوئی قابلِ تبديل ہے”۔
تحقیق کے مطابق، کچھ متاثرہ افراد نے خود کو نقصان پہنچانے کے خیالات تک کا اظہار کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ ایک دفعہ کی غلطی نہیں بلکہ برسوں جاری رہنے والا رویہ تھا جو وفاقی عوامی اداروں پر عوام کے اعتماد کو مجروح کرتا ہے۔
چیپ مین، جنہیں 2011 میں ہارپر حکومت نے تعینات کیا تھا اور بعد ازاں 2016 اور 2021 میں دوبارہ مقرر کیا گیا، نے تحقیقاتی رپورٹ سے اختلاف کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ کیس کا ازسرِنو جائزہ لیا جانا چاہیے۔ ان کی سالانہ تنخواہ 2 لاکھ 21 ہزار 700 ڈالر تک ہے۔
وفاقی وزیر مارک ملر نے رپورٹ کو “تشویشناک” اور الزامات کو “اگر درست ہوں تو ناقابلِ قبول” قرار دیتے ہوئے کہا کہ میوزیم کے بورڈ کو فوری کارروائی کرنی چاہیے۔ وزیر نے بتایا کہ چیپ مین کی مدتِ ملازمت اکتوبر میں ختم ہو چکی تھی جس میں 90 دن کی توسیع دی گئی ہے۔
دو سالہ تحقیق میں 19 گواہوں کے انٹرویوز شامل تھے، جن میں میوزیم کے تقریباً ایک تہائی ملازمین بھی شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق متعدد ملازمین چیپ مین کے رویے کو بُلینگ، خوف پیدا کرنے اور اختیارات کے غلط استعمال کے مترادف قرار دیتے ہیں۔
الزامات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چیپ مین نےخواتین ملازمین کی عمر کے مطابق درجہ بندی کی،اسٹاف کیلئےان کی شکل و صورت پر مبنی نام رکھے،کہا کہ میوزیم میں “کوئی خوبصورت مرد” نہیں،ایک معروف خاتون ایتھلیٹ کے بارے میں غیر مناسب تبصرہ کیا،ماضی میں غصے میں یونین کارڈز کا گٹھا اسٹاف پر پھینکا۔
چیپ مین نے اپنے تحریری ردعمل میں کئی الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ بعض باتیں سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کی گئیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے “sluts” کا لفظ استعمال کیا، مگر دعویٰ کیا کہ یہ “تضحیک نہیں بلکہ ٹیم کے ساتھ یکجہتی کے طور پر” کہا تھا۔
کمشنر نے چیپ مین کا جواب “ناکافی” قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ عملے کی ذہنی و جذباتی صحت کے لیے بیرونی ماہرین سے فوری معاونت فراہم کی جائے۔
چیپ مین کی جانب سے جمعرات کو میوزیم کی سالانہ عوامی میٹنگ کی میزبانی کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم الزامات سامنے آنے کے بعد یہ اجلاس ملتوی کر دیا گیا ہے۔ وزیرِ اعظم کے دفتر نے تاحال چیپ مین کے مستقبل کے بارے میں کوئی جواب نہیں دیا۔

