جدہ (نمائندہ خصوصی) – نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ ’’گریٹر اسرائیل منصوبہ‘‘ ناقابلِ قبول اور خطے کے امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے، پاکستان اسے سختی سے مسترد کرتا ہے۔
او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے غیرمعمولی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب غزہ لہو لہو ہے اور اسرائیل عالمی قوانین کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔
“غزہ کی صورتحال پر شدید تشویش”
اسحٰق ڈار نے کہا کہ گزشتہ دو سالوں سے فلسطینی عوام کو وحشیانہ مظالم کا سامنا ہے، اسرائیلی حملوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے شہید ہوئے۔انہوں نے الزام لگایا کہ اسرائیل غزہ میں اسکولوں، اسپتالوں، پناہ گزین کیمپوں اور اقوام متحدہ کی سہولتوں پر حملے کر رہا ہے، جو انسانی حقوق کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
“گریٹر اسرائیل منصوبہ کی مخالفت”
وزیرخارجہ نے کہا کہ نیتن یاہو کا گریٹر اسرائیل سے متعلق بیان عرب قومی سلامتی اور علاقائی امن کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔پاکستان نے عرب۔اسلامی وزارتی کمیٹی اور 31 ممالک کے مشترکہ اعلامیے کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے اس منصوبے کو ’’ناقابلِ قبول اشتعال انگیزی‘‘ قرار دیا ہے۔
“انسانی امداد اور جنگ بندی پر زور”
اسحٰق ڈار نے کہا کہ غزہ میں شدید بھوک اور قحط کی صورتحال ہے، عالمی برادری کو فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ امدادی نظام ’’ظالمانہ فریب‘‘ ہے، اس لیے مکمل اور محفوظ انسانی امداد کی رسائی کو یقینی بنایا جائے۔
“دو ریاستی حل کی حمایت”
پاکستانی وزیرخارجہ نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کا مستقل حل صرف ’’دو ریاستی فارمولے‘‘ میں ہے۔انہوں نے اپیل کی کہ دنیا کی وہ ریاستیں جو ابھی تک فلسطین کو تسلیم نہیں کر رہیں، جلد از جلد یہ اقدام کریں۔ان کے مطابق قابلِ عمل، خودمختار اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست، 1967 کی سرحدوں کے مطابق، القدس الشریف کو دارالحکومت بنا کر قائم ہونی چاہیے۔
“پاکستان کا عزم”
اسحٰق ڈار نے کہا کہ پاکستان اپنے برادر عرب ممالک کے ساتھ کھڑا ہے اور فلسطینی عوام کی آزادی، خودمختاری اور انصاف کے حصول تک اپنی حمایت جاری رکھے گا۔

