خطے کے حالات بھی سنبھل نہیں پا رہےاور اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی طاقت کے زعم میں ایران کو پھر دھمکی ہی نہیں دی تہذیب سے بالاتر گفتگو بھی کی ہے حتیٰ کہ پھر سے خدائی دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایران کے روحانی پیشوا کو قتل کرنے سے گریز کیا اور اسرائیل کو بھی روکا،حالانکہ ان کے علم میں تھا کہ خامنہ ای کہاں چھپے ہوئے ہیں،ان کی یہ دھمکی مسلمان رہنما کو دی گئی ہے جو اپنے عقیدے کے مطابق موت پر یقین رکھتے اور ان کو علم ہے کہ جب اللہ کے حکم سے ان کی معیاد زندگی ختم ہونے پر روح قبض کرنے کا حکم ہو گا تو دنیا کی کوئی بھی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔بہرحال اس تازہ صورتحال پر لکھنے کو جی چاہ رہا ہے لیکن حالات کا جبر مجبور کر رہا ہے کہ پہلے اپنے ہی گریبان میں جھانک لیا جائے۔
قارئین کرام! اصل موضوع کے ذکر سے پہلے احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتا ہوں کہ بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، ٹرپنگ اور تاروں کے الجھاﺅ سے تو نجات نہیں مل سکی، شہری یہ سب برادشت کرنے پر مجبور ہیں یہ حالات جاری ہیں، مہنگائی بھی دم نہیں مارنے دیتی کہ سرکار نے ایک اور بم گرا دیا۔قدرتی گیس کے نرخوں کے علاوہ فکس چارجز میں اضافہ کر دیا ہے اور یہ اضافہ بھی سوئی ناردرن کی چور نما حکمت عملی کا مظہر ہے کہ گزشتہ کافی عرصہ سے لاہور گیس کی لوڈشیڈنگ کے علاہ کم تر دباﺅ(پریشر) کا بھی شکار ہے، چولہوں میں گیس دیئے کی لو کی طرح آتی ہے جس پر کھانا پکانا تو دور کی بات چاءبھی نہیں بنتی، صارفین مجبور ہیں کہ ایل پی جی استعمال کریں اور روٹیوں کیلئےبازار سے رجوع کریں، غالباً اسی کم دباﺅ کی روشنی میں فکسڈ چارجز بڑھا دیئے گئے ہیں کہ گیس ملے نہ ملے صارفین ادائیگی پر تو مجبور ہوں گے اور یہی حکمت عملی ہے جسے عوام کا درد کہتے ہیں۔کسی اشرافیہ کی اہم شخصیت کے ساتھ یہ صورت حال ہو تو عام صارف کی بھی سنی جائے۔اب تو شہری احتجاج بھی نہیں کرتے کہ ان میں سکت ہی نہیں۔مہنگائی ختم کرنے والوں کو نوید ہو کہ آج کے موسم میں پرچون والے لیموں 800 روپے فی کلو بیچ رہے ہیں۔یوں عام آدمی کی حالت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے،میں ان کی ترجمانی کرتے ہوئے احتجاج کرتا اور مطالبہ کرتا ہوں کہ گیس دو، گیس دو، گیس دو یا پھریہ ٹنٹنا ختم کرو اور اپنے میٹر اتار کر لے جاﺅ کہ صارفین فکسڈ چارجز اور ٹیکسوں سے تو محفوظ ہوں۔
قارئین! موضوع تو آج بھی ایوانوں کی کارروائی، تحریک انصاف کا رویہ اور پی ٹی آئی کے بیرسٹر حضرات کی ناکامی کا تھاکہ درمیان میں مندرجہ بالا دُکھ کا ذکر کرنا پڑا۔میں نے گذشتہ روز عرض کیا تھا پی ٹی آئی میں بیرسٹر حضرات کی معتدبہ تعداد ہونے کے باوجود تحریک انصاف کی حکمت عملی درست نہیں،اول تو گذشتہ انتخابات سے اب تک تحریک انصاف کو کے پی کے سوا تمام صوبوں،بلکہ پورے پاکستان میں دھاندلی نظر آئی ہے اور اس عمل کے خلاف وہ مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کی حکمت عملی یہ ہے کہ اپنے مستقل اور بانی رہنما کے طرزِ عمل کے مطابق مسلسل ہنگامہ آرائی کریں، حکومت کو کام نہ کرنے دیں، ایوان نہ چلنے دیں اور ساتھ ہی ساتھ عدالتوں سے رجوع کرتے رہیں۔ اس حوالے سے پی ٹی آئی کو کامیاب قرار دیا جا سکتا ہے کہ اس کے اراکین نے کسی بھی ایوان کی کارروائی میں سنجیدگی سے حصہ لے کر عوامی مسائل اُجاگر نہیں کئے،ہر اجلاس میں شدید ہنگامی آرائی کرتے اور پھر بائیکاٹ کر دیتے ہیں۔یوں حکمران اتحاد کو سادہ اکثریت سے اپنی قرارداد یا مسودات قانون منظور کرانے میں کامیابی مل جاتی ہے،حالانکہ یہ حضرات ایوانوں میں جاتے ہیں تو احتجاج ریکارڈ کرانے کے بعد سنجیدگی سے کارروائی میں حصہ لے کر عوام کو درپیش مشکلات پر بات کر سکتے ہیں لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کو بانی جماعت کی رہائی کے سوا اور کوئی فکر نہیں،اگر ہے تو یہ کہ ٹی وی کیمروں کے سامنے خود نمائی کریں۔
اب پنجاب اسمبلی کی کارروائی ملاحظہ کر لیں،وزیراعلیٰ مریم نواز تقریر کرنے لگیں تو اپوزیشن والوں نے اپنے معمول کے مطابق شور مچانا شروع کر دیا اور پھر ایوان کو سر پر اُٹھا لیا،ان حضرات نے سپیکر ڈائس کے سامنے پہنچ کر گھیراﺅ کی کیفیت پیدا کر دی اور بعض حضرات غلیظ زبان بھی استعمال کرتے رہے۔ سپیکر ملک احمد خان نے روکنے کی کوشش کی، کامیابی نہ ملنے پر انہوں نے مبینہ طور پر ہنگامہ کرنے والوں میں سے26 اراکین کی رکنیت معطل کر دی اور موقف اختیار کیا کہ آئین قانون کے مطابق اپوزیشن کو احتجاج کا حق ہے تاہم یہ احتجاج اخلاق کے دائرہ کار اور قانون و قواعد کے مطابق ہونا چاہئے۔ ملک احمد خان نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں آئین، قانون اور اسمبلی قواعد کے حوالے دے کر بتایا کہ ان کی طرف سے کی جانے والی کارروائی مجبوراً کی گئی کہ اپوزیشن والے حضرات اپنا رویہ درست نہیں کرتے، انہوں نے اعلان کیا کہ کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ ایوان کا تقدس پامال کرے،اس پریس کانفرنس میںانہوں نے یہ انکشاف کر کے حیران کر دیا کہ قائد حزبِ اختلاف کے بقول یہ لوگ اپنے پارلیمانی لیڈر کی بات بھی نہیں مانتے، یہ بتا کر ملک احمد خان نے اعلان کیا کہ وہ ان 26افراد (اراکین) کے خلاف الیکشن کمیشن کو نااہلی کا ریفرنس بھیج رہے ہیں۔یوں پنجاب اسمبلی کے ایوان میں حالات سنجیدہ رخ اختیار نہیں کر پائے اور بات مزید محاذ آرائی کی طرف چلی گئی ہے۔
یہ تو اس صوبے کی صورتحال ہے یہی حال قومی اسمبلی کا ہے اور خیبرپختونخوا میں حکومت ہونے کے باوجود سنجیدگی سے کارروائی نہیں چلائی جاتی اور قومی اسمبلی کا حال تو ہر ایک کے علم میں ہے،اب جمعہ ہی کے روز تحریک انصاف کے بیرسٹر حضرات کی ایک اور ”کامیابی“ سامنے آئی ہے جس کے مطابق سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے6-7 کی اکثریت سے پشاور ہائیکورٹ کا وہ فیصلہ بحال کر دیا جس کے تحت پاکستان سنی اتحاد کو مخصوص نشستوں کیلئےنااہل قرار دیا تھا۔یہ فیصلہ بھی ان بیرسٹر حضرات کی ”حکمت عملی“ کا مظہر ہے جو انتخابی نتائج کے بعد اختیار کی گئی، خود تحریک انصاف کی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ آزاد اراکین پاکستان سنی اتحاد میںشامل ہوں گے اور ایسا کیا گیا۔ تحریک انصاف کے خلاف مخصوص نشستوں کے حوالے سے یہ فیصلہ بھی اسی بنیاد پر ہوا کہ سنی اتحاد کونسل ایوان میں پارلیمانی پارٹی کی حیثیت سے موجود ہی کے سربراہ نے بھی اپنی جماعت کے ٹکٹ پر الیکشن نہیں لڑا تو اسے مخصوص نشستوں کا اہل کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟ یہ صورتحال موجود تھی تو ایسا فیصلہ نہیں کرنا چاہئے تھا،حالانکہ اس وقت گو جماعتی انتخابات کے حوالے سے تحریک انصاف کو انتخابی نشان سے محروم کیا گیا،لیکن نہ صرف جماعت موجود تھی،بلکہ اس کی رجسٹریشن بھی منسوخ یا معطل نہیں تھی اس لئے آزاد اراکین سیدھے تحریک انصاف میں تشریف لاتے تو آج کیس کا فیصلہ ایسا نہ ہوتا اور اگر الیکشن کمیشن نہ مانتا تو عدالت سے ریلیف مل جاتی۔ اب فیصلہ خلاف آ گیا تو تحریک انصاف سپریم کورٹ پر حملہ آور ہو گئی ہے اور فیصلہ مسترد کرنے کا اعلان کیا جیسے فیصلہ نہ ہوا اسمبلی کی قرارداد ہو گئی، اب اس فیصلے پر تو عمل ہو گا آپ خواہ اسے مسترد کرتے ہیں اسلئے بہتر ہے کہ جب آپ موجودہ حالات میں مراعات لے کر اسمبلیوں میں جا کر حکومت کو مان چکے ہیں آئینی نہیں ”ڈی فیکٹو“ تو ہے اس لئے اپنے رویے آئینی اور جمہوری بنا لیں اور عوامی مسائل کی طرف توجہ دیں رہ گےا رہائی کا مسئلہ تو اس کیلئےعدالتوں سے لڑنے کی بجائے وقار سے کیس لڑیں رب بھلا کریگا۔

