اوٹاوا(نمائندہ خصوصی)کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو 15 سے 17 جون 2025 کے دوران البرٹا کے خوبصورت پہاڑی مقام کیناناسکس میں منعقد ہونے والے 51ویں G7 سربراہی اجلاس میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی باضابطہ دعوت دی ہے۔
یہ دعوت ایسے وقت میں دی گئی ہے جب کینیڈا اور بھارت کے تعلقات میں گزشتہ برس سخت کشیدگی دیکھنے میں آئی، خاص طور پر سری ہردیپ سنگھ نِجار کے قتل کے بعد، جس میں کینیڈین حکومت نے بھارتی ریاستی عناصر کو ملوث قرار دیا تھا۔ وزیراعظم کارنی کی جانب سے یہ دعوت سفارتی کشیدگی کو کم کرنے اور بات چیت کا راستہ دوبارہ کھولنے کی ایک سنجیدہ کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
وزیراعظم مودی نے دعوت قبول کر لی ہےاور سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا”وزیراعظم مارک کارنی سے بات چیت کر کے خوشی ہوئی۔ جی 7 سمٹ میں ملاقات کے منتظر ہیں۔”
وزیراعظم کارنی نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا”بھارت دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ہے اور عالمی سپلائی چین، توانائی تحفظ، مصنوعی ذہانت، اور معدنی وسائل جیسے امور میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ ایسے عالمی مسائل پر مؤثر گفتگو کیلئے بھارت کی شمولیت ناگزیر ہے۔”
تاہم اس دعوت پر تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ ورلڈ سکھ آرگنائزیشن آف کینیڈا نے اس فیصلے کو “کینیڈا کے جمہوری اقدار کی خلاف ورزی” قرار دیا اور نِجار کے قتل کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ “قاتل کو خوش آمدید کہنا شہداء کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔”
کینیڈین پارلیمان کے رکن سوکھ دھلیوال نے بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا”یہ فیصلہ ایک غلط پیغام دے رہا ہے کہ کوئی بھی کینیڈا میں آ کر شہریوں کو قتل کر سکتا ہے اور بغیر کسی جوابدہی کے واپس جا سکتا ہے۔”
ذرائع کے مطابق جی-7 کے دیگر ارکان خاص طور پر جی-6 ممالک کی جانب سے بھارت کو میز پر بٹھانےکیلئے دباؤ تھا کیونکہ وہ بھارت کو عالمی سلامتی اور معیشت میں ایک اہم اسٹیک ہولڈر کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اس دباؤ کے نتیجے میں وزیراعظم کارنی نے مودی کو دعوت دینے کا فیصلہ کیا۔
دونوں ممالک نے خفیہ سطح پر بات چیت کا عمل دوبارہ شروع کر دیا ہے، جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون، شواہد کا تبادلہ، اور دو طرفہ ذمہ داریوں پر گفتگو شامل ہے۔ تاہم، وزیراعظم کارنی نے نِجار کے قتل سے متعلق جاری تحقیقات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا اور کہا کہ قانونی عمل کے مکمل ہونے کا انتظار کیا جائے گا۔
وزیراعظم مارک کارنی کی جانب سے بھارتی وزیراعظم کو G7 سمٹ میں شرکت کی دعوت نہ صرف ایک سفارتی جُرأت کی علامت ہے بلکہ یہ فیصلہ کینیڈا کی عالمی اسٹیج پر متوازن قیادت کو اجاگر کرتا ہے۔ جہاں ایک طرف حکومت عالمی سطح پر تعاون کو فروغ دینا چاہتی ہے، وہیں اندرون ملک انصاف، شفافیت اور انسانی حقوق کی پاسداری کا عزم بھی برقرار رکھنا ضروری ہے۔

