ایک طویل عرصہ سے بہترین افسر کے طور پر کام کرنے والے کیپٹن اسداللہ خان بھی پنجاب حکومت چھوڑ گئے ،وہ اچھے اور اپ رائٹ افسر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں اس لئے وفاقی حکومت نے انہیں ایک بہت اچھی سمجھی جانے والی پوسٹ ،چیف ایگزیکٹو افسر نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کے طور پر تعینات کیا ہے ، کیپٹن اسد کے پاس پنجاب میں مختلف اعلیٰ انتظامی عہدوں پر کام کا وسیع تجربہ ہے مگر این ایچ اے کے چیف کے طور پر انہیں پنجاب میں سیکرٹری مواصلات و تعمیرات رہنے کا تجربہ بہت کام آئے گا ، سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو کے طور پر ان کا کام بہت شاندار تھا ،ایک اپ رائٹ افسر کے طور پر وہ ،،انجینئروں اور ٹھیکیداروں ،، کے اس محکمے سے بھی سر خرو ہو کر نکلے ،ایسے ہی موجودہ سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو سہیل اشرف بھی کمال کے محنتی اور دھن کے پکے ہیں جس سرعت سے پنجاب میں سڑکوں ،پلوں اور بلڈنگز کی تعمیر میں انہوں نے تیزی دکھائی یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں،اسی محکمے کے ایک اور شاندار سیکرٹری میجر اعظم سلیمان بھی تھے ،وہ جہاں بھی گئے حسن کارکردگی کی داستان چھوڑ آئے ،کیپٹن اسد ، سہیل اشرف اور ان جیسے کئی دوسرے افسر میجر اعظم سلیمان کو اپنا گرو مانتے ہیں۔
مجھ جیسوں کو ابھی تک یہ ہضم نہیں ہو رہا تھا کہ پنجاب کے ایک اچھے افسر بیرسٹر نبیل اعوان کو وفاق جانے پر اس وقت مجبور کر دیا گیا جب وہ چیئرمین پی اینڈ ڈی کے طور پر اکارڈنگ ٹو بک مثالی کام کر رہے تھے اور اب کیپٹن اسد اللہ کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا گیا،کیوں؟ بیرسٹر نبیل اور کیپٹن اسد دونوں ہی بڑی مثبت اپروچ رکھتے ہوئے سرکار کے ساتھ ساتھ عوامی فلاح کے کاموں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں مگر کسی بھی خلاف ضابطہ کام کی ادئیگی کے لئے وہ زبانی کلامی اور لکھ لکھا کر اختلاف ضرور کرتے ہیں،جو عوامی مفاد میں تو ضرور ہوتا ہے مگر حکمرانی میں نہ سننے والوں کی سماعتوں پر اچھا اثر نہیں ڈالتا،یہ رویہ اچھی گورننس کی عکاسی نہیں کرتا ، اب یہ کہا جا رہا ہے کہ سنیئر افسروں نے وفاق میں بھی کام کرنا ہوتا ہے ،درست بات مگر جو افسر پنجاب میں بہترین کام کر رہے ہیں ان کو چھوڑنے کی مثالیں کم کم ہی ہیں،اگر وفاق انہیں بلاتا بھی تھا تو پنجاب روک لیتا تھا اور ان سے اچھا کام لیتا تھا، موجودہ وزیر اعظم میاں شہباز شریف جب دوسری بار وزیر اعلیٰ پنجاب بنے تھے تو اس وقت کے چیف سیکرٹری جاوید محمود کے ساتھ میاں شہباز شریف نے بے شمار ایسے سینئر افسروں کو رکھا ہوا تھا جو چیف سیکرٹری کے بیج میٹ بھی تھے ،انہیں پی اینڈ ڈی،بورڈ آف ریونیو،فنانس ،ایکسائز اور کئی دوسرے اچھے محکموں میں تعینات کیا گیا تھا تاکہ صوبے میں بہتری آ سکے ،مجھے سمجھ نہیں آ رہی آج زاہد زمان جیسے بہت اچھے چیف سیکرٹری کے ہوتے یہ کیوں ہو رہا ہے؟
ان دنوں شائد مسئلہ پنجاب کی انتظامی و سیاسی ساخت بھی ہے ، جو چند بڑے پنجاب کے مدارالمہام ہیں ،وہ وزیر اعلیٰ کو خوش کرنے کے لئے اچھے افسروں کو پسند نہ آنے والے کام کا ذمہ دار اور اپنے آپ کو ہمیں سب پتہ ہے کی مثال بنا رہے ہیں ، صوبائی حکومت کے یہ بدلتے ہوئے رجحانات اچھے نہیں ہیں ، ایک زمانہ تھا جب پنجاب “اچھے افسروں کا صوبہ” کہلاتا تھا، یہی وجہ تھی کہ صوبہ اپنے قابل، ایماندار اور ڈیلیور کرنے والے افسروں کو دوسری جگہوں پر بھیجنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتا تھا، مگر اب منظرنامہ یکسر بدل گیا ہے۔ کیپٹن اسد اللہ،بیرسٹر نبیل اعوان جیسے باصلاحیت اور نتائج دینے والے افسر جب وفاق یا دوسرے صوبوں میں چلے جاتے ہیں تو اس کے پیچھے شائد پنجاب کی بہتری کی بجائے کچھ سیاسی اکابرین کی ذاتی خواہشات اور ایک وسیع تر مفاد نظر آ رہا ہے، پنجاب میں کام کرنے والی بیوروکریسی سول سروس میں ہمیشہ سے منظم اور بہترین گردانی جاتی ہے ،پنجاب کی آبادی سب سے زیادہ ، انتظامی اضلاع سب سے زیادہ مگر سیاسی دباؤ بھی سب سے شدید ہوتا ہے ، اس لئے یہاں کام کرنے والا بیوروکریٹ کندن بن کر نکلتا ہے،یہاں ترقیاتی کاموں کا حجم سب سے زیادہ ہے ، یہ وہ ماحول ہے جہاں ایک اچھا افسر بہت کچھ سیکھتا ہے مگر اب تبادلوں اور فیصلہ سازی میں سیاسی مداخلت بڑھ رہی ہے ، جب کسی صوبے میں ایک اچھا افسر اپنی ٹیم بنائے بغیر ہی تبدیل ہو جائے اور معاملات کی سمت روزانہ کی بنیاد پر بدل رہی ہو، وہاں مستحکم کارکردگی دکھانا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی وہ پہلا بنیادی محرک ہے جس نے پنجاب کے کئی قابل افسروں کو وفاق یا دوسرے صوبوں میں جانے پر آمادہ کیا ، وفاق میں اب حالات بہتر ہو رہے ہیں ، اب وہاں اعلیٰ افسروں کو پالیسی سازی کا براہِ راست حصہ بننے کا موقع ملتا ہے ،بین الاقوامی اداروں کے ساتھ کام کرنے کاتجربہ حاصل ہوتا ہے، کیپٹن اسد اللہ جیسے افسر، جو عوامی سروس ڈلیوری اور مؤثر ایڈمنسٹریشن کو سمجھتے ہیں، ان کے لئے وفاق میں کام کرنا خود ایک نوعیت کا پیشہ ورانہ اپ گریڈ ہے، پنجاب میں انہیں ایک غیر اہم محکمہ میں اس وقت تبدیل کیا گیا جب وہ مثالی کام کر رہے تھے ،اس طرح کے افسروں کے تبادلوں سے پورے سروس پلان، سسٹم اور ریفارمز ادھورے رہ جاتے ہیں ۔
پنجاب میں پچھلے کچھ سالوں سے گورننس زیادہ تر ’ری ایکٹو‘ موڈ پر چل رہی ہے، اچانک فیصلے، بار بار حکمت عملی تبدیل کرنا، مختلف گروپس کے سیاسی اثر و رسوخ کی مسلسل رسہ کشی ، اس سب نے اِن پٹ اور آؤٹ پٹ کے درمیان بڑا خلا پیدا کیا ہے، بہت سے اچھے افسروں نے محسوس کیا کہ ان کی سفارشات پر عمل نہیں ہوتا، پا لیسی کنٹینیوٹی نہیں ہے ، انتظامی اختیارات میں رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے ، چند افسروں نے چیف سیکرٹری اور چند وزراء نے وزیر اعلیٰ کے ارد گرد ایک مضبوط ہالہ بنایا ہوا ہے جس میں کسی اور کو اپنی رائے دینے کا اختیار نہیں ، ایسے ماحول میں قابل افسر اپنی پوری صلاحیت بروئے کار نہیں لا پاتے۔
محسوس ہوتا ہے پنجاب میں پوسٹنگ اور ٹرانسفر ایک سسٹم کے تحت نہیں بلکہ ایک خاص سوچ کے تحت ہونے لگے ہیں، جس افسر کے بارے میں یہ سمجھا گیا کہ وہ ہماری بات نہیں سنتا ،کہا گیا نہیں مانتا اسے کسی نہ کسی وجہ سے تبدیل کر دیا جاتا ہے ، اس کے برعکس، کمزور یا غیر نمایاں کارکردگی والے افسر بعض اوقات صرف ’’سیاسی کمفرٹ‘‘ کی بنیاد پر اہم عہدوں پر برقرار ہیں ،بیوروکریسی ایک مسلسل چلنے والی مشین ہے جس میں تجربہ، نظم اور شہرت انتہائی اہم ہوتے ہیں، جب یہ مشین اچانک اپنے اچھے اور تجربہ کار پرزے کھونے لگے تو نقصانات پیدا ہوتے ہیں، یہ صورتحال پنجاب کے انتظامی مستقبل کے لئے کسی خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں، کیپٹن اسد اللہ اور ان جیسے افسروں کا پنجاب سے جانا ایک علامتی مثال ہے ، جب ایسے افسر پنجاب چھوڑتے ہیں تو یہ پیغام جاتا ہے کہ نظام خود اپنی سپورٹ سسٹم کھو رہا ہے،میری نظر میں اُن کی وفاقی پوسٹنگ اُن کے کیریئر کے لئے اچھی ہے مگر ایک فکری سوال بھی اٹھاتی ہے کہ پنجاب اپنے باصلاحیت افسروں کو روک کیوں نہیں پا رہا ؟

