گریٹا تھیونبرگ کا غزہ پر اسرائیل کی نسل کشی میں عالمی حکومتوں کی شراکت پر سخت تنقید

یونان (نمائندہ خصوصی+ایجنسیاں)سویڈش ایکٹیوسٹ گریٹا تھیونبرگ نے کہا ہے کہ دنیا کی حکومتیں غزہ میں اسرائیل کی جاری نسل کشی کو ممکن بنانے میں مدد دے رہی ہیں۔ انہوں نے گلوبل صمود فلوٹیلا کے شرکا کی گرفتاری کے پس منظر میں عالمی حکومتوں کی ناکامی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

گریٹا تھیونبرگ نے یونان پہنچنے کے بعد دنیا بھر کی حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ تل ابیب کے غزہ میں جاری نسل کشی کو جاری رکھنے میں معاونت فراہم کر رہی ہیں۔ گلوبل صمود فلوٹیلا، جو 45 کشتیوں پر مشتمل تھا اور اسرائیل کی غیر قانونی سمندری ناکہ بندی کو توڑنے کیلئے اسپین سے روانہ ہوا تھا، اسرائیلی بحریہ نے روک دیا اور تمام شرکا کو گرفتار کیا۔ سابق پاکستانی سینیٹر مشتاق احمد خان بھی اس قافلے میں شامل تھے اور اس وقت اسرائیلی حراست میں ہیں۔

گریٹا تھیونبرگ نے کہا کہ اصل مسئلہ قافلے کی گرفتاری نہیں بلکہ غزہ میں جاری نسل کشی ہے۔ انہوں نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت نسل کشی روکنے کیلئےاقدامات کریں، اسلحہ کی فراہمی بند کریں اور فلسطینیوں کی مدد کو یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ عالمی حکومتیں فلسطینیوں کے ساتھ غداری کر رہی ہیں اور بدترین جنگی جرائم کو روکنے میں ناکام ہیں۔ گریٹا نے اپنی اسرائیلی قید اور بدسلوکی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل مسلسل فلسطینی نسل کشی اور تباہی کو وسعت دے رہا ہے اور ایک پوری آبادی کو نابود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے تحقیقاتی ماہرین کے مطابق غزہ پر اسرائیلی حملے اکتوبر 2023 سے جاری ہیں، جن میں 67 ہزار سے زائد فلسطینی شہید، ہزاروں زخمی اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔گریٹا تھیونبرگ کا پیغام عالمی برادری کیلئے ایک تنبیہ ہے کہ غزہ میں جاری انسانی بحران کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں، اور فلسطینیوں کے حقوق کی حفاظت یقینی بنائی جائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں