جدوجہد کے پرانے ساتھی اور دوست علامہ صدیق اظہر نے گزشتہ دنوں کہا، چودھری کیابات ہے۔ آج کل زیادہ رجحان صوفی ازم کی طرف ہو گیا ہے۔ میں نے عرض کیا یہ کوئی تبدیلی نہیں، میں اول و آخر مسلمان ہوں اور دعا ہے کہ موت کے وقت بھی کلمہ نصیب ہو۔ البتہ عمر کے تقاضے نے توجہ ذرا آخرت کی طرف کر دی ہے، بقول شاعر
غافل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی
گردوں نے گھڑی عمر کی اک اور گھٹا دی
یوں عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ عاقبت کا خیال بھی لازم ہے، تاہم ان دنوں میری تحریروں سے جوتاثر لیا جا رہا ہے وہ اس حد تک تو درست ہے کہ کافی عرصہ (خصوصاً) غزہ کی لڑائی اور کشمیریوں پر بڑھتے ہوئے بھارت کے ظلم و ستم نے جھنجھوڑا ضرور ہے اور مجھے یقین ہے کہ ہر پاکستانی کا دل بھی دھڑکا ہوگا اور اس نے اور کچھ نہیں تو اللہ سے دعا ضرور کی ہوگی۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے یہ موقع فراہم کیا ہوا ہے کہ لکھ کر گوش گزار کروں تو اسی ذریعے سے عرض کر دیتا ہوں، دین اسلام تو ہے ہی رحمت کا دین اور اللہ اور اس کے رسولؐ نے ایک فرد کے قتل کو انسانیت کا قتل قرار دیا اور دین حق کے ماننے والوں کو نصیحت کی کہ وہ ایسے عمل سے باہر رہیں، حالانکہ یہ سب دوسرے مذاہب کے حضرات کے لئے بھی ہے ہم ذرا غور کریں تو ایک امر واضح ہے، ہمیں ہمارے پیغمبروں اور رسول اکرمؐ نے آگاہ کیا کہ اللہ ہے اور یہ سب اسی کے نور کا ظہور ہے۔ہم ان کی تعلیمات کی روشنی میں اپنے اعمال استوار کرتے ہیں اور کرنا چاہئیں، لیکن ذرا غور فرمالیں۔ عیسائیوں کا بھی گاڈ (God) ہے۔ ہندوؤں کا پرماتما اور بدھ حضرات کے ساتھ ساتھ سکھوں کا بھی خدا ہے۔ یوں یہ سب مذاہب ایک ذات پر تو متفق ہیں اور وہی ذات زمان و مکان کو پیدا کرنے والی اور یہ زمان و مکان بھی اسی کے ہیں، لیکن اس زمین پر ایسے لوگ قابض ہو گئے ہیں جو اپنے اپنے مذہب کا نام لے کر انتشار پسند بن چکے، حتیٰ کہ خدا کو بھی بھول گئے، غزہ اور کشمیر کے مظلوم عوام کے لئے مسلمان ہی نہیں، دنیا بھر کے انصاف پسند عوام بھی مضطرب ہیں اور ان کی مظلومیت اور نسل کشی کے لئے آواز بلند کررہے ہیں اور جب سے امریکی صدر ٹرمپ نے تکبرانہ انداز میں خود کو دنیا کا بادشاہ تصور کرکے یکطرفہ نوعیت کے اعلانات شروع کئے ہین، تب سے دینی بھائی اور انسانیت کے حامی اپنی آواز کو بلند کررہے ہیں، موجودہ حالات میں یہ اور بھی لازم ہو گیا ہے۔
جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں نے اپنے بزرگوں مولانا ابوالحسنات،سید صاحب، پیر صدر المشائخ فضل عثمان کابلی مجددی، مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا مودودی اور ایسے دیگر علماء کرام اور دین دار حضرات سے زمانہ کے حالات کی روشنی میں قیامت کے بارے میں سنا اور پھر نائن الیون کے بعد پروفیسر علامہ یحییٰ نے اپنی بھرپور دانش اور کوشش سے مصدقہ احادیث کی روشنی میں بتایا کہ اس دنیا میں مسلمان عمل سے دور ہوئے تو ان کے لئے زوال شروع ہو جائے گا، میں تب سے گاہے بگاہے اپنے بھائیوں سے عرض کرتا رہتا ہوں کہ تائب ہوں اور پھر اللہ کی طرف رجوع کریں جو بڑا غفورالرحیم اور معاف کر دینے والا ہے۔ ہم پاکستانیوں کو خاص طور پر اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے کہ یہاں اکثریت دل و جان سے انسانیت کی فضا چاہتی ہے اور اپنی طرف سے کوشش بھی کرتی لیکن رحمانیت کے ساتھ شیطانیت کا جو دخل ہے وہ بھی حقیقت رکھتا ہے دنیا میں اگر اسرائیل(صیہونی) ایک بڑا فتنہ ہے تو مودی کی شکل میں متعصب ہندوتوا کا پیرو کار برصغیر میں بھی پایا جاتا ہے۔ یہ دنیا اب امتحان گاہ ہے کچھ بڑھ گئی کہ یہاں امریکہ جیسا ملک اور اس کے بائیڈن اور اب ڈونلڈ ٹرمپ جیسے صدور صیہونیت سے متاثر اور اس کے مددگار ثابت ہوئے ہیں، یہ دنیا کے امن کے لئے مضر ہیں، غزہ میں تسلسل سے جو ہوا اور کشمیرمیں جو ہو رہا اور جاری ہے اس سے تو انسانیت بھی شرمانے لگی ہے۔ غزہ کے حوالے سے یہ وضاحت بھی لازم ہے، گو وہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے لیکن عیسائی بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں، یاد کریں تو یاد آئے گا کہ مجاہدہ لیلیٰ خالدبھی عیسائی ہی تھیں، اس کے باوجود اسرائیل نے لحاظ نہیں کیا تو جوبائیڈن اور ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی خیال نہیں آیا کہ ہر دو صیہونیوں کے رشتہ دار اور ان کے مددگار ہیں۔اس لئے میں تو سمجھتا اور دل سے دعا کرتا ہوں کہ ہم سب واپس اپنے اصل کو لوٹ جائیں اور رسولؐ برحق کی پیروی میں جہنم کی راہ کو چھوڑ کر بخشش کی راہ میں حائل کانٹے چنتے چلے جائیں۔
حالیہ صورت حال میں اب تک اسلامی کانفرنس کا سربراہی اجلاس طلب کرلیا جانا چاہیے تھا۔ میری رائے میں تو اس اجلاس کا ایک پورا سیشن سخت طرح ”اِن کیمرہ“ ہونا چاہیے اور مسلمان ممالک کے سربراہوں کو سرجوڑ کر اپنی قوت، طاقت اور کمزوریوں کا ادراک کرنا چاہیے اور ایسا لائحہ عمل طے کرنا چاہیے جس سے دشمن کا مقابلہ کرنے کے اہل ہونے کے لئے ٹیکنالوجی کی طرف جانا چاہیے۔ دنیا سوویت یونین کے ہوتے ہوئے دو بلاکوں میں منقسم تھی، اس کی وجہ سے مغربی بلاک کو خلیج اور دیگر مسلمان ممالک کی ضرورت تھی ان کی دولت کے باعث امریکہ ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھتا رہا اور ہم مسلمان دولت دے کر اس کی ضروریات پوری کرتے اور ٹیکنالوجی میں محتاج رہے، حالانکہ وہ دور ایسا تھا جب دوسرے بلاک سے بھی ٹیکنالوجی حاصل کی جا سکتی تھی، اگر ہم ہوشیار ہوتے اور اپنا اور دنیا بھر کے مسلمانوں کا مفاد پیش نظر رکھتے تو بھٹو کو اسلامی کانفرنس بلاکر ٹیکنالوجی کی طرف پیش قدمی اور یہ پیشکش کہ پاکستان صنعت کو ٹیکنالوجی سے تبدیل کرنے کی اہلیت رکھتاہے اسے اخراجات کی ضرورت ہے۔ نہ کرنا پڑتی جو انہوں نے کی اور ایٹمی پروگرام بھی شروع کرلیا، ظالموں نے سازشوں کے جال پھیلائے۔ بھٹو، شاہ فیصل، قذافی اور جمال ناصر کو راہ سے ہٹا دیا، آج کے دور میں ترکیہ یہ فرض ادا کر سکتا ہے، مسلمان ممالک کو اپنے تحفظات دور کرکے متحد تو ہونا چاہیے۔ مجھے یقین ہے کہ وقت ان کو مجبور کر دے گا ورنہ پھر مسلمان کی غلط روش اور دشمن کی سازش کے تانے بانے دجال کی آمد اور اس حوالے سے بیان کئے گئے واقعات بھی ظہور پذیر ہوں گے جن کی جھلک آج کل نظر آ رہی ہے۔ ضروری ہے کہ ہم اللہ کی ذات بابرکات پر یقین رکھیں اور عیوب سے تائب ہو کر متحد ہوں اور اللہ سے مدد طلب کریں جو ضرور آئے گی۔
ایک روائت ہے کہ حضور اکرمؐ نے فرمایا تھا کہ مشرق کی طرف سے ٹھنڈی ہوا آتی ہے تو قطعی درست ہے، آج بھی اس گناہ اور غلط کاریوں میں لتھڑی قوم کے اندر ایمان کی لو موجود ہے، یقین کرنا چاہیے کہ ہم پاکستانی اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں تو پار لگ سکتے ہیں، اس حوالے سے اور بھی بہت کچھ کہا جا سکتا ہے لیکن تھوڑے کہے کو زیادہ جانیں اور ہر کوئی اپنی جگہ اپنے اعمال کا جائزہ لے، سیدھی راہ اختیار کرے اور اللہ سے لو لگائے، انشاء اللہ کامیابی قدم چومے گی۔
جہاں تک میرے صوفی ازم کی طرف جھکاؤ کی بات ہے تو یہ نئی نہیں، ہماری پرورش جس ماحول میں ہوئی وہ رمضان کی برکتوں، عیدمیلادالنبیؐ کی خوشیوں اور ختم نبوت جیسی تحریکوں میں بھی حصہ لینے میں گزری۔ پھر وہ وقت بھی آیا جب ہم جدوجہد کے ساتھیوں نے جبر کے سامنے دیوار کھڑی کی، جیل، آنسو گیس، لاٹھی چارج اور برطرفیوں کے ذائقے چکھے، اگرچہ ہماری یہ سب جدوجہد رائیگاں گئی اور جو کامیابی ملیں وہ کسی اور نے سمیٹ لیں اللہ سے دعا ہے کہ صراط مستقیم پر چلتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔

