کیوبیک حکومت کا عوامی مقامات پر عبادات پر پابندی کا بل زیر غور

کیوبیک(نامہ نگار) حکمران جماعت کوالیژن ایونیر کیوبیک (Coalition Avenir Quebec) کی حکومت عوامی مقامات پر عبادات کرنے پر پابندی کیلئےقانون سازی پر غور کر رہی ہے۔

سیکولرازم کے وزیر ژاں-فرانسوا روبیرژ نے کہا”کیوبیک کے وزیرِاعلیٰ نے مجھے سیکولرازم کو مزید مضبوط کرنے کا مینڈیٹ دیا ہے، اور میں اس مینڈیٹ کو پوری محنت اور ذمہ داری کے ساتھ پورا کرنے کیلئے پرعزم ہوں۔”

ابتدائی طور پر ایک حکومتی مشاورتی کمیٹی نے سفارش کی تھی کہ یہ معاملہ مقامی میونسپل حکومتوں پر چھوڑ دیا جائے، تاہم صوبائی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ قدم وہ خود اٹھائے گی۔

روبیرژ نے مزید کہا کہ “سڑکوں پر بڑھتی ہوئی عبادات کی روایت کیوبیک میں ایک سنگین اور حساس مسئلہ ہے۔ گزشتہ دسمبر میں ہماری حکومت نے خاص طور پر مونٹریال میں اس رجحان پر اپنی بے چینی کا اظہار کیا تھا۔”

گزشتہ سال کے آخر میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران وزیرِاعلیٰ فرانسوا لیگو نے کہا تھا کہ عبادات صرف مذہبی اداروں تک محدود ہونی چاہیے اور عوامی پارکوں یا سڑکوں پر برداشت نہیں کی جائے گی۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ عوامی عبادات کی تعریف کس حد تک کی جائے گی۔ مثال کے طور پر اگر کوئی گروہ غیر قانونی طور پر عوامی چوک یا سڑکوں کو بلاک کرے تو یہ پہلے ہی کینیڈین کریمنل کوڈ کے تحت جرم ہے۔

تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ پابندی چرچ کے کھلے آسمان تلے ہونے والے اجتماعات، عید کی نمازوں یا یہودیوں کے مذہبی تہوار روش ہشانہ (New Year) کے موقع پر ہونے والی رسم تشلیخ پر بھی لاگو ہوگی، جہاں وہ علامتی طور پر اپنے گناہ پانی میں بہاتے ہیں؟

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دو ہفتے قبل پلیس ڈارم (Place d’Armes) مونٹریال میں واقع نوتر دام بیسیلیکا چرچ کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ یہ احتجاج ایرانی و خواتین کے حقوق کی کارکن مندانہ جوان کی قیادت میں ہوا، جنہوں نے اس سے قبل کہا تھا کہ “اسلامسٹ گروپ عوامی مقامات پر دعا مذہبی عقیدت کیلئے نہیں بلکہ ایک نظریاتی مسلط کرنے کے طریقے کے طور پر کر رہے ہیں۔ وہ ہماری جگہوں پر قبضہ کر رہے ہیں۔”

اسی ہفتے حکومت نے اشارہ دیا تھا کہ بل 21 کے تحت مذہبی علامات پر پابندی کو مزید بڑھا کر پبلک ڈے کیئرز کے اساتذہ، منتظمین اور دیگر عملے پر بھی لاگو کیا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں